نظم
آج کی اس پوسٹ میں ہم نظم کیا ہوتی اس کی تعریف اور مثالیں پڑھیں گے ۔ نظم کی تعریف ، مثالیں اور مشہور نظم گو شعراء : نظم: نظم کے لغوی معنی ہیں “پرونا ” جیسے موتی لڑی میں پروئے جاتے ہیں جبکہ ادبی اصطلاح میں نظم ایسی تسلسل اور مربوط صنف ہے جس
آج کی اس پوسٹ میں ہم نظم کیا ہوتی اس کی تعریف اور مثالیں پڑھیں گے ۔ نظم کی تعریف ، مثالیں اور مشہور نظم گو شعراء : نظم: نظم کے لغوی معنی ہیں “پرونا ” جیسے موتی لڑی میں پروئے جاتے ہیں جبکہ ادبی اصطلاح میں نظم ایسی تسلسل اور مربوط صنف ہے جس
آج کی اس پوسٹ میں ہم ” اصنافِ سخن” کی تعریف اور اس کی اقسام کے بارے میں پڑھیں گے ۔ اصنافِ سخن کی تعریف ، اقسام : اصنافِ صنف کی جمع ہے جس کے معنی ہیں قسم , جبکہ اصناف سخن سے مراد شاعری کی اقسام۔ شاعری کی کئی اقسام ہیں۔ جیسا کہ :
آج کی اس پوسٹ میں ہم ھ اور ہ کے استعمال کے بارے میں پڑھیں گے ۔ ان کا استعمال اور قواعد و ضوابط پر روشنی ڈالی جائے گی ۔ ھاں” اور “ہاں” کیا دونوں ٹھیک ہیں؟ اسی طرح “ہم” اور “ھم” اگر فرق ہے تو کیا ہے؟ اردو میں دو چشمی ھ کا استعمال
صنعت تلمیح: کسی مشہور واقعہ ، قصہ ، کہانی ، مشہور سیاسی و مذہبی واقعہ یا قرآن کی آیت یا حدیث کی طرف اشارہ کرنا تلمیح کہلاتا ہے ۔ مندرجہ ذیل اشعار میں تلمیحات موجود ہیں: 1۔ بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی ( آتش نمرود)
تلمیح کا لغوی مطلب: تلمیح عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ۔ اشارہ کرنا یا اچٹتی سی نگاہ ڈالنا۔ تعریف : نظم یا نثر میں کسی آیت ،حدیث یا کسی مشہور تاریخی واقعے یا قصے کی طرف ایک یا دو لفظوں میں اشارہ کرنا صنعت تلمیح کہلاتا ہے یا کسی مذہبی ،
آج کی اس پوسٹ میں ہم صنعت تکرار اور اس کی مثالیں پڑھیں گے ۔ صنعت تکرار : کلام میں الفاظ کے تکرار سے حسن اور تاثیر پیدا کرنے کے عمل کو صنعت تکرار کا نام دیا جاتا ہے ۔ مثلآ پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے
آج کی اس پوسٹ میں ہم ” صنعت تضمین” کی تعریف و توضیح اور مثالوں کے بارے میں پڑھیں گے ۔ صنعت تضمین : تضمین کے لغوی معنی جگہ دینے یا شامل کرنے کے ہیں جبکہ اصطلاح میں اگر کوئی شاعر کسی دوسرے شاعر کا مصرع یا شعر اپنے کلام میں شامل کر لے تو
صنعت تجنیس سے کیا مراد ہے ؟ صنعت تجنیس کی تعریف کریں ۔ اس کی اقسام بیان کریں اور مثالیں دیں ۔ صنعت تجنیس : تجنیس کے لغوی معنی ایک ہی جنس یا نوع کے ہیں۔ اس سے مراد کلام میں دو ایسے الفاظ استعمال کرنا جو تلفظ یا املا دونوں میں مشابہت رکھتے ہیں
حسن تعلیل : حسن تعلیل کے لغوی معنی علت یا توجہی پیش کرنے کے ہیں ۔ کسی واقعہ کی ایسی علت یا وجہ بیان کرنا جو حقیقت میں تو نہ ہو لیکن دل کو بھلی معلوم ہو حسن تعلیل کہلاتا ہے۔ شاعر محض شاعرانہ تخیل کی بنا پر اس خوبصورتی سے اسے بیان کرتا ہے
تضاد کے لفظی معنی ” ضد یا الٹ ” کے ہیں علم بدیع کی اصطلاح میں کلام میں ایسے الفاظ لانا جو ایک دوسرے کے متضاد ہوں صنعت تضاد کہلاتا ہے۔ نوٹ: صنعت تضاد کے دیگر نام تطبیق طباق اور تکاخو بھی ہیں ۔ مثلآ ہے کام کے وقت کام اچھا اور کھیل کے وقت