وغیرہ از انور مسعود
شعر نمبر 1:
ہے آپ کے ہونٹوں پہ جو مسکان وغیرہ
قربان گئے اس پہ دل و جان وغیرہ
مفہوم: محبوب کے ہونٹوں پر سجی مسکراہٹ اور اس کے دیگر ناز و انداز پر شاعر اپنی جان و دل نثار کرنے کا اظہار کر رہا ہے۔
تشریح: اس شعر میں انور مسعود نے روایتی غزل کے عاشقانہ مضامین کو طنز کا نشانہ بنایا ہے۔ کلاسیکی شاعری میں عاشق محبوب کی مسکراہٹ پر مر مٹتا ہے، لیکن یہاں شاعر نے “وغیرہ” کا لفظ لگا کر اس جذباتی کیفیت میں مزاح کا رنگ بھر دیا ہے۔ وغیرہ سے مراد وہ تمام بناوٹی ادائیں اور نخرے ہیں جو محبوب اپنی مسکراہٹ کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔ شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ آج کے دور کا عشق محض سچی جذباتی وابستگی نہیں رہا بلکہ یہ ایک رسمی عمل بن چکا ہے، جہاں “وغیرہ وغیرہ” جیسے الفاظ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اب جذبات میں وہ گہرائی نہیں رہی۔ یہ شعر دراصل ان کھوکھلے دعووں کی عکاسی کرتا ہے جو محبت کے نام پر کیے جاتے ہیں، اور “وغیرہ” کا لفظ اس پورے جذباتی عمل کو ایک مضحکہ خیز صورت عطا کر دیتا ہے۔
شعر نمبر 2:
بلی تو یونہی مفت میں بدنام ہوئی ہے
تھلے میں تو کچھ اور تھا سامان وغیرہ
مفہوم: محاورے کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ بدنامی بلی کے حصے میں آئی، جبکہ اصل میں تھیلے کے اندر کچھ اور ہی خفیہ حقائق یا مفادات چھپے ہوئے تھے۔
تشریح: انور مسعود نے اس شعر میں “بلی تھیلے سے باہر آنا” کے مشہور محاورے کو بنیاد بنا کر معاشرتی منافقت پر طنز کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں اکثر کسی ایک کمزور فرد یا واضح نظر آنے والی چیز کو خرابی کا ذمہ دار قرار دے کر بدنام کر دیا جاتا ہے، جبکہ پردے کے پیچھے اصل محرکات اور کرپشن کا “سامان” کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ وغیرہ کا استعمال یہاں ان پوشیدہ سازشوں، بدعنوانیوں اور خفیہ مفادات کی طرف اشارہ کرتا ہے جو طاقتور طبقات چھپائے رکھتے ہیں۔ شاعر یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ ہمیں ظاہری حقائق پر یقین کرنے کے بجائے معاملے کی تہہ تک جانا چاہیے، کیونکہ اکثر جسے مجرم بنا کر پیش کیا جاتا ہے، وہ محض ایک مہرہ ہوتا ہے اور اصل خرابی “وغیرہ” کے لبادے میں چھپی ہوتی ہے۔
شعر نمبر 3:
بے حرص و غرض قرض ادا کیجیے اپنا
جس طرح پولیس کرتی ہے چالان وغیرہ
مفہوم: انسان کو چاہیے کہ وہ بغیر کسی لالچ کے اپنا قرض وقت پر ادا کرے، بالکل اسی مستعدی کے ساتھ جس طرح پولیس اچانک اور تیزی سے چالان کر دیتی ہے۔
تشریح: اس شعر میں انور مسعود نے معاشرے کے دو اہم پہلوؤں کو یکجا کیا ہے۔ ایک طرف وہ قرض کی واپسی میں ٹال مٹول کرنے والوں کو نصیحت کر رہے ہیں کہ ادائیگی میں خلوصِ نیت ہونی چاہیے، اور دوسری طرف وہ پولیس کے نظام کی “تیزی” پر بھرپور طنز کر رہے ہیں۔ پولیس جب چالان کرنے پر آتی ہے تو وہ نہ مروت دیکھتی ہے اور نہ ہی عذر سنتی ہے، بلکہ نہایت “فرض شناسی” (جو کہ دراصل ہدف پورا کرنے کی کوشش ہوتی ہے) کا مظاہرہ کرتی ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ اگر عام شہری بھی اپنے مالی معاملات اور حقوق العباد کی ادائیگی میں اسی پولیس جیسی “پھرتی” کا مظاہرہ کریں تو معاشرہ سدھر سکتا ہے۔ یہاں “چالان وغیرہ” سے مراد پولیس کی وہ تمام تادیبی کارروائیاں ہیں جو وہ عوام پر رعب جھاڑنے کے لیے کرتی ہے۔
شعر نمبر 4:
اب ہوش نہیں کوئی کہ بادام کہاں ہیں
اب اپنی ہتھیلی پہ ہیں دندان وغیرہ
مفہوم: اب وہ وقت گزر گیا جب بادام ڈھونڈ کر کھائے جاتے تھے، اب تو بڑھاپے کے باعث خود اپنے دانت ہی ٹوٹ کر ہتھیلی پر آ گرے ہیں۔
تشریح: یہ شعر انسانی زندگی کی بے ثباتی اور بڑھاپے کی معذوری کا ایک المناک مگر مزاحیہ نوحہ ہے۔ جوانی میں انسان اپنی قوت پر ناز کرتا ہے اور سخت سے سخت چیز (جیسے بادام) چبانے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ جسمانی طاقت جواب دے جاتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اب یادداشت اتنی کمزور ہو گئی ہے کہ یہ بھی معلوم نہیں رہتا کہ بادام کہاں رکھے ہیں، اور اگر مل بھی جائیں تو کھانے کے لیے دانت موجود نہیں۔ ہتھیلی پر دانتوں کا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اب وہ عضو جو طاقت کا نشانہ تھے، جسم سے جدا ہو کر بے کار ہو چکے ہیں۔ “دندان وغیرہ” میں وہ تمام جسمانی اعضا شامل ہیں جو بڑھاپے میں انسان کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وقت کی قدر کرنی چاہیے اس سے پہلے کہ صلاحیتیں ختم ہو جائیں۔
شعر نمبر 5:
کس ناز سے وہ نظم کو کہہ دیتے ہیں نثری
جب اس کے خطا ہوتے ہیں اوزان وغیرہ
مفہوم: جب نام نہاد شعرا سے شاعری کے فنی تقاضے اور اوزان پورے نہیں ہوتے، تو وہ بڑی معصومیت سے اپنی اس نااہلی کو “نثری نظم” کا نام دے دیتے ہیں۔
تشریح: انور مسعود نے اس شعر میں اردو ادب میں داخل ہونے والے غیر سنجیدہ عناصر اور “جدیدیت” کے نام پر ہونے والی فنی بددیانتی کو نشانہ بنایا ہے۔ شاعری ایک باقاعدہ علم ہے جس کے لیے علمِ عروض، بحر اور اوزان کی واقفیت ضروری ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ آج کل کے بہت سے شعرا مطالعہ اور محنت سے جی چراتے ہیں، جب ان کا کلام وزن سے خارج ہو جاتا ہے اور بحر ٹوٹنے لگتی ہے تو وہ شرمندہ ہونے کے بجائے اسے “نثری نظم” کہہ کر ایک نئی صنف قرار دے دیتے ہیں۔ وغیرہ کا لفظ ان شعرا کی دیگر فنی خامیوں، جیسے قافیہ و ردیف کی غلطیوں کی طرف اشارہ ہے۔ یہ شعر دراصل کلاسیکی ادبی اقدار کے تحفظ کی ایک پکار ہے، جس میں شاعر نے جاہل شعرا کی خود اعتمادی پر طنز کیا ہے۔
شعر نمبر 6:
جمہوریت ایک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
گھوڑوں کی طرح بکتے ہیں انسان وغیرہ
مفہوم: جمہوریت ایک ایسا سیاسی نظام بن چکا ہے جہاں عوام کی رائے کی قدر کرنے کے بجائے انسانی ضمیروں اور وفاداریوں کی منڈی لگائی جاتی ہے اور انسانوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔
تشریح: یہ شعر علامہ اقبال کے جمہوریت سے متعلق نظریات کی ایک جدید اور تلخ پیروڈی ہے۔ اقبال نے کہا تھا کہ جمہوریت میں بندوں کو گنا جاتا ہے تولا نہیں جاتا، لیکن انور مسعود ایک قدم آگے بڑھ کر کہتے ہیں کہ اب تو گننے کی بھی ضرورت نہیں رہی کیونکہ اب انسانوں (ارکانِ اسمبلی یا ووٹرز) کی منڈی لگتی ہے جہاں وہ گھوڑوں کی طرح فروخت ہوتے ہیں۔ “گھوڑوں کی طرح بکنا” سیاسی اصطلاح “ہارس ٹریڈنگ” (Horse Trading) کی طرف واضح اشارہ ہے، جو جمہوری نظام کی سب سے بڑی برائی ہے۔ شاعر یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ جس نظام میں غریب کا ضمیر اور ووٹ خریدا جائے، وہاں جمہوریت محض ایک تماشہ بن کر رہ جاتی ہے۔ “انسان وغیرہ” سے مراد وہ تمام اخلاقی اقدار اور انسانی حقوق ہیں جو سیاست کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔
شعر نمبر 7:
ہر شرٹ کی بو شرٹ بنا ڈالی ہے انور
یوں چاک کیا ہم نے گریبان وغیرہ
مفہوم: شاعر کہتا ہے کہ ہم نے دیوانگی میں گریبان اس جدید انداز سے چاک کیا ہے کہ قمیض پھٹنے کے بجائے ایک فیشن ایبل بو شرٹ میں تبدیل ہو گئی ہے۔
تشریح: یہ نظم کا مقطع ہے جس میں انور مسعود نے روایت اور جدت کے امتزاج کو بڑے لطیف انداز میں پیش کیا ہے۔ اردو شاعری کی روایت میں عاشق اپنے غم اور جنون کی انتہا پر گریبان چاک کرتا ہے، جو کہ دیوانگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ لیکن شاعر کہتا ہے کہ ہم نے اپنی “دیوانگی” میں بھی سلیقہ مندی اور فائدے کا پہلو نکالا ہے۔ گریبان کو اس طرح سے چاک کیا گیا کہ پوری شرٹ سامنے سے کھل گئی اور وہ مغربی طرز کی “بوشرٹ” بن گئی۔ یہ دراصل ہماری معاشرتی روش پر طنز ہے جہاں ہم اپنی روایات کو چھوڑ کر مغربی فیشن کو اپنا رہے ہیں اور اسے ترقی کا نام دیتے ہیں۔ “گریبان وغیرہ” کا چاک ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اب جذبات میں بھی دکھاوا اور فیشن شامل ہو گیا ہے، اور جنونِ عشق بھی اب بناوٹی ہو چکا ہے۔