ایک کوہستانی سفر کے دوران میں
ایک کوہستانی سفر کے دوران میں مکمل نظم تنگ پگڈنڈی ۔۔۔۔۔ سرِ کُہسار بل کھاتی ہوئی نیچے، دونوں سمت، گہرے غار، منہ کھولے ہوئے آگے، ڈھلوانوں کے پار اک موڑ اور اس جگہ اِک فرشتے کی طرح نورانی پر تولے ہوئے جھک پڑا ہے آ کے رستے پر کوئی نخلِ بُلند تھام کر جس کو