تجاہل تغافل تساہل کیا

تجاہل تغافل تساہل کیا تجاہل تغافل تساہل کیا ہوا کام مشکل توکل کیا نہیں تاب لاتا دل زار اب بہت ہم نے صبر و تحمل کیا زمین غزل ملک سی ہو گئی یہ قطعہ تصرف میں بالکل کیا جنوں تھا نہ مجھ کو نہ چپ رہ سکا کہ زنجیر ٹوٹی تو میں غل کیا نہ

اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا

اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا لوہو آتا ہے جب نہیں آتا ہوش جاتا نہیں رہا لیکن جب وہ آتا ہے تب نہیں آتا صبر تھا ایک مونس ہجراں سو وہ مدت سے اب نہیں آتا دل سے رخصت ہوئی کوئی خواہش گریہ کچھ بے سبب نہیں آتا عشق

تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا

تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا شعر نمبر 1 تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا برابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھا مشکل الفاظ کے معانی: یاں: یہاں (مراد دنیا) جلوہ فرما: ظاہر ہونا، نمودار ہونا، نظر آنا برابر: ایک جیسا، یکساں مفہوم: اگر اس دنیا میں آ کر انسان نے

تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا

تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا برابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھا مرا غنچۂ دل ہے وہ دل گرفتہ کہ جس کو کسو نے کبھو وا نہ دیکھا یگانہ ہے تو آہ بیگانگی میں کوئی دوسرا اور ایسا نہ دیکھا اذیت مصیبت ملامت بلائیں

سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا

سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا شعر نمبر 1 سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا بس ہجومِ یاس جی گھبرا گیا مشکل الفاظ کے معانی: حسرت: افسوس، محرومی، وہ خواہش جو پوری نہ ہوئی ہو۔ چھا گیا: غالب آگیا۔ ہجومِ یاس: ناامیدی اور مایوسی کی کثرت۔ جی گھبرا گیا: طبیعت کا پریشان ہونا۔

سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا

سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا بس ہجوم یاس جی گھبرا گیا تجھ سے کچھ دیکھا نہ ہم نے جز جفا پر وہ کیا کچھ ہے کہ جی کو بھا گیا کھل نہیں سکتی ہیں اب آنکھیں مری جی میں یہ کس کا تصور آ گیا میں

اب تو کچھ اور ہی اعجاز دکھایا جائے

اب تو کچھ اور ہی اعجاز دکھایا جائے شعر نمبر 1 اب تو کچھ اور ہی اعجاز دکھایا جائے شام کے بعد بھی سورج نہ بجھایا جائے مشکل الفاظ کے معانی: اعجاز: معجزہ، کوئی انوکھا یا غیر معمولی کام۔ بجھایا جائے: ختم کیا جائے، گل کیا جائے۔ مفہوم: موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق ہمیں

اب تو کچھ اور ہی اعجاز دکھایا جائے

اب تو کچھ اور ہی اعجاز دکھایا جائے اب تو کچھ اور ہی اعجاز، دکھایا جائے شام کے بعد بھی سورج نہ بجھایا جائے نئے انسان سے تعارف جو ہوا تو بولا میں ہوں سقراط، مجھے زہر پلایا جائے موت سے کس کو مفر ہے مگر ،انسانوں کو پہلے جینے کا ،سلیقہ تو سکھایا جائے

کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا

کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا شعر نمبر 1 شعر: کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا آتش و آب کا ممکن نہیں یکجا ہونا مشکل الفاظ کے معانی: تنہا ہونا: اکیلا رہ جانا ملن: ملاپ، یکجا ہونا صورت: طریقہ، رستہ ممکن: جو ہو سکے مفہوم: شاعر کہتا ہے کہ

کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا

کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا آتش و آب کا ممکن نہیں یک جا ہونا سرِ صحرا تو عناصر بھی بھٹک جاتے ہیں اس سفر میں کسے راس آئے گا دریا ہونا کیسے بھوُلوں، وہ شبِ ہجر کے سنّاٹے میں خشک پتّے کا