بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں

بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں شعر نمبر 1 بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں الٰہی ترکِ الفت پر وہ کیوں کر یاد آتے ہیں مشکل الفاظ کے معانی: ترکِ الفت: محبت چھوڑ دینا، تعلق ختم کرنا۔ برابر: مسلسل، لگاتار۔ الٰہی: اے میرے اللہ، اے میرے رب۔ کیوں کر: کس طرح،

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم شعر نمبر 1 ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم پر کیا کریں کہ ہو گئے ناچار جی سے ہم مشکل الفاظ کے معانی: ٹھانی تھی: پختہ ارادہ کیا تھا۔ ناچار: مجبور۔ جی: دل/جان۔ مفہوم: میں نے دل میں یہ

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا شعر نمبر 1: اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا رنج راحت فزا نہیں ہوتا مشکل الفاظ کے معانی: اثر: تاثر، نتیجہ۔ رنج: دکھ، غم، مصیبت۔ راحت فزا: خوشی یا سکون میں اضافہ کرنے والا۔ مفہوم: میرے دکھوں اور آہوں کا محبوب پر کوئی اثر نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا شعر نمبر 1 خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا مشکل الفاظ کے معانی: خاطر: مراد احترام، پاس یا لحاظ۔ لحاظ: شرم و حیا، مروت۔ ایمان جانا: اعتبار ختم ہونا، سچائی کا دامن ہاتھ سے چھوٹ

پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے

پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے شعر نمبر 1 پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے اجل مر رہی تو کہاں آتے آتے مشکل الفاظ کے معانی پھرے راہ سے: راستے سے واپس لوٹ جانا۔ اجل: موت۔ مر رہی: تڑپ رہی تھی یا بہت دیر کر دی۔ مفہوم محبوب میری طرف آ رہا تھا

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے شعر نمبر 1 : یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے ہم اور بلبلِ بے تاب گفتگو کرتے مشکل الفاظ کے معانی: آرزو: خواہش، تمنا گل: پھول روبرو: آمنے سامنے بلبلِ بے تاب: بے چین بلبل (جو پھول کا عاشق ہے) گفتگو: بات چیت

ہوائے دور مے خوش گوار راہ میں ہے

ہوائے دور مے خوش گوار راہ میں ہے شعر نمبر 1 :  ہوائے دورِ مے خوشگوار راہ میں ہے خزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہے مشکل الفاظ کے معانی: دورِ مے: شراب کا دور (مراد خوشی اور مسرت کا وقت)۔ خوشگوار: دلپسند، اچھی لگنے والی۔ خزاں: پجھڑ کا موسم (مراد دکھ اور

گل کو ہوتا صبا قرار اے کاش

گل کو ہوتا صبا قرار اے کاش شاعر کا تعارف: میر تقی میر میر تقی میر کو “خدائے سخن” اور “شہنشاہِ غزل” کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری غم، سوز و گداز اور سادگی و پرکاری کا حسین مجموعہ ہے۔ شعر نمبر :1 گل کو ہوتا صبا قرار کاش رہتی اک آدھ دن بہار کاش مشکل

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا شعر نمبر 1: جس سر کو غرور آج ہے یہاں تاجوری کا کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا مشکل الفاظ کے معانی: تاجوری: بادشاہت، سر پر تاج ہونا۔ نوحہ گری: ماتم کرنا، رونا دھونا۔ غرور: تکبر، گھمنڈ۔ مفہوم: آج جس شخص کو اپنی

سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا

سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا شعر نمبر 1 سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا ذرا جو دل کو ٹھہرا دے وہ دردِ دل نہیں ہوتا مشکل الفاظ کے معانی: سکوں: آرام، اطمینانِ قلب درکار: ضرورت، حاجت ٹھہرا دے: سکون بخشے، مطمئن کر دے دردِ دل: عشق کی تڑپ، دلی اضطراب