کس کا نظام راہ نما ہے افق افق
حفیظ تائب کی اس خوبصورت حمدِ باری تعالیٰ کی تشریح، مفہوم اور الفاظ کے معانی درج ذیل ہیں:
شعر نمبر 1
کس کا نظام راہ نما ہے افق افق
جس کا دوام گونج رہا ہے افق افق
مشکل الفاظ کے معانی:
نظام: ترتیب، طریقہ کار، کائنات کا چلنا۔
راہ نما: راستہ دکھانے والا، گائیڈ۔
افق: جہاں زمین اور آسمان ملتے نظر آئیں، ہر سمت۔
دوام: ہمیشگی، بقا، کبھی ختم نہ ہونے والا۔
مفہوم:
کائنات کے ہر گوشے اور ہر سمت میں اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا بہترین نظامِ قدرت ہماری رہنمائی کر رہا ہے اور اس کی ذات کی ہمیشگی اور بقا کا غلغلہ ہر طرف سنائی دے رہا ہے۔
تشریح:
اس شعر میں حفیظ تائب اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور کائنات پر اس کی مکمل گرفت کا ذکر کر رہے ہیں۔ وہ ایک سوالیہ انداز اختیار کرتے ہیں جو دراصل اقرارِ حقیقت ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ اس عظیم الشان کارخانے کو چلانے والی کوئی ایک ایسی ہستی موجود ہے جو علم اور حکمت میں کامل ہے۔ افق سے افق تک، یعنی کائنات کی ہر وسعت میں جو نظم و ضبط نظر آتا ہے، وہ کسی حادثے کا نتیجہ نہیں ہو سکتا۔ سورج کا وقت پر نکلنا، چاند کی منزلیں، ستاروں کی گردش اور موسموں کا بدلنا، یہ سب اس “نظام” کا حصہ ہیں جو انسان کی عقل کو حیران کر دیتے ہیں اور اسے سیدھا راستہ دکھاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ اللہ کی ہستی وہ ہے جس کا کوئی آغاز ہے نہ انجام۔ “دوام” صرف اسی کی ذات کو حاصل ہے۔ کائنات کے ہر گوشے میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ یہ گونج کسی آواز کی صورت میں نہیں بلکہ آثارِ قدرت کی صورت میں ہے جو پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ اللہ ہی باقی رہنے والا ہے۔ انسان جس طرف بھی نظر اٹھائے، اسے قدرت کے ایسے شاہکار نظر آتے ہیں جو اسے خالقِ حقیقی کی پہچان کرواتے ہیں۔ یہ کائنات اپنے اندر خالق کے ایسے گہرے نقوش رکھتی ہے جنہیں دیکھ کر ایک صاحبِ بصیرت انسان پکار اٹھتا ہے کہ اس نظام کا کوئی نہ کوئی بڑا منتظم ضرور ہے جو دائمی ہے اور لافانی ہے۔
شعر نمبر 2
شانِ جلال کس کی عیاں ہے جبل جبل
رنگِ جمال کس کا جما ہے افق افق
مشکل الفاظ کے معانی:
شانِ جلال: رعب و دبدبہ، عظمت، بڑائی۔
عیاں: ظاہر، صاف نظر آنے والا۔
جبل: پہاڑ۔
رنگِ جمال: خوبصورتی کے رنگ، حسن۔
مفہوم:
پہاڑوں کی بلند و بالا چوٹیوں اور ان کی ہیبت میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال نظر آتا ہے، جبکہ کائنات کے رنگوں اور مناظر میں اسی کے حسن و جمال کا جلوہ دکھائی دیتا ہے۔
تشریح:
اس شعر میں شاعر نے اللہ تعالیٰ کی دو اہم صفات یعنی “جلال” اور “جمال” کو فطرت کے مظاہر کے ذریعے بیان کیا ہے۔ “شانِ جلال” سے مراد اللہ کی وہ عظمت اور رعب ہے جس کے سامنے کائنات کی ہر شے ہیچ ہے۔ پہاڑ اپنی بلندی، مضبوطی اور ہیبت کی وجہ سے اللہ کے جلال کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جب ہم بلند و بالا پہاڑوں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اپنی بے وقعتی اور خالق کی عظمت کا احساس ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہر پہاڑ اللہ کی بڑائی کا گواہ بن کر کھڑا ہے۔ دوسری طرف، حفیظ تائب اللہ کے “جمال” کا ذکر کرتے ہیں۔ کائنات صرف ہیبت ناک نہیں ہے بلکہ یہ بے حد حسین بھی ہے۔ صبح کی سرخی، شام کی شفق، پھولوں کے رنگ اور آسمان کی وسعتیں اللہ کے حسن و جمال کی عکاس ہیں۔ “افق افق” پر جو رنگ بکھرے ہوئے ہیں، وہ دراصل اسی مصورِ حقیقی کے برش کا کمال ہیں۔ ایک طرف پہاڑوں کی سختی میں اس کا جلال ہے تو دوسری طرف افق کے رنگوں میں اس کی نرمی اور حسن ہے۔ یہ توازن اللہ کی خلاقی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کائنات کا کوئی بھی حصہ اللہ کے ان جلوؤں سے خالی نہیں ہے۔ انسان پہاڑوں کو دیکھے تو سجدہ ریز ہو جائے اور رنگین مناظر کو دیکھے تو اس کی محبت میں سرشار ہو جائے۔ یہ دونوں کیفیات انسان کو اپنے رب کے قریب لاتی ہیں اور اسے احساس دلاتی ہیں کہ وہ کتنا عظیم اور کتنا جمیل ہے۔
شعر نمبر 3
مکتوم کس کی موجِ کرم ہے صدف صدف
مرقوم کس کا حرفِ وفا ہے افق افق
مشکل الفاظ کے معانی:
مکتوم: چھپا ہوا، پوشیدہ۔
موجِ کرم: مہربانی کی لہر، بخشش کا دریا۔
صدف: سیپ (جس میں موتی ہوتا ہے)۔
مرقوم: لکھا ہوا، تحریر شدہ۔
حرفِ وفا: وفا کا لفظ، عہد و پیمان۔
مفہوم:
اللہ تعالیٰ کی رحمت اور کرم کے سمندر سیپوں کے اندر موتیوں کی صورت میں چھپے ہوئے ہیں اور کائنات کی ہر سمت میں اسی کی وفاداری اور سچائی کی تحریریں لکھی ہوئی ہیں۔
تشریح:
حفیظ تائب اس شعر میں اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحیمی اور اس کے بندوں کے ساتھ عہدِ وفا کا ذکر کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ کا کرم اتنا وسیع ہے کہ اس نے سمندر کی گہرائیوں میں موجود ایک چھوٹی سی سیپ (صدف) کے اندر بھی اپنا فیض “مکتوم” یعنی چھپا رکھا ہے۔ صدف میں موتی کا بننا اللہ کی قدرت اور اس کی مہربانی کا ایک ادنیٰ سا نمونہ ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اللہ کی رحمت صرف ظاہر تک محدود نہیں بلکہ وہ پوشیدہ چیزوں میں بھی اپنا کرم فرماتا ہے۔ وہ رزاق ہے اور اندھیروں میں بھی زندگی کی پرورش کرتا ہے۔ دوسرے مصرعے میں شاعر کہتے ہیں کہ “حرفِ وفا” یعنی اللہ کا اپنے بندوں سے کیا ہوا وعدہ کائنات کے ذرے ذرے پر “مرقوم” ہے یعنی لکھا ہوا ہے۔ اللہ نے انسان سے محبت اور حفاظت کا جو عہد کیا ہے، وہ کائنات کے ہر منظر میں سچا ثابت ہو رہا ہے۔ افق سے افق تک پھیلے ہوئے آثار یہ بتا رہے ہیں کہ اللہ اپنے کہے پر قائم ہے۔ وہ اپنے بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ کائنات کی بقا اس بات کی دلیل ہے کہ خالق اپنے مخلوق کے ساتھ مخلص ہے۔ یہ وفا فطرت کے قوانین کی صورت میں لکھی ہوئی ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتے۔ کائنات کی ہر شے اللہ کی رحمت اور اس کے سچے وعدوں کی گواہی دے رہی ہے، چاہے وہ سمندر کی تہہ میں چھپی سیپ ہو یا آسمان کی بلندیوں پر پھیلا ہوا افق۔
شعر نمبر 4
کس کی طلب میں اہل ِ محبت ہیں داغ داغ
کس کی ادا سے حشر بپا ہے افق افق
مشکل الفاظ کے معانی:
طلب: جستجو، پانے کی خواہش، تڑپ۔
اہلِ محبت: محبت کرنے والے، اللہ کے ولی۔
داغ داغ: زخمی، تڑپنے والے، عشق میں جلے ہوئے پاؤں یا دل۔
ادا: انداز، جلوہ، مرضی۔
حشر بپا ہونا: قیامت آنا، ہلچل مچنا، ہنگامہ ہونا۔
مفہوم:
وہ کون ہے جس کی پانے کی تڑپ میں محبت کرنے والوں کے دل اور روح زخمی ہیں، اور وہ کون ہے جس کے ایک اندازِ قدرت سے کائنات کے ہر کونے میں ایک ہلچل اور ہنگامہ برپا ہے؟
تشریح:
یہ شعر عشقِ الہیٰ اور اللہ کی قدرتِ کاملہ کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔ شاعر سوال کرتے ہیں کہ وہ کون سی ہستی ہے جس کی جستجو میں لوگ اپنی زندگی فنا کر دیتے ہیں؟ “اہلِ محبت” یعنی وہ لوگ جو اللہ سے سچی محبت کرتے ہیں، اس کی طلب میں “داغ داغ” ہیں یعنی ان کے دلوں میں عشقِ الہیٰ کی تڑپ نے نشانات چھوڑ دیے ہیں۔ وہ اس کے دیدار اور اس کی قربت کے لیے ہر دکھ جھیلنے کو تیار ہیں۔ یہ داغ دراصل ان کی سچی محبت کی علامتیں ہیں۔ دوسرے مصرعے میں اللہ کے جاہ و جلال اور اس کی قدرت کا ذکر ہے کہ اس کی ایک “ادا” یعنی اس کے ایک حکم یا جلوے سے پوری کائنات میں ایک ہلچل مچ جاتی ہے۔ اللہ جب چاہتا ہے، کائنات کا نقشہ بدل دیتا ہے۔ “حشر بپا ہونا” سے مراد یہاں صرف قیامت نہیں بلکہ کائنات میں ہونے والی بڑی تبدیلیاں اور انقلابات بھی ہیں۔ افق سے افق تک جو بھی تبدیلی یا رونق نظر آتی ہے، وہ اسی خالق کے ایک اشارے کی مرہونِ منت ہے۔ جس طرح ایک حسین کی ادا دلوں میں ہیجان پیدا کر دیتی ہے، اسی طرح کائنات کے خالق کا ایک جلوہ پوری کائنات میں ایک شورِ عشق اور ایک ہنگامہ پیدا کر دیتا ہے۔ یہ اس کی عظمت ہے کہ ایک طرف وہ دلوں میں تڑپ پیدا کرتا ہے اور دوسری طرف کائنات کے ہر گوشے میں اپنی قدرت کے کرشموں سے ایک حشر بپا رکھتا ہے، جس سے اس کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔
شعر نمبر 5
سوزاں ہے کس کی یاد میں تائب نفس نفس
فرقت میں کس کی شعلہ نوا ہے افق افق
مشکل الفاظ کے معانی:
سوزاں: جلتا ہوا، سلگتا ہوا۔
نفس نفس: ہر سانس، ہر لمحہ۔
فرقت: جدائی، دوری۔
شعلہ نوا: آگ جیسی آواز رکھنے والا، بہت دردناک اور پرتاثیر فریاد کرنے والا۔
مفہوم:
اے تائب! تمہارا ہر سانس کس کی یاد میں تڑپ رہا ہے اور کس کی جدائی کے غم میں تمہاری آواز میں آگ جیسی تاثیر پیدا ہو گئی ہے جو ہر طرف پھیل رہی ہے؟
تشریح:
یہ نظم کا مقطع ہے جس میں شاعر حفیظ تائب نے اپنے تخلص کا استعمال کرتے ہوئے اپنی قلبی کیفیت کا اظہار کیا ہے۔ وہ خود سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ میرا ہر سانس اللہ کی یاد میں “سوزاں” ہے یعنی جل رہا ہے۔ یہ جلنا دراصل عشق کی تپش ہے جو انسان کے باطن کو پاک کر دیتی ہے۔ شاعر کا ہر لمحہ ذکرِ الہیٰ اور اس کی یاد میں بسر ہو رہا ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ اللہ کی یاد ہی ان کی زندگی کا اصل اثاثہ ہے۔ “نفس نفس” میں اللہ کی یاد کا بسنا ایک مومن کی معراج ہے۔ دوسرے مصرعے میں وہ “فرقت” یعنی اللہ سے دوری کے احساس کا ذکر کرتے ہیں۔ اگرچہ اللہ انسان کی رگِ جاں سے بھی قریب ہے، لیکن دنیاوی پردوں کی وجہ سے جو دوری محسوس ہوتی ہے، اس نے شاعر کو “شعلہ نوا” بنا دیا ہے۔ ان کی شاعری، ان کی حمد اور ان کی فریاد میں ایک ایسی آگ اور تڑپ پیدا ہو گئی ہے جو سننے والوں کے دلوں کو بھی گرما دیتی ہے۔ ان کی یہ درد بھری پکار “افق افق” یعنی ہر طرف سنائی دے رہی ہے۔ یہ کلام کا وہ مرتبہ ہے جہاں شاعر کی انفرادی تڑپ کائناتی تڑپ بن جاتی ہے۔ حفیظ تائب نے اس حمد میں جس طرح اللہ کی کائناتی صفات کا تذکرہ کیا، آخر میں اسے اپنی ذاتی محبت اور بندگی کے جذبے پر ختم کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ ہو یا انسان کا ہر سانس، ہر چیز اسی ایک اللہ کی طرف لوٹتی ہے ۔