جواب شکوہ از علامہ اقبال

جوابِ شکوہ علامہ محمد اقبال کی شہرہ آفاق نظم جواب شکوہ کے تمام بند  حاضر ہیں ۔۔۔۔۔۔ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے پر نہیں ، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے قدسی الاصل ہے، رفعت پہ نظر رکھتی ہے خاک سے اُٹھتی ہے ، گردُوں پہ گذر رکھتی ہے عشق تھا فتنہ

نظم جواب شکوہ کا مرکزی خیال

نظم جواب شکوہ کا مرکزی خیال مرکزی خیال کیا ہوتا : وہ خاص معنی جسے ادبی اظہار کا روپ دینا، فن کار کا مقصد ہوتا ہے، اس کے لئے ادب پارے کو ایک دائرہ فرض کیا جاتا ہے اور مقصد کو مرکز قرار دیا جاتا ہے ۔ مرکزی خیال کا مطلب کسی بھی نظم یا

نظم جواب شکوہ کا خلاصہ

نظم جواب شکوہ کا خلاصہ خلاصہ کیا ہوتا ؟  خلاصہ کا لغوی مطلب اختصار ، ، لُبِ لُباب ، ماحصل ، اصل مطلب وغیرہ ۔ اصطلاحی طور پر خلاصہ کسی تحقیقی مضمون، مقالہ ، جائزہ، کانفرنس کی کارروائی ، یا کسی خاص موضوع کا گہرائی سے تجزیہ کا ایک مختصر خلاصہ ہوتا ہے ۔ نظم