مطلع ، حسن مطلع ، مطلع ثانی اور مطلع ثالث کا فرق
مطلع : مطلع اردو شاعری میں غزل یا نظم کے پہلے شعر کو کہتے ہیں، جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوتے ہیں ۔ مطلع نظم کا ابتدائی شعر ہوتا ہے جو نظم کی فضا کو متعین کرتا ہے اور قاری یا سامع پر پہلا اثر ڈالتا ہے.
مطلع کی تعریف:
لغوی معنی: ‘مطلع’ کے لغوی معنی ‘طلوع ہونے کی جگہ’ کے ہیں.
اصطلاحی معنی: نظم یا غزل کا پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوتے ہیں، اسے مطلع کہا جاتا ہے ۔
ہم قافیہ اور ہم ردیف: قافیہ وہ الفاظ ہوتے ہیں جو ایک جیسے ہوں اور ردیف وہ الفاظ ہوتے ہیں جو دہرائے جاتے ہیں ۔
مطلع کی مثالیں:
پہلی مثال:
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار، کوئی ہمیں ستائے کیوں
اس شعر میں ‘آئے کیوں’ اور ‘ستائے کیوں’ ہم ردیف و ہم قافیہ ہیں.
دوسری مثال:
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
اس شعر میں ‘شناسائی کی’ اور ‘پذیرائی کی’ ہم قافیہ و ہم ردیف ہیں.
حسنِ مطلع : وہ دوسرا شعر ہوتا ہے جو مطلع کے بعد آتا ہے اور جس میں مطلع جیسی ہی صورت حال ہو (یعنی دونوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوں) جبکہ مطلعِ ثانی دراصل حسنِ مطلع ہی کو کہتے ہیں جب کسی غزل میں دو مطلعے ہوں یعنی دو اشعار جو مطلع کی طرح ہوں.
مطلع:
کسی غزل یا نظم کا پہلا شعر ہوتا ہے.
اس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوتے ہیں.
حسنِ مطلع:
وہ شعر جو مطلع (پہلے شعر) کے بعد آتا ہے اور مطلع کی طرح ہی ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوتا ہے ۔
اگر غزل میں دو مطلعے ہوں، یعنی دو شعر مطلع کے قواعد پر پورے اترتے ہوں، تو دوسرے مطلعے کو حسنِ مطلع کہا جاتا ہے.
مثال:
اگر غزل میں دو اشعار ایسے ہوں جن میں دونوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوں تو پہلا مطلع کہلائے گا اور دوسرا حسنِ مطلع.
مطلع ثانی:
یہ مطلع ثانی کا استعمال کم ہوتا ہے اور اکثر اسے حسنِ مطلع ہی سے تعبیر کیا جاتا ہے.
یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب ایک غزل میں ایک سے زیادہ مطلعے ہوں، یعنی دوسرے مطلعے کی بات ہو رہی ہو.
مطلع ثالث: اگر تیسرا شعر بھی پہلے دو شعروں کی طرح ہم قافیہ اور ہم ردیف ہو تو اسے مطلع ثالث کہتے ہیں اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے مطلع ربع اور خامس بھی اگر چوتھا اور پانچواں شعر بھی ہم قافیہ اور ہم ردیف ہو ۔ یہ سلسلہ تب ختم ہوتا ہے جب اگلا شعر ہم قافیہ اور ہم ردیف نہیں ہوتا ۔
1. کیا ہر غزل میں مطلعِ ثانی ہوتا ہے؟
نہیں، ہر غزل میں مطلعِ ثانی ہونا ضروری نہیں۔ یہ شاعر کی مرضی پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ غزل میں ایک سے زیادہ مطلع کہے یا نہیں۔
2. کیا حسنِ مطلع اور مطلعِ ثانی ایک ہی چیز ہیں؟
نہیں، ان میں فرق ہے۔ مطلعِ ثانی صرف ترتیب کے لحاظ سے دوسرا مطلع ہوتا ہے، جبکہ حسنِ مطلع اس دوسرے مطلع کی خوبی اور خوبصورتی کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر دوسرا مطلع خوبصورت ہو تو وہ حسنِ مطلع بھی کہلائے گا۔
3. کیا مطلع، مطلعِ ثانی اور مطلعِ ثالث ایک ہی شعر میں ہو سکتے ہیں؟
نہیں، یہ اصطلاحات غزل کے مختلف اشعار کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مطلع پہلا شعر، مطلعِ ثانی دوسرا، اور مطلعِ ثالث تیسرا ہوتا ہے، بشرطیکہ وہ ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوں۔
Quiz with Answers
1. غزل کا پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوں، اسے کیا کہتے ہیں؟
a) مطلعِ ثانی
b) مطلع
c) حسنِ مطلع
d) مقطع
2. اگر غزل کا دوسرا مطلع پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو تو اسے کیا کہا جائے گا؟
a) مطلعِ ثالث
b) مطلعِ ثانی
c) حسنِ مطلع
d) مقطع
3. مطلع کی کون سی خصوصیت سب سے اہم ہے؟
a) اس کا لمبا ہونا
b) اس کا غمگین ہونا
c) دونوں مصرعوں کا ہم قافیہ اور ہم ردیف ہونا
d) اس میں شاعر کا تخلص ہونا
Answers:
b) مطلع
c) حسنِ مطلع
c) دونوں مصرعوں کا ہم قافیہ اور ہم ردیف ہونا