نظم ” آدمی ” از سید ضمیر جعفری مکمل تشریح

سید ضمیر جعفری کا تعارف :
تخلص :’ضمیر’
اصلی نام :سید ضمیر حسسیں شاہ
پیدائش :01 Jan 1914 | جھیلم, پنجاب
وفات :12 May 1999 | نیو یارک, ریاستہائے متحدہ امریکہ
ہم نے کتنے دھوکے میں سب جیون کی بربادی کی
گال پہ اک تل دیکھ کے ان کے سارے جسم سے شادی کی
سید ضمیر حسین شاہ نام اور ضمیر تخلص تھا۔ یکم جنوری۱۹۱۴ء کو پیدا ہوئے۔ آبائی وطن چک عبدالخالق ، ضلع جہلم تھا۔ اسلامیہ کالج، لاہور سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔فوج میں ملازم رہے اور میجر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ راول پنڈی سے ایک اخبار’’بادشمال‘‘ کے نام سے نکالا۔ کچھ عرصہ اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سے منسلک رہے۔ پاکستان نیشنل سنٹرسے بھی وابستہ رہے۔ ضمیر جعفری دراصل طنزومزاح کے شاعرتھے۔کبھی کبھی منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے سنجیدہ اشعار بھی کہہ لیتے تھے۔ یہ نظم ونثر کی متعدد کتابوں کے مصنف تھے۔ ۱۲؍ مئی۱۹۹۹ء کو نیویارک میں انتقال کرگئے۔ تدفین ان کے آبائی گاؤں چک عبدالخالق میں ہوئی۔ ان کی مطبوعہ تصانیف کے نام یہ ہیں:’’کارزار‘‘، ’’لہو ترنگ‘‘، ’’جزیروں کے گیت‘‘، ’’من کے تار‘‘ ’’مافی الضمیر‘‘، ’’ولایتی زعفران‘‘، ’’قریۂ جاں‘‘، ’’آگ‘‘، ’’اکتارہ‘‘، ’’ضمیر یات‘‘۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:50
سید ضمیر جعفری اردو ادب کے وہ نامور شاعر ہیں جنہوں نے طنز و مزاح کے پیرائے میں معاشرتی ناہمواریوں اور انسانی رویوں کی خوبصورت عکاسی کی ہے۔ ان کی زیرِ نظر نظم “آدمی” دورِ حاضر کے انسان کی مادی ترقی اور اخلاقی تنزلی کا ایک جامع مرقع ہے۔
ذیل میں نظم کے اشعار کی تفصیلی تشریح درج ہے:
شعر نمبر 1:
تھا کبھی علم آدمی دل آدمی پیار آدمی
آج کل زر آدمی قصر آدمی کار آدمی
مشکل الفاظ کے معانی:
زر: سونا، دولت، روپیہ پیسہ۔
قصر: محل، شاندار بنگلہ۔
علم آدمی: وہ انسان جو اپنی پہچان علم و فضل سے کرائے۔
مفہوم:
پہلے زمانے میں انسان کی پہچان اس کے علم، جذبات اور محبت سے ہوتی تھی، لیکن اب انسان کی قدر و قیمت اس کی دولت، مکان اور گاڑی سے لگائی جاتی ہے۔
تشریح:
اس شعر میں سید ضمیر جعفری نے ماضی اور حال کے معاشرتی اقدار کا موازنہ بڑے ہی کاٹ دار انداز میں کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب معاشرے میں کسی شخص کی عزت اس کی علمی قابلیت، اس کے دل کی وسعت اور اس کے دوسروں کے لیے ایثار و محبت کی بنیاد پر کی جاتی تھی۔ انسانیت کا معیار مادی اشیاء نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاقی اوصاف ہوا کرتے تھے۔ لوگ ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرتے تھے اور انسانیت کا درجہ سب سے بلند تھا۔ لیکن افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی ترجیحات بدل گئی ہیں۔ اب انسان کی انسانیت کہیں پیچھے رہ گئی ہے اور اس کی جگہ مادی وسائل نے لے لی ہے۔ آج کے دور میں اگر کسی کی عزت کی جاتی ہے تو وہ اس کی شرافت یا علم کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے بینک بیلنس (زر)، اس کی رہائش گاہ (قصر) اور اس کی سواری (کار) کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ گویا اب انسان خود کچھ نہیں رہا بلکہ وہ ان چیزوں کا مجموعہ بن کر رہ گیا ہے جو اس کی ملکیت میں ہیں۔ شاعر نے بڑی خوبصورتی سے یہ نکتہ واضح کیا ہے کہ ہم نے مادہ پرستی کی دوڑ میں اپنی اصل پہچان کھو دی ہے۔ انسانی رشتوں کی جگہ ضرورتوں نے لے لی ہے اور خلوص کی جگہ نمائش نے۔ آج کا انسان اپنی روح کو سنوارنے کے بجائے اپنے طرزِ زندگی کو چمکانے میں مصروف ہے۔ معاشرے میں وہی شخص معتبر سمجھا جاتا ہے جس کے پاس دولت کی ریل پیل ہو، خواہ اس کا اخلاقی جنازہ نکل چکا ہو۔ یہ شعر عصرِ حاضر کی مادہ پرستی پر ایک گہری چوٹ ہے جو ہمیں اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کی دعوت دیتا ہے۔
شعر نمبر 2:
کلبلاتی بستیاں مشکل سے دو چار آدمی
کتنا کم یاب آدمی ہے کتنا بسیار آدمی
مشکل الفاظ کے معانی:
کلبلاتی: بہت زیادہ ہجوم، رینگتی ہوئی آبادی۔
دو چار: گنتی کے چند، بہت کم۔
کم یاب: نایاب، مشکل سے ملنے والا۔
بسیار: بہت زیادہ، کثیر تعداد میں۔
مفہوم:
شہروں کی آبادی تو بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اور ہر طرف انسان ہی انسان نظر آتے ہیں، لیکن صفاتِ انسانی سے متصف حقیقی انسان کہیں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔
تشریح:
اس شعر میں شاعر نے آبادی کے دھماکے اور انسانیت کے فقدان پر طنز کیا ہے۔ ضمیر جعفری کہتے ہیں کہ اگر ہم اپنی بستیوں اور شہروں کی طرف نظر دوڑائیں تو ہر طرف انسانوں کا ایک سمندر ٹھاٹھیں مارتا نظر آتا ہے۔ گلیاں، بازار اور مکانات لوگوں سے بھرے ہوئے ہیں، انسانی ہجوم اتنا ہے کہ تل دھرنے کی جگہ نہیں ملتی۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اس بے پناہ ہجوم میں “حقیقی انسان” غائب ہے۔ یعنی وہ شخص جس کے دل میں دوسروں کا درد ہو، جو سچا ہو اور جس میں انسانیت کی رمق باقی ہو، وہ بڑی مشکل سے گنتی کے چند ہی ملتے ہیں۔ شاعر نے یہاں “کم یاب” اور “بسیار” کے الفاظ استعمال کر کے ایک زبردست تضاد پیدا کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جسامت اور تعداد کے لحاظ سے تو انسان “بسیار” یعنی بہت زیادہ ہیں، ہر گلی کوچے میں ان کی بہتات ہے، لیکن اوصاف کے لحاظ سے وہی انسان “کم یاب” یعنی نایاب ہو گئے ہیں۔ آج کا انسان ہجوم کا حصہ تو ہے لیکن وہ تنہائی کا شکار ہے کیونکہ اسے کوئی مخلص ہمدرد نہیں ملتا۔ مادی ترقی نے ہمیں ایک دوسرے کے قریب تو کر دیا ہے لیکن دلوں کے درمیان فاصلے بڑھا دیے ہیں۔ ہم ایک ایسی بھیڑ کا حصہ بن چکے ہیں جہاں ہر کوئی اپنی ذات میں مگن ہے اور دوسروں کے دکھ سکھ سے بے نیاز ہے۔ شاعر کا مقصد یہ بتانا ہے کہ صرف دو پیروں پر چلنے اور بولنے سے کوئی انسان نہیں بن جاتا، بلکہ انسانیت کے لیے دردمند دل اور بلند کردار کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ آج کے اس پرہجوم معاشرے میں عنقا ہے۔
شعر نمبر 3:
پتلی گردن پتلے ابرو پتلے لب پتلی کمر
جتنا بیمار آدمی اتنا طرحدار آدمی
مشکل الفاظ کے معانی:
ابرو: بھویں (Eyebrows)۔
طرحدار: خوش شکل، فیشن ایبل، وضع دار۔
مفہوم:
جدید دور میں حسن کے معیار بدل گئے ہیں۔ جو شخص جتنا دبلا پتلا اور کمزور نظر آتا ہے، اسے اتنا ہی زیادہ خوبصورت اور فیشن ایبل سمجھا جاتا ہے۔
تشریح:
اس شعر میں ضمیر جعفری نے جدید دور کے “معیارِ حسن” پر طنز کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آج کل کے زمانے میں صحت مندی اور تنومندی کے بجائے نقاہت اور کمزوری کو خوبصورتی کی علامت سمجھا جانے لگا ہے۔ شاعر بڑی ظرافت سے نقشہ کھینچتے ہیں کہ پتلی گردن، باریک بھویں، پتلے ہونٹ اور نازک کمر دورِ حاضر کے فیشن کے تقاضے بن چکے ہیں۔ جو انسان جسمانی طور پر جتنا لاغر اور بیمار سا دکھائی دیتا ہے، دنیا اسے اتنا ہی زیادہ “طرحدار” اور اسٹائلش قرار دیتی ہے۔ دراصل یہاں شاعر فیشن پرستی کی اس انتہا کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جہاں انسان اپنی قدرتی صحت کو داؤ پر لگا کر مصنوعی خوبصورتی کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ خواتین ہوں یا مرد، ہر کوئی دبلا نظر آنے کی دوڑ میں اپنی توانائی کھو رہا ہے۔ جو چیزیں کسی زمانے میں بیماری یا کمزوری کی علامت سمجھی جاتی تھیں، اب انہیں ماڈرن ازم کا نام دے دیا گیا ہے۔ شاعر نے طنزیہ انداز میں یہ پیغام دیا ہے کہ ہم ظاہری دکھاوے اور بناؤ سنگھار میں اتنے مگن ہو گئے ہیں کہ ہمیں اصل صحت اور بیماری کے درمیان فرق بھی یاد نہیں رہا۔ انسان نے اپنی فطرت کو بدل کر رکھ دیا ہے اور اب وہ مصنوعی تراش خراش میں ہی اپنی بڑائی سمجھتا ہے۔ یہ شعر معاشرے میں پھیلے ہوئے سطحی پن اور ظاہری نمائش کی بھرپور عکاسی کرتا ہے جہاں باطنی توانائی اور جسمانی قوت کے بجائے صرف “لک” (Look) کو اہمیت دی جاتی ہے۔
شعر نمبر 4:
زندگی نیچے کہیں منہ دیکھتی ہی رہ گئی
کتنا اونچا لے گیا جینے کا معیار آدمی
مشکل الفاظ کے معانی:
منہ دیکھتی رہنا: حسرت سے دیکھنا، پیچھے رہ جانا۔
معیار: لیول، اسٹینڈرڈ۔
مفہوم:
انسان نے اپنے رہن سہن کے معیار کو تو بہت بلند کر لیا ہے اور آسائشیں جمع کر لی ہیں، لیکن اس چکر میں حقیقی زندگی کی خوشیاں اور سکون بہت پیچھے کہیں رہ گیا ہے۔
تشریح:
اس شعر میں ضمیر جعفری نے ایک بہت بڑی حقیقت کو طنزیہ لب و لہجے میں بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آج کا انسان “معیارِ زندگی” (Standard of Living) کو بلند کرنے کی دوڑ میں اتنا آگے نکل گیا ہے کہ وہ “حقیقتِ زندگی” کو ہی بھول گیا ہے۔ ہم نے بڑے بنگلے، قیمتی گاڑیاں، جدید الیکٹرانک آلات اور ہر طرح کی مادی آسائشیں تو حاصل کر لیں، لیکن ان سب کو حاصل کرنے کی تگ و دو میں ہم نے اپنی زندگی کا سکون، اپنوں کا ساتھ اور سادہ خوشیاں قربان کر دیں۔ شاعر استعاراتی انداز میں کہتے ہیں کہ “زندگی” یعنی وہ فطری خوشی جو سادگی میں تھی، وہ کہیں نیچے زمین پر کھڑی حسرت سے انسان کو دیکھ رہی ہے جو مصنوعی ترقی کے میناروں پر چڑھتا جا رہا ہے۔ ہم نے اپنے جینے کے ڈھنگ کو تو بہت اونچا اور پرتعیش بنا لیا ہے لیکن اس معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ہم مسلسل تناؤ، پریشانی اور مشینی زندگی کا شکار ہو گئے ہیں۔ اب ہمارے پاس آرام کے لیے قیمتی بستر تو ہے لیکن پرسکون نیند نہیں، کھانے کے لیے لذیذ پکوان تو ہیں لیکن وہ بھوک اور اطمینان نہیں۔ گویا انسان نے مادیت کے مینار تو کھڑے کر لیے ہیں لیکن ان کی بنیادوں میں انسانی روح دب کر رہ گئی ہے۔ شاعر ہمیں یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ معیارِ زندگی کا بلند ہونا بری بات نہیں، لیکن اگر یہ معیار ہمیں اپنی جڑوں اور حقیقی انسانی مسرتوں سے دور کر دے تو ایسی ترقی بے معنی ہے۔ ہم ترقی کی بلندیوں پر تو پہنچ گئے مگر انسانیت کی سطح پر بہت نیچے گر گئے۔
شعر نمبر 5:
عمر بھر صحرا نوردی کی مگر شادی نہ کی
قیس دیوانہ بھی تھا کتنا سمجھ دار آدمی
مشکل الفاظ کے معانی:
صحرا نوردی: ریگستانوں میں بھٹکنا، آوارہ گردی کرنا۔
قیس: لیلیٰ کا عاشق، مجنوں کا اصل نام۔
مفہوم:
مجنوں (قیس) اگرچہ عشق میں دیوانہ مشہور تھا، لیکن وہ کتنا عقلمند تھا کہ اس نے ریگستانوں کی خاک تو چھانی مگر شادی کے بندھن میں بندھ کر گھریلو جھنجھٹوں میں نہیں پڑا۔
تشریح:
یہ شعر ضمیر جعفری کے مخصوص مزاحیہ رنگ کا عکاس ہے۔ یہاں انہوں نے کلاسیکی اردو شاعری کے مشہور کردار “قیس” (مجنوں) کا حوالہ دے کر شادی شدہ زندگی کے مسائل پر طنز کیا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ ہم سب قیس کو دیوانہ اور پاگل سمجھتے ہیں کیونکہ وہ لیلیٰ کے عشق میں صحرا صحرا بھٹکتا پھرا اور وحشت زدہ رہا۔ لیکن اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو وہ بڑا “سمجھدار” نکلا۔ اس کی سمجھداری یہ تھی کہ اس نے عشق تو کیا، اس میں ذلت بھی اٹھائی اور صحرا نوردی بھی کی، مگر اس نے شادی نہیں کی۔ گویا شاعر یہ تاثر دے رہے ہیں کہ شادی کے بعد کی ذمہ داریاں، بیوی کے مطالبات اور گھریلو جھگڑے صحرا کی خاک چھاننے سے بھی زیادہ کٹھن ہوتے ہیں۔ مجنوں نے صحرا میں رہ کر آزادی کی زندگی گزاری، اسے کسی راشن کے کارڈ، بچوں کی فیس یا گھر کے بجلی کے بل کی فکر نہیں تھی۔ شاعر نے مزاح کے پردے میں شادی شدہ مردوں کی حالتِ زار پر چوٹ کی ہے کہ وہ لوگ جو شادی کے بندھن میں بندھ کر روزمرہ کی چکی میں پس رہے ہیں، ان کے مقابلے میں تو وہ “دیوانہ” قیس ہی بہتر تھا جو کم از کم ان خانگی بکھیڑوں سے آزاد رہا۔ یہ شعر دراصل معاشرتی زندگی کے بوجھ اور ازدواجی زندگی کی تلخیوں کو ظریفانہ انداز میں پیش کرتا ہے، جہاں ایک آزاد منش انسان کو مجنوں کی دیوانگی بھی اپنی زندگی سے بہتر محسوس ہونے لگتی ہے۔
شعر نمبر 6:
دانش و حکمت کی ساری روشنی کے باوجود
کم ہی ملتا ہے زمانے میں کم آزار آدمی
مشکل الفاظ کے معانی:
دانش و حکمت: عقل و دانش، دانائی، فلسفہ۔
کم آزار: دوسروں کو کم دکھ دینے والا، بے ضرر انسان۔
مفہوم:
آج کی دنیا علم و دانش اور جدید علوم کی روشنی سے منور ہے، لیکن اس قدر تعلیم کے باوجود ایسے انسان بہت کم ہیں جو دوسروں کو تکلیف نہ پہنچاتے ہوں۔
تشریح:
اس شعر میں شاعر نے انسانی اخلاقیات اور تعلیم کے کھوکھلے پن پر بات کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم نے بہت ترقی کر لی ہے، سائنس اور فلسفہ دانائی کی انتہا کو چھو رہے ہیں، ہر طرف تعلیم کی روشنی پھیلی ہوئی ہے اور انسان پہلے سے زیادہ باشعور ہو گیا ہے۔ لیکن جب ہم عملی زندگی میں انسانوں کا رویہ دیکھتے ہیں تو یہ ساری “دانش و حکمت” دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ اس روشن خیالی کے دور میں بھی ایک ایسا انسان ملنا محال ہے جو “کم آزار” ہو، یعنی جو اپنی ذات، اپنی زبان یا اپنے عمل سے دوسروں کو دکھ نہ پہنچائے۔ آج کا انسان جتنا زیادہ پڑھ لکھ گیا ہے، اتنا ہی زیادہ چالاک اور دوسروں کا استحصال کرنے والا بن گیا ہے۔ علم نے ہمیں کائنات کی گتھیاں سلجھانا تو سکھا دیا لیکن ایک دوسرے کے ساتھ پرامن طریقے سے رہنا نہیں سکھایا۔ ہم دوسروں کی زندگیوں میں دخل اندازی کرتے ہیں، حسد کرتے ہیں اور اپنے مفاد کے لیے دوسروں کو اذیت پہنچانے سے گریز نہیں کرتے۔ ضمیر جعفری کا کہنا ہے کہ اصل علم تو وہ تھا جو انسان کو نرم خو اور بے ضرر بناتا، لیکن یہاں تو علم کی روشنی میں بھی ہر شخص دوسرے کے لیے کانٹا بنا ہوا ہے۔ سوسائٹی میں ایسے لوگوں کا قحط پڑ گیا ہے جن سے دوسرے لوگ خود کو محفوظ تصور کریں۔ یہ شعر دورِ حاضر کے پڑھے لکھے معاشرے کی اخلاقی پستی کا نوحہ ہے جہاں ڈگریاں تو بہت ہیں مگر انسانیت کی بنیادی صفت یعنی “سلامتی” مفقود ہے۔
شعر نمبر 7:
دل رہیں ہیں صومعۂ دستار رہن میکدہ
تھا ضمیر جعفریؔ بھی اک مزے دار آدمی
مشکل الفاظ کے معانی:
صومعہ: عبادت گاہ، مسجد یا خانقاہ۔
دستار: پگڑی، عزت و وقار کی علامت۔
رہنِ میکدہ: شراب خانے میں گروی رکھنا۔
مفہوم:
سید ضمیر جعفری اپنی ذات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کی شخصیت بڑی عجیب و غریب اور متضاد تھی؛ ان کا دل تو عبادت گاہ میں ہوتا تھا مگر ان کی عزت (دستار) اکثر مے خانے میں گروی ہوتی تھی۔
تشریح:
یہ نظم کا مقطع ہے جس میں شاعر نے “خود ملامتی” اور طنزیہ انداز میں اپنی ہی شخصیت کا نقشہ کھینچا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ضمیر جعفری بذاتِ خود ایک تضادات کا مجموعہ اور “مزے دار” آدمی تھا۔ اس کی حالت یہ تھی کہ دل تو نیکی اور عبادت کی طرف مائل رہتا تھا (دل صومعہ میں ہونا)، لیکن اس کا ظاہری عمل یا رندی اسے مے خانے تک لے جاتی تھی، یہاں تک کہ اس کی عزت و وقار کی علامت یعنی “دستار” بھی وہاں گروی پڑی ہوتی تھی۔ یہاں شاعر دراصل صرف اپنی بات نہیں کر رہے بلکہ وہ ایک عام انسان کی داخلی کشمکش کو بیان کر رہے ہیں۔ انسان کا دل ہمیشہ اچھائی کی طرف راغب ہوتا ہے، وہ چاہتا ہے کہ وہ نیک بنے، عبادت کرے اور روحانیت حاصل کرے، لیکن اس کی نفسانی خواہشات اور دنیاوی رغبتیں اسے گناہ یا لغزشوں کی طرف لے جاتی ہیں۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جہاں انسان نیکی اور بدی کے درمیان لٹکا رہتا ہے۔ ضمیر جعفری نے بڑی بے باکی سے اپنے انسانی کمزوریوں کا اعتراف کیا ہے کہ وہ کوئی فرشتہ صفت انسان نہیں تھے بلکہ ایک عام گوشت پوست کے انسان تھے جن میں خوبیاں بھی تھیں اور خامیاں بھی۔ ان کا یہ اعترافِ حقیقت دراصل معاشرے کے ان منافق لوگوں پر بھی طنز ہے جو ظاہر میں تو بہت پارسا بنتے ہیں مگر ان کے باطن میں کچھ اور ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی ذات کو نشانہ بنا کر مزاح کا ایک ایسا رنگ پیدا کیا ہے جو پڑھنے والے کو مسکرانے پر بھی مجبور کرتا ہے اور سوچنے پر بھی۔
شعر نمبر 8:
پہلے کشتی ڈوب جاتی تھی نظر کے سامنے
اب گرے گا بحر اوقیانوس کے پار آدمی
مشکل الفاظ کے معانی:
بحرِ اوقیانوس: ایٹلانٹک اوشین (Atlantic Ocean)، دنیا کا ایک بہت بڑا سمندر۔
مفہوم:
پرانے زمانے میں حادثات محدود ہوتے تھے اور انسان کی نظر کے سامنے پیش آتے تھے، لیکن اب ٹیکنالوجی کی بدولت انسان اتنی دور دراز جگہوں پر جا کر ہلاک ہوتا ہے کہ اس کا سراغ ملنا بھی مشکل ہے۔
تشریح:
اس شعر میں ضمیر جعفری نے جدید ٹیکنالوجی کے خطرات اور انسانی زندگی کی بے وقعتی کو بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پرانے وقتوں میں سفر کے ذرائع محدود تھے، اگر کوئی کشتی ڈوبتی تھی تو وہ ساحل کے قریب یا لوگوں کی نظروں کے سامنے ڈوبتی تھی، اس کا دکھ بانٹنے والے اور بچانے والے موجود ہوتے تھے۔ لیکن اب انسان نے فضائی اور بحری سفر میں اتنی ترقی کر لی ہے کہ وہ ہزاروں میل دور سمندروں کے پار پہنچ جاتا ہے۔ اب جب حادثہ ہوتا ہے تو انسان “بحرِ اوقیانوس” جیسے وسیع و عریض سمندروں کے پار جا گرتا ہے جہاں نہ تو کوئی اسے دیکھنے والا ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی لاش کا سراغ ملتا ہے۔ یہاں شاعر نے ترقی کے اس پہلو پر روشنی ڈالی ہے جس نے فاصلوں کو تو سمیٹ لیا ہے لیکن خطرات کو بھی عالمگیر بنا دیا ہے۔ انسان کی ہلاکت اب اتنی دور دراز اور پراسرار ہو گئی ہے کہ اس کی خبر بھی اپنوں تک دیر سے پہنچتی ہے۔ یہ شعر اس خوف اور عدم تحفظ کی طرف بھی اشارہ ہے جو جدید ایجادات کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی کا حصہ بن گیا ہے۔ ہم نے خلاؤں اور گہرے سمندروں کو مسخر تو کر لیا ہے، لیکن وہاں پیش آنے والے حادثات انسان کو بالکل بے یار و مددگار بنا دیتے ہیں۔ شاعر نے بڑی مہارت سے یہ نکتہ واضح کیا ہے کہ قدیم زمانے کی تباہی محدود اور مقامی تھی، جبکہ جدید دور کی تباہی لامحدود اور بہت دور تک پھیلی ہوئی ہے۔