مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں

مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں   مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار، میں روزے سے ہوں ہر اک شے سے کرب کا اظہار، میں روزے سے ہوں دو کسی اخبار کو یہ تار، میں روزے سے ہوں

پیام لطیف از شاہ عبدالطیف بھٹائی

پیام لطیف از شاہ عبدالطیف بھٹائی شعر نمبر 1 : بے اعتدالیوں سے نحیف و نزار ہیں خود سر ہیں اور چارہ گری کے شکار ہیں تشریح : نظم پیام لطیف کے اس شعر میں شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کہتا ہے کہ انسان بے اعتدالیوں کی وجہ سے کمزور اور ناتواں ہو گیا ہے۔ بے