شکوہ بند نمبر 22

شکوہ بند نمبر 22

شق کی خیر ، وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہی

جادہء پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہی

مضطرب دل صفتِ قبلہ نما بھی نہ سہی

اور پابندئ آئینِ وفا بھی نہ سہی

کبھی ہم سے ، کبھی غیروں سے شناسائی ہے

بات کہنے کی نہیں تُو بھی تو ہرجائی ہے

Leave a Reply