خطاب بہ جوانان اسلام

خطاب بہ جوانان اسلام کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھي کيا تو نے علامہ اقبال کی یہ نظم ان کے مجموعہ کلام ’بانگِ درا‘ سے ماخوذ ہے، جس میں انہوں نے مسلمان نوجوانوں کو ان کے شاندار ماضی کی یاد دلا کر حال کی پستی سے نکلنے کا درس دیا ہے۔ شعر نمبر 1 کبھي

کبھي اے نوجواں مسلم! تدبر بھي کيا تو نے

کبھي اے نوجواں مسلم! تدبر بھي کيا تو نے کبھي اے نوجواں مسلم! تدبر بھي کيا تو نے وہ کيا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت ميں کچل ڈالا تھا جس نے پائوں ميں تاج سر دارا تمدن آفريں خلاق آئين جہاں داري

نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا

نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو تن داغ داغ لٹا دیا مرے چارہ گر کو نوید ہو صف دشمناں کو خبر کرو جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا کرو