ایک کوہستانی سفر کے دوران میں

ایک کوہستانی سفر کے دوران میں

مکمل نظم

تنگ پگڈنڈی ۔۔۔۔۔ سرِ کُہسار بل کھاتی ہوئی

نیچے، دونوں سمت، گہرے غار، منہ کھولے ہوئے

آگے، ڈھلوانوں کے پار اک موڑ اور اس جگہ

اِک فرشتے کی طرح نورانی پر تولے ہوئے

جھک پڑا ہے آ کے رستے پر کوئی نخلِ بُلند

تھام کر جس کو گزر جاتی ہے آسانی کے ساتھ،

موڑ پر سے ڈگمگاتے رہروؤں کے قافلے

ایک بوسیدہ خمیدہ پیڑ کا کمزور ہاتھ

سینکڑوں گرتے ہوؤں کی دستگیری کا امیں !

آہ ! اُن گردن فرازانِ جہاں کی زندگی

اِک جھکی ٹہنی کا منصب بھی جنہیں حاصل نہیں…….!!

نظم کی تشریح اور مشکل الفاظ کے معانی:

مجید امجد کی نظم “ایک کوہستانی سفر کے دوران میں” اردو ادب کی ان نظموں میں سے ہے جہاں فطرت کے ایک معمولی منظر کو آفاقی سچائی اور انسانی رویوں کے تقابل کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ ذیل میں آپ کی ہدایت کے مطابق اس کی تفصیلی تشریح پیش ہے:

پہلا بند

تنگ پگڈنڈی ۔۔۔۔۔ سرِ کُہسار بل کھاتی ہوئی

نیچے، دونوں سمت، گہرے غار، منہ کھولے ہوئے

آگے، ڈھلوانوں کے پار اک موڑ اور اس جگہ

اِک فرشتے کی طرح نورانی پر تولے ہوئے

مشکل الفاظ کے معانی:

پگڈنڈی: کچا راستہ، چھوٹا راستہ۔

سرِ کُہسار: پہاڑ کی چوٹی، پہاڑ کے اوپر۔

بل کھاتی: مڑتی ہوئی، ٹیڑھی میڑھی۔

سمت: طرف۔

ڈھلوان: نشیب کی طرف ڈھلتی ہوئی زمین۔

پر تولے ہوئے: اڑنے کے لیے پر پھیلائے ہوئے (تیار کھڑا ہونا)۔

مفہوم:

پہاڑ کی بلندی پر ایک تنگ اور بل کھاتا ہوا راستہ ہے جس کے دونوں طرف خوفناک گہری کھائیاں ہیں، لیکن آگے ڈھلوان کے پاس ایک ایسا منظر ہے جیسے کوئی فرشتہ مدد کے لیے پر پھیلائے کھڑا ہو۔

تشریح:

مجید امجد نے اس بند میں منظر کشی کا کمال دکھایا ہے۔ وہ ایک ایسے پہاڑی راستے کا نقشہ کھینچ رہے ہیں جو انتہائی خطرناک اور تنگ ہے۔ یہ پگڈنڈی پہاڑ کے سینے پر کسی ناگن کی طرح بل کھاتی ہوئی اوپر کی طرف جا رہی ہے۔ شاعر اس خطرناک صورتحال کو مزید واضح کرنے کے لیے بتاتا ہے کہ اس راستے کے دونوں جانب گہری کھائیاں اور غار موجود ہیں جو گویا اپنا منہ کھولے مسافر کو نگلنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ یہ منظر انسان کی زندگی کے کٹھن سفر کی علامت بھی ہو سکتا ہے جہاں قدم قدم پر آزمائشیں اور ہلاکت کے گڑھے موجود ہیں۔ راستے کی تنگی اور بلندی خوف پیدا کرتی ہے۔ لیکن اسی خوف کے عالم میں جب مسافر ڈھلوانوں کو پار کر کے ایک خاص موڑ پر پہنچتا ہے تو اسے وہاں ایک ایسی روشنی اور سکون کا احساس ہوتا ہے جسے شاعر نے “فرشتے” سے تشبیہ دی ہے۔ یہاں “نورانی پر تولے ہوئے” کا استعارہ اس پناہ گاہ یا امید کی کرن کے لیے ہے جو اس خطرناک موڑ پر مسافروں کی منتظر ہے۔ شاعر نے فطرت کے اس مہیب منظر میں ایک روحانی اور مابعد الطبیعاتی رنگ بھر دیا ہے، جس سے قاری کو یہ احساس ہوتا ہے کہ کٹھن راستوں کے اختتام پر کوئی نہ کوئی غیبی مددگار یا سہارا ضرور موجود ہوتا ہے۔ یہ منظر کشی اتنی جاندار ہے کہ قاری خود کو اس پہاڑی رستے پر چلتا ہوا محسوس کرتا ہے جہاں ایک طرف موت کا خوف ہے اور دوسری طرف فرشتے جیسی سلامتی کا احساس۔ مجید امجد نے یہاں الفاظ کے ذریعے ایک ایسی تصویر بنائی ہے جو بیک وقت ہیبت ناک بھی ہے اور امید افزا بھی، جو ان کے اسلوب کی خاص پہچان ہے۔

دوسرا بند

جھک پڑا ہے آ کے رستے پر کوئی نخلِ بُلند

تھام کر جس کو گزر جاتی ہے آسانی کے ساتھ،

موڑ پر سے ڈگمگاتے رہروؤں کے قافلے

مشکل الفاظ کے معانی:

نخلِ بلند: اونچا درخت۔

تھام کر: پکڑ کر، سہارا لے کر۔

ڈگمگاتے: لڑکھڑاتے، لرزتے ہوئے۔

رہروؤں: راستہ چلنے والے، مسافر۔

قافلے: مسافروں کی جماعت۔

مفہوم:

اس خطرناک موڑ پر ایک بلند قامت درخت راستے کی طرف جھکا ہوا ہے، جس کا سہارا لے کر لڑکھڑاتے ہوئے مسافروں کے قافلے باآسانی اس دشوار گزار موڑ کو عبور کر لیتے ہیں۔

تشریح:

اس بند میں شاعر اس “فرشتے” کی حقیقت بیان کرتا ہے جس کا ذکر پہلے بند میں ہوا تھا۔ وہ فرشتہ دراصل ایک “نخلِ بلند” یعنی ایک اونچا اور پرانا درخت ہے۔ یہ درخت اپنی فطری قامت کے باوجود متکبر نہیں ہے بلکہ وہ عاجزی کے ساتھ راستے کی طرف جھکا ہوا ہے۔ پہاڑی راستوں پر جہاں پاؤں ٹکانا مشکل ہوتا ہے اور انسان توازن کھو بیٹھتا ہے، وہاں یہ درخت ایک مضبوط سہارے کا کام دے رہا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب مسافروں کے قافلے اس خطرناک موڑ پر پہنچتے ہیں جہاں ایک طرف گہری کھائی ہے اور دوسری طرف لڑکھڑاتے قدم، تو وہ اس بلند درخت کی شاخوں یا تنے کو پکڑ لیتے ہیں۔ یہ درخت ان کے لیے ایک نجات دہندہ بن جاتا ہے۔ “ڈگمگاتے رہرو” سے مراد وہ لوگ ہیں جو زندگی کی مشکلات سے تھک چکے ہیں یا جن کے پاس وسائل کی کمی ہے اور وہ کسی سہارے کے متلاشی ہیں۔ درخت کا “جھک پڑنا” اس کی قربانی اور خدمتِ خلق کی علامت ہے۔ وہ خود تکلیف سہہ کر اور جھک کر دوسروں کو گرنے سے بچا رہا ہے۔ مجید امجد یہاں یہ نکتہ واضح کر رہے ہیں کہ بلندی کا اصل منصب دوسروں کے کام آنا ہے۔ اگر وہ درخت سیدھا کھڑا رہتا تو شاید مسافر اسے پکڑ نہ پاتے، لیکن اس کا جھکنا ہی مسافروں کے لیے آسانی کا باعث بن گیا۔ یہ منظر انسانیت کے اس اعلیٰ درجے کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں طاقتور اپنی طاقت کو کمزوروں کی دستگیری کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہ درخت ایک بے جان مخلوق ہونے کے باوجود انسانی قافلوں کی بقا کا ضامن بن گیا ہے، جو فطرت کی مہربانی اور فیض رسانی کا کھلا ثبوت ہے۔

تیسرا بند

ایک بوسیدہ خمیدہ پیڑ کا کمزور ہاتھ

سینکڑوں گرتے ہوؤں کی دستگیری کا امیں !

آہ ! اُن گردن فرازانِ جہاں کی زندگی

اِک جھکی ٹہنی کا منصب بھی جنہیں حاصل نہیں…….!!

مشکل الفاظ کے معانی:

بوسیدہ: پرانا، گلا سڑا، کمزور۔

خمیدہ: جھکا ہوا، ٹیڑھا۔

دستگیری: مدد کرنا، ہاتھ پکڑنا۔

امیں: امانت دار، محافظ۔

گردن فرازانِ جہاں: دنیا کے مغرور اور تکبر کرنے والے لوگ۔

منصب: عہدہ، رتبہ، مقام۔

مفہوم:

ایک پرانا اور جھکا ہوا کمزور درخت سینکڑوں لوگوں کو گرنے سے بچانے کا ضامن بنا ہوا ہے، جبکہ دنیا کے وہ مغرور لوگ جو خود کو بہت بڑا سمجھتے ہیں، ان کی زندگی ایک جھکی ہوئی ٹہنی کے برابر بھی نہیں جو کسی کی مدد کر سکے۔

تشریح:

یہ بند اس نظم کا حاصل اور شاعرانہ بصیرت کا عروج ہے۔ مجید امجد نے ایک موازنہ پیش کیا ہے جو انتہائی فکر انگیز ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بظاہر یہ پیڑ “بوسیدہ” اور “خمیدہ” ہے یعنی یہ بوڑھا، کمزور اور جھکا ہوا ہے، لیکن اس کی ایک شاخ جو کسی کمزور ہاتھ کی طرح باہر نکلی ہوئی ہے، وہ درحقیقت سینکڑوں گرتے ہوئے مسافروں کی محافظ ہے۔ یہ کمزور ہاتھ ان لوگوں کو سہارا دیتا ہے جو موت کے منہ میں جانے والے ہوتے ہیں۔ یہاں شاعر نے “دستگیری کا امیں” کہہ کر درخت کو ایک مقدس فریضہ ادا کرتے ہوئے دکھایا ہے۔ اس کے برعکس، شاعر معاشرے کے ان طاقتور، مالدار اور مغرور لوگوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جنہیں وہ “گردن فرازانِ جہاں” (دنیا کے وہ لوگ جو اپنی گردنیں اکڑا کر چلتے ہیں) کہتا ہے۔ یہ لوگ خود کو بہت بلند مرتبے والا سمجھتے ہیں، لیکن انسانیت کے ترازو میں ان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ شاعر حسرت کے ساتھ کہتا ہے کہ ان بڑے لوگوں کی زندگی پر افسوس ہے جو اپنی تمام تر طاقت اور دولت کے باوجود کسی کے کام نہیں آتے۔ انہیں تو اس جھکی ہوئی ٹہنی کا مقام بھی حاصل نہیں جو ایک ٹوٹے ہوئے انسان کو سنبھالا دے سکے۔ یہ لوگ بلند تو ہیں لیکن ان میں وہ عاجزی نہیں جو دوسروں کا بوجھ بانٹ سکے۔ مجید امجد کا پیغام واضح ہے کہ عظمت قد و قامت یا اکڑ میں نہیں بلکہ دوسروں کی خدمت میں ہے۔ وہ “بوسیدہ پیڑ” ان “گردن فرازوں” سے کہیں بہتر ہے کیونکہ وہ مٹتے مٹتے بھی کسی کی زندگی بچا رہا ہے، جبکہ مغرور انسان صرف اپنے وجود کے خول میں قید رہتا ہے۔ 

Leave a Reply