لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں

بہادر شاہ ظفر کی یہ غزل اردو ادب کا وہ شاہکار ہے جو محض شاعری نہیں بلکہ ایک گرتے ہوئے عہد کی سسکی اور ایک بے بس بادشاہ کے دل کی پکار ہے ۔  اس غزل کی مکمل تشریح، معانی اور مفہوم درج ذیل ہے ۔

شاعر کا تعارف: بہادر شاہ ظفر

ابو المظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر (1775ء – 1862ء) مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار تھے۔ وہ ایک رحم دل انسان، صوفی منش بزرگ اور اردو کے مایہ ناز شاعر تھے۔ ان کا دورِ حکومت سیاسی طور پر انتہائی کمزور تھا، لیکن ادبی لحاظ سے ان کا دربار ذوق اور غالب جیسے اساتذہ کا مسکن تھا۔ 1857ء کی جنگِ آزادی میں ناکامی کے بعد انگریزوں نے انہیں رنگون (برما) جلاوطن کر دیا، جہاں انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں۔ ان کی شاعری میں جو سوز و گداز اور قنوطیت پائی جاتی ہے، وہ ان کے ذاتی دکھوں اور سلطنت کے زوال کا عکس ہے۔ “ظفر” ان کا تخلص تھا۔

شعر نمبر 1

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں

کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں

مشکل الفاظ کے معانی:

اجڑا دیار: ویران بستی، مراد دنیا یا وہ جگہ جہاں رونق ختم ہو گئی ہو۔

عالمِ ناپائیدار: وہ دنیا جو ختم ہونے والی ہے، فانی دنیا۔

بنی ہے: نبھ سکی ہے، کسی کا گزارا ہوا ہے۔

مفہوم:

اس ویران اور اجڑے ہوئے ماحول میں میرا دل نہیں لگتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس فانی اور عارضی دنیا میں آج تک کسی کا مستقل قیام یا سکون ممکن نہیں ہو سکا۔

تشریح:

اس شعر میں بہادر شاہ ظفر نے دنیا کی بے ثباتی اور زندگی کی تلخ حقیقت کو بیان کیا ہے۔ “اجڑے دیار” سے مراد وہ دلی بھی ہو سکتی ہے جو 1857ء کے بعد ویران ہو گئی تھی اور وہ دنیا بھی جو اپنی اصل میں فانی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ جب انسان کو یہ احساس ہو جائے کہ یہ دنیا عارضی ہے، تو اس کا دل یہاں کی رنگینیوں سے اچٹ جاتا ہے۔ بادشاہ ہونے کے ناطے ظفر نے عروج و زوال دونوں دیکھے تھے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اس دنیا کی حیثیت ایک مسافر خانے کی سی ہے جہاں کوئی بھی ہمیشہ کے لیے نہیں آیا۔ جب بڑے بڑے بادشاہ، سکندر اور دارا جیسے لوگ یہاں نہ رہ سکے، تو کسی عام انسان کی کیا بساط کہ وہ یہاں اپنا دل لگائے یا یہاں قیام کی تمنا کرے۔ یہ دنیا ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہر خوشی کے پیچھے غم اور ہر عروج کے پیچھے زوال چھپا ہے۔ شاعر کی بیزاری اس بات کا ثبوت ہے کہ مادی آسائشیں انسان کو وہ سکون فراہم نہیں کر سکتیں جو اسے اپنی اصل منزل کی یاد دلاتی ہے۔ یہاں “اجڑا دیار” ان کی اپنی اجڑی ہوئی سلطنت کی بھی عکاسی کرتا ہے، جہاں اب سوائے بربادی کے کچھ باقی نہیں رہا تھا۔ اس عالمِ ناپائیدار میں دل لگانے کا انجام سوائے حسرت کے کچھ نہیں۔

بقول شاعر:

کچھ دیر کا قیام ہے عالم ہے سب فنا

جائے گی ہو کے خاک یہاں کی ہر اک بنا

شعر نمبر 2

ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں

اتنی جگہ کہاں ہے دلِ داغدار میں

مشکل الفاظ کے معانی:

حسرتوں: وہ خواہشیں جو پوری نہ ہو سکیں۔

دلِ داغدار: وہ دل جس پر دکھوں اور زخموں کے نشان ہوں۔

مفہوم:

ناکام تمناؤں اور حسرتوں کو کہہ دو کہ وہ کسی اور دل میں مسکن تلاش کر لیں، کیونکہ میرا دل پہلے ہی غموں اور زخموں سے اس قدر بھر چکا ہے کہ اب اس میں مزید کسی حسرت کی گنجائش باقی نہیں رہی۔

تشریح:

یہ شعر انسانی نفسیات اور غم کی انتہا کا عکاس ہے۔ بہادر شاہ ظفر فرماتے ہیں کہ انسان کا دل ایک محدود جگہ ہے، اور میرا دل تو پہلے ہی دکھوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ جب انسان پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں تو وہ جذباتی طور پر اتنا تھک جاتا ہے کہ نئی خواہشات یا امیدوں کے لیے اس کے اندر جگہ ختم ہو جاتی ہے۔ یہاں شاعر اپنی بے بسی کا اظہار کر رہے ہیں کہ اے حسرتو! تم میرے پاس کیوں آتی ہو؟ میرے پاس تمہیں دینے کے لیے اب کچھ نہیں بچا۔ میرا دل “داغدار” ہے، یعنی اس پر اپنوں کی بے وفائی، سلطنت کے چھن جانے اور بیٹوں کے قتل کے گہرے زخم موجود ہیں۔ ایک زخمی اور ٹوٹے ہوئے دل میں نئی تمناؤں کی پرورش نہیں ہو سکتی۔ ظفر نے یہاں حسرتوں کو مخاطب کر کے دراصل اپنی ناامیدی کی تصویر کشی کی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اب انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے کیونکہ وہ مزید کسی نئی امید کے ٹوٹنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ یہ شعر ایک ایسے شخص کی کیفیت ہے جو زندگی کی تمام رنگینیوں سے مایوس ہو کر گوشہ نشینی اختیار کر چکا ہو اور جس کا سرمایہ صرف اس کے پرانے زخم ہوں۔

بقول شاعر:

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

شعر نمبر 3

کانٹوں کو مت نکال چمن سے او باغباں

یہ بھی گلوں کے ساتھ پلے ہیں بہار میں

مشکل الفاظ کے معانی:

چمن: باغ۔

باغباں: مالی، باغ کی حفاظت کرنے والا۔

گلوں: پھولوں۔

مفہوم:

اے مالی! باغ سے ان کانٹوں کو چن کر باہر نہ پھینکو، کیونکہ انہوں نے بھی پھولوں کے ساتھ مل کر اسی بہار کے موسم میں پرورش پائی ہے۔ یہ بھی اسی گلشن کا حصہ ہیں۔

تشریح:

اس شعر میں ظفر نے رواداری، وفاداری اور زندگی کے تضادات کو بڑے خوبصورت پیرائے میں بیان کیا ہے۔ کانٹے اور پھول اگرچہ اپنی فطرت میں ایک دوسرے کے الٹ ہیں، لیکن وہ ایک ہی شاخ پر پروان چڑھتے ہیں۔ شاعر باغباں (جو کہ وقت یا حاکمِ وقت کی علامت ہو سکتا ہے) سے کہتا ہے کہ خوشی کے دنوں میں جو لوگ تمہارے ساتھ تھے، اگر آج وہ مشکل وقت میں “کانٹے” بن کر کھٹک رہے ہیں تو انہیں نظر انداز نہ کرو۔ یہ کانٹے ان پھولوں کے محافظ بھی رہے ہیں اور انہوں نے ایک ساتھ بہار کا لطف اٹھایا ہے۔ علامتی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں، اچھے بھی اور برے بھی۔ اگر آپ اچھوں کو اپناتے ہیں تو بروں کو بھی برداشت کرنا سیکھیں۔ یا پھر یہ کہ جن دوستوں یا ساتھیوں نے اچھے وقت میں ساتھ دیا، اگر آج ان کے حالات بدل گئے ہیں یا وہ آپ کے لیے بوجھ بن گئے ہیں، تو انہیں تنکا سمجھ کر باہر نہ پھینکیں بلکہ ان کی سابقہ رفاقت کا پاس رکھیں۔ یہ شعر ظفر کی صلح کل طبیعت اور ان کی وسیع القلبی کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ دشمنوں یا کمزوروں کو بھی اسی معاشرے کا حصہ سمجھتے ہیں۔

بقول شاعر:

گل کو محبوب سمجھ کر نہ بھلا کانٹوں کو

راستہ کٹھن ہو تو یہ ساتھ دیا کرتے ہیں

شعر نمبر 4

بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ

قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں

مشکل الفاظ کے معانی:

صیاد: شکاری۔

گلہ: شکوہ، شکایت۔

فصلِ بہار: بہار کا موسم۔

مفہوم:

بلبل کو نہ تو مالی سے کوئی شکایت ہے اور نہ ہی شکاری سے، کیونکہ اس کی قسمت میں تو بہار کے اس پررونق موسم میں بھی قید ہی لکھی تھی۔

تشریح:

یہ شعر بہادر شاہ ظفر کی زندگی کے حالات کا سب سے بڑا نوحہ ہے۔ بلبل یہاں خود شاعر کی علامت ہے، باغباں سے مراد وہ لوگ ہیں جو باغ (وطن) کے رکھوالے تھے، اور صیاد سے مراد انگریز غاصب ہیں۔ ظفر فرماتے ہیں کہ میں کسی انسان کو اپنے دکھوں کا ذمہ دار نہیں ٹھہراتا۔ یہ میری تقدیر کا لکھا تھا کہ جب پوری دنیا آزاد تھی اور ہر طرف بہار تھی، تب میں قید خانے کی سلاخوں کے پیچھے تھا۔ یہ جبرِ مسلسل کی وہ کیفیت ہے جہاں انسان تمام شکوے چھوڑ کر اپنی قسمت کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتا ہے۔ ایک بادشاہ جو کبھی پورے ہندوستان کا مالک تھا، آج رنگون کے ایک تنگ و تاریک کمرے میں قید ہے، اس سے بڑی “فصلِ بہار میں قید” اور کیا ہو سکتی ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ شکاری کا کام شکار کرنا ہے اور مالی کا کام باغ کی حفاظت، لیکن اگر میری تقدیر میں ہی قید لکھی تھی تو میں کسی سے کیا شکوہ کروں؟ اس میں تسلیم و رضا کا وہ رنگ ہے جو صوفیانہ شاعری کا خاصہ ہے۔ ظفر نے اپنی تمام تر محرومیوں کو اللہ کی رضا اور تقدیر کا فیصلہ مان کر قبول کر لیا ہے۔

بقول شاعر:

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی

چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

شعر نمبر 5

کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے

دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

مشکل الفاظ کے معانی:

بد نصیب: جس کی قسمت خراب ہو۔

کوئے یار: محبوب کی گلی، مراد اپنا وطن (ہندوستان/دلی)۔

مفہوم:

ظفر تم کتنے بدقسمت ہو کہ تمہیں مرنے کے بعد اپنے محبوب وطن کی مٹی بھی نصیب نہ ہو سکی اور دفن ہونے کے لیے دو گز زمین بھی میسر نہ آئی۔

تشریح:

یہ غزل کا مقطع ہے اور اردو شاعری کے غمگین ترین اشعار میں شمار ہوتا ہے۔ اس میں وطن سے محبت اور جلاوطنی کا دکھ اپنے جوبن پر ہے۔ بہادر شاہ ظفر کو رنگون میں قید کیا گیا تھا اور ان کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ وہ اپنی زندگی کے آخری ایام اپنے وطن دہلی میں گزاریں اور وہیں دفن ہوں۔ “کوئے یار” سے مراد ان کا پیارا وطن ہندوستان ہے۔ وہ اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے ظفر! تو کتنا بدبخت بادشاہ ہے کہ تو نے ایک طویل عرصے تک اس سرزمین پر حکومت کی، لیکن آج جب تو موت کے قریب ہے، تو تجھے اپنی ہی زمین میں دو گز جگہ بھی نصیب نہیں ہو رہی۔ یہ ایک شہنشاہ کی بے بسی کی انتہا ہے۔ وہ پردیس میں مرنے کے دکھ کو بیان کر رہے ہیں جہاں کوئی اپنا نہیں، کوئی فاتحہ پڑھنے والا نہیں۔ یہ شعر آج بھی ہر اس شخص کی ترجمانی کرتا ہے جو اپنے وطن سے دور کسی مجبوری کے تحت زندگی گزار رہا ہو۔ اس شعر میں “دو گز زمین” محض ایک قبر کی جگہ نہیں بلکہ اس عزت اور تعلق کی علامت ہے جو انسان کو اپنی مٹی سے ہوتا ہے۔

بقول شاعر:

عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن

دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

Leave a Reply