مصیبت بھی راحت فزا ہو گئی ہے
آج کی اس پوسٹ میں ہم مصیبت بھی راحت فزا ہو گئی غزل کی تشریح و توضیح کریں گے ۔ یہ رئیس المتغزلین حسرت موہانی کی مشہور غزل ہے ۔
شعر نمبر 1 :
مصیبت بھی راحت فزا ہو گئی ہے
تیری آرزو رہنما ہو گئی ہے
حل لغت : راحت فزا ( سکون کی وجہ ) ، آرزو ( خواہش) ، رہنما ( راستہ دکھانے والا )
مفہوم : جب سے تیری آرزو اور تیری خواہش میری رہنما بنی ہے میری ہر مصیبت اور تکلیف خوشی میں بدل گئی ہے ۔
تشریح : حسرت موہانی تحریک ازادی کے اہم رہنما تھے اور برطانوی سامراج کی مخالفت کی وجہ سے انہیں طویل عرصہ تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑی ۔ اس زمانے میں قید با مشقت انتہائی سخت اور تکلیف دہ ہوتی تھی ۔ روزانہ ایک من گیہوں دستی چکی پر پیسنا پڑتا تھا ۔ حسرت موہانی کا یہ شعر اسی زمانے کی یادگار ہے:
ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی
اک طرف تماشہ ہے حسرت کی طبیعت بھی
حسرت موہانی بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں ۔ انھوں نے اپنی شاعری کو متعدد عنوانات کے تحت تقسیم کیا ہے مثلا عاشقانہ ،فاسقانہ اورصوفیانہ وغیرہ ۔ عشق و عاشقی کے جذبات ان کی غزل میں بہت نمایاں ہیں ۔ ان کی شاعری کا بنیادی عنصر تغزل ہے ۔ اسی لیے حسرت موہانی کو رئیس المتغزلین بھی کہا جاتا ہے ۔
نوٹ: مندرجہ بالا اقتباس کو اس غزل کے کسی بھی شعر کی تشریح کے شروع میں لکھا جا سکتا ہے ۔
یہ مطلع کا شعر ہے ۔ غزل کے اس پہلے شعر میں شاعر کہتا ہے کہ محبت میں مبتلا انسان محبوب کو دیکھنے کی تڑپ میں دن رات تڑپتا رہتا ہے ۔ خدا سے دعائیں کرتا رہتا ہے کہ کسی طرح اس کا محبوب اسے مل جائے ۔ یوں وہ اللہ کے قریب ہو جاتا ہے ۔ عشق حقیقی تک پہنچنے کے لیے عشق مجازی کی سیڑھی سے گزرنا پڑتا ہے یوں یہ محبت کی تکلیف اسے اللہ کے راستے پر گامزن کر دیتی ہے اور جسے خدا مل جائے اسے کیا کس چیز کی تمنا رہتی ہے ۔ سو عشق کی مصیبت شاعر کے لیے سکون قلب کا پیغام لے کر اتی ہے ۔ اسے دنیا کی بے ثباتی کا علم حاصل ہو گیا ہے ۔ اسے پتہ چل گیا ہے کہ زندگی کا مقصد کیا ہے ۔ شاعر کو محبوب کی یاد اللہ کے قریب لے گئی اور پھر اس کی تمام مشکلات دور ہو گئی ۔
شاعر کہتا ہے کہ میرے محبوب کی آرزو ، چاہت اور خواہش اگر میرا مقصد ہے تو اس کی خوشنودی کے لیے میں ہر مصیبت کو خندہ پیشانی سے برداشت کر لوں گا ۔ اپنے محبوب سے مخاطب ہو کر شاعر کہتا ہے کہ اگر تیری آرزو تیری خواہش مجھے حاصل ہو جائے تو ہر مصیبت میرے لیے سکون کا ذریعہ ہو گیا ۔
شعر نمبر 2 :
یہ وہ راستہ ہے دیار وفا کا
جہاں باد صر صر صبا ہو گئی ہے
حل لغت : راستا ( راہ ) ، دیار وفا ( نیکی کا گھر ) ، باد صر صر ( آندھی ، تیز ہوا ) ،صبا ( بہار کا موسم )
مفہوم: عشق کا سچا راستہ وہ راستہ ہے جس پر چلنے سے مشکل سے مشکل راستہ بھی آسان دکھائی دیتا ہے یعنی آندھی و طوفان بھی بہار کے موسم میں بدل جاتے ہیں ۔
تشریح : شاعر اس شعر میں ایک عاشق صادق کی کی بات کہ رہا ہے کہ جب کوئی عشق کے سچے راستے پر چل نکلتا ہے تو اس کے سامنے کوئی مشکل پھر مشکل نہیں رہتی ۔ شاعر کہتا ہے کہ رب العزت سے سچی محبت عقیدت کا راستہ وہ راستہ ہے جس پر چلنے والے کو آندھی و طوفان بھی باد صبا کی طرح سکون و قرار بخشتے ہیں یعنی عشق الٰہی کی راہ میں آنے والی دنیاوی مصائب و آلام میں بھی عاشق صادق کو روحانی سکون ملتا ہے ۔ شاعر مزید کہتا ہے کہ خدا کی محبت خدا کی راہ پر چلنے والے چلنے کا وہ راستہ ہے جس جگہ پر آندھی سہانی ہوا میں بدل جاتی ہے ۔ انسان کے دکھ تکالیف ختم ہو جاتے ہیں ۔ نفسانی خواہشات کا بازار بند ہو جاتا ہے ۔ انسان حقیقت تک رسائی حاصل کر لیتا ہے ۔ صرف راہ مستقیم ہی وہ واحد راستہ ہے جو خدا سے ملاتا ہے ۔ یہ نیکی کا مقام ہے اور جائے سکون قلب و جاں ہے ۔ جہاں بے قراری اور بے چینی راحت و سکون میں بدل جاتی ہے ۔
شاعر کہتا ہے کہ دیار وفا کا راستہ جہاں آندھی اور طوفان بھی باد صبا کی طرح سکون دیتے ہیں یعنی محبوب تک پہنچنے کی خواہش وہ جذبہ ہے جو عاشق کو مصیبت اور تکلیف کا احساس تک نہیں ہونے دیتا اور وہ خوشی سے مصائب و آلام کا مقابلہ کرتا ہوا آگے بڑھتا جاتا ہے ۔
شعر نمبر 3 :
میں درماندہ اس بارگاہ عطا کا
گنہگار ہوں ایک خطا ہو گئی ہے
حل لغت: درماندہ ( عاجز ) ، بارگاہِ عطا ( عطا کرنے والی ذات یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات ) ، گنہگار ( گناہ کرنے والا ) خطا ( غلطی)
مفہوم: میں ہر در سے ٹھکرایا ہوا گنہگار ہوں ۔ مجھ سے ایک غلطی ہو گئی ہے ۔
تشریح : اس شعر میں شاعر اپنی بے مایا حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے اظہار ندامت کرتا ہے کہ اے اللہ میں تیری بارگاہ عطا کا ادنیٰ گنہگار ہوں ۔ تو اس سے محبت کی خواہش اور عشق کا دعویٰ ایک گنہگار کے لیے تیری عطا سے کم نہیں ۔ شاعر اللہ تعالی کی بے پایاں عطا کے آگے اپنے نامہ اعمال سے شرمسار ہو کر کہتا ہے کہ اے میرے پاک پروردگار میرا احسن عمل میرا خلوص نیت اور میری نیکیاں تیرے لطف و عطا کے آگے کمتر اور حقیر ہیں ۔ تیرے حسن و کرم اور فیض میری خطاؤں کی پردہ پوشی کرتے ہیں ۔ اگرچہ میں گنہگار ہوں مگر تیری محبت کا دم بھرتا ہوں اور تیرے فضل و عنایت کا طلبگار رہتا ہوں ۔
شعر نمبر 4 :
تیرے رتبہ دان محبت کی حالت
تیرے شوق میں کیا سے کیا ہو گئی ہے
حل لغت: رتبہ دان محبت (محبت کا شرف حاصل کرنے والے ) ، شوق ( محبت )
مفہوم : تیری محبت نے میری حالت ہی بدل ڈالی ہے ۔ میں کیا تھا اور تیرے عشق نے مجھے کیا بنا دیا ہے ۔
تشریح : اس شعر میں شہر کہتا ہے کہ جب عاشق اللہ تعالی کی رضا کے لیے عشق و محبت کی منازل طے کرتا جاتا ہے تو وہ اپنی ظاہری حالت کیفیت سے بے پرواہ اور غافل ہو جاتا ہے نہ دولت کی آرزو رہتی ہے نہ وہ شہرت کی تمنا ۔ وہ تو بس عشق الٰہی میں ڈوبا رہتا ہے اسے اپنے کپڑوں اور ظاہری حالت کا ہوش تک نہیں رہتا ۔
اس شعر میں ہی شاعر اپنی ظاہری حالت کی تبدیلی کا ذکر کر رہا ہے کہ عشق کا جام پینے سے پہلے وہ ظاہری نمود و نمائش اور دنیا کو بہت اہمیت دیتا تھا لیکن خالق حقیقی سے عشق نے اسے اور اس کی دنیا کو بدل دیا ہے ۔ اب اسے معلوم ہوا ہے یہ دنیا جس کے لیے میں دن رات ایک کرتا ہوں فانی ہے ۔ ایک ہوا کا جھونکا ہے ۔ عشق نے اسے دنیا کی طرف سے بیگانہ کر دیا ہے ۔ اللہ جسے عشق کا شرف بخش دے سمجھو اس کی تو دنیا ہی بدل جاتی ہے ۔
شعر نمبر 5 :
پہنچ ہی جائیں گے انتہا کو بھی حسرت
جب اس راہ کی ابتدا ہو گئی ہے
حل لغت: انتہا ( انجام ) ، ابتدا ( شروع)
مفہوم : جب انسان کسی سفر کا آغاز کرتا ہے تو کسی نا کسی دن وہ منزل کو پا ہی لیتا ہے ۔
تشریح : مقطع کا شعر ہے ۔ غزل کے مقطع میں شاعر اپنا حاصل کلام پیش کرتا ہے ۔ جب انسان اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی کے لیے ہاتھ بڑھا لیتا ہے ۔ جب راہ خدا میں عشق حقیقی کی ابتدا ہو جاتی ہے تو معرفت حق کی منزل بھی اس کے قریب آ جاتی ہے ۔ جب انسان اللہ کی رضا کے لیے اپنی تمام خواہشات کو اس کے تابع کر دیتا ہے ۔ اللہ کی خوشنودی کے لیے اپنی ذات کا ایک عمل اور فکر رضا الٰہی کے تابع کر دیتا ہے ۔ یہاں تک کہ محبت الٰہی ، اطاعت الٰہی اور رضا الٰہی میں خود کو مٹا دیتا ہے ۔
شاعر کہتا ہے کہ جب میں نے محبوب کے راستے میں چلنے کی ابتدا کر لی ہے تو انتہا تک بھی پہنچ ہی جاؤں گا ۔ محبوب کی خواہش کا جذبہ دل میں پیدا کر لیا ہے تو ضرور اس کی محبت بھی حاصل ہو جائے گی ۔