نظم ” آدمی ” از سید ضمیر جعفری

سید ضمیر جعفری کا مختصر تعارف:
سید ضمیر جعفری کا تعارف
تخلص :’ضمیر’
اصلی نام :سید ضمیر حسسیں شاہ
پیدائش :01 Jan 1914 | جھیلم, پنجاب
وفات :12 May 1999 | نیو یارک, ریاستہائے متحدہ امریکہ
ہم نے کتنے دھوکے میں سب جیون کی بربادی کی
گال پہ اک تل دیکھ کے ان کے سارے جسم سے شادی کی
سید ضمیر حسین شاہ نام اور ضمیر تخلص تھا۔ یکم جنوری۱۹۱۴ء کو پیدا ہوئے۔ آبائی وطن چک عبدالخالق ، ضلع جہلم تھا۔ اسلامیہ کالج، لاہور سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔فوج میں ملازم رہے اور میجر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ راول پنڈی سے ایک اخبار’’بادشمال‘‘ کے نام سے نکالا۔ کچھ عرصہ اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سے منسلک رہے۔ پاکستان نیشنل سنٹرسے بھی وابستہ رہے۔ ضمیر جعفری دراصل طنزومزاح کے شاعرتھے۔کبھی کبھی منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے سنجیدہ اشعار بھی کہہ لیتے تھے۔ یہ نظم ونثر کی متعدد کتابوں کے مصنف تھے۔ ۱۲؍ مئی۱۹۹۹ء کو نیویارک میں انتقال کرگئے۔ تدفین ان کے آبائی گاؤں چک عبدالخالق میں ہوئی۔ ان کی مطبوعہ تصانیف کے نام یہ ہیں:’’کارزار‘‘، ’’لہو ترنگ‘‘، ’’جزیروں کے گیت‘‘، ’’من کے تار‘‘ ’’مافی الضمیر‘‘، ’’ولایتی زعفران‘‘، ’’قریۂ جاں‘‘، ’’آگ‘‘، ’’اکتارہ‘‘، ’’ضمیر یات‘‘۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:50
تھا کبھی علم آدمی دل آدمی پیار آدمی
آج کل زر آدمی قصر آدمی کار آدمی
کلبلاتی بستیاں مشکل سے دو چار آدمی
کتنا کم یاب آدمی ہے کتنا بسیار آدمی
پتلی گردن پتلے ابرو پتلے لب پتلی کمر
جتنا بیمار آدمی اتنا طرحدار آدمی
زندگی نیچے کہیں منہ دیکھتی ہی رہ گئی
کتنا اونچا لے گیا جینے کا معیار آدمی
عمر بھر صحرا نوردی کی مگر شادی نہ کی
قیس دیوانہ بھی تھا کتنا سمجھ دار آدمی
دانش و حکمت کی ساری روشنی کے باوجود
کم ہی ملتا ہے زمانے میں کم آزار آدمی
دل رہیں ہیں صومعۂ دستار رہن میکدہ
تھا ضمیر جعفریؔ بھی اک مزے دار آدمی
پہلے کشتی ڈوب جاتی تھی نظر کے سامنے
اب گرے گا بحر اوقیانوس کے پار آدمی