شکوہ بند نمبر 25

شکوہ بند نمبر 25

بادہ کش غیر ہیں گُلشن میں لبِ جُو بیٹھے

سُنتے ہیں جام بکف نغمہء کوکو بیٹھے

دور ہنگامہء گلزار سے یک سُو بیٹھے

تیرے دیوانے بھی ہیں مُنتظرِ ھُو بیٹھے

اپنے پروانوں کو پھر ذوقِ خُود افروزی دے

برقِ دیرینہ کو فرمانِ جگر سوزی دے

Leave a Reply