دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے

مرزا اسد اللہ خان غالب کی یہ غزل اردو ادب کا شاہکار ہے جس میں انسانی جذبات، فلسفہ اور شوخی کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ ذیل میں اس غزل کے تمام اشعار کی تفصیلی تشریح پیش ہے۔

شعر نمبر 1

دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے

آخر اس درد کی دوا کیا ہے

مشکل الفاظ کے معانی:

دلِ ناداں: ناسمجھ دل، بے وقوف دل۔

ماجرا: قصہ، واقعہ، حال۔

دوا: علاج، معالجہ۔

مفہوم:

اے میرے ناسمجھ دل! تجھے اچانک یہ کیا ہو گیا ہے؟ تو اس قدر بے چین کیوں ہے؟ آخر اس تکلیف اور بے قراری کا علاج کیا ہے؟

تشریح:

غالب اس مطلع میں اپنے دل کو مخاطب کر کے ایک سوالیہ انداز اختیار کرتے ہیں۔ انسانی فطرت ہے کہ جب وہ کسی جذبے (خاص طور پر محبت) کی گرفت میں آتا ہے تو اس کی منطق کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ غالب اپنے دل کو ‘ناداں’ کہہ رہے ہیں کیونکہ دل مصلحتوں سے ناواقف ہوتا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ وہ کیا شے ہے جس نے تجھے اتنا مضطرب کر رکھا ہے؟ یہاں درد سے مراد وہ عشق ہے جو انسان کے وجود میں سرایت کر جاتا ہے اور اسے آرام نہیں لینے دیتا۔ شاعر حقیقت میں اپنے آپ سے سوال کر رہے ہیں کہ اس کیفیت کا انجام کیا ہوگا؟ کیا یہ درد لاعلاج ہے یا اس کا کوئی مداوا ممکن ہے؟ وہ اپنی بے بسی کا اظہار کر رہے ہیں کہ دل ان کے قبضے میں نہیں رہا۔ اس شعر میں تجاہلِ عارفانہ کا رنگ بھی نمایاں ہے، یعنی جانتے بوجھتے ہوئے انجان بننا۔ دل کی اس کیفیت کو سمجھنا مشکل ہے کیونکہ محبت میں مبتلا ہونے کے بعد انسان کو اپنی ہی حالت کی سمجھ نہیں آتی۔ غالب کی شوخی یہاں یہ ہے کہ وہ دل کو کوس بھی رہے ہیں اور اس کی فکر بھی کر رہے ہیں۔ یہ تڑپ اور بے چینی ہی دراصل عشق کی پہلی منزل ہے۔ آخر میں وہ اس نتیجے پر پہنچتے دکھائی دیتے ہیں کہ شاید اس درد کا واحد علاج وصال یا فنا ہے، مگر فی الحال وہ صرف سوال کر رہے ہیں۔

بقول شاعر:

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

شعر نمبر 2

ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار

یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے

مشکل الفاظ کے معانی:

مشتاق: شوق رکھنے والا، آرزومند۔

بیزار: اکتایا ہوا، ناراض، بیزار۔

ماجرا: واقعہ، معاملہ۔

مفہوم:

اے اللہ! یہ کیا معاملہ ہے کہ ہم تو ان (محبوب) کے دیدار کے لیے تڑپ رہے ہیں اور وہ ہم سے ملنا تو دور، دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے اور بیزار ہیں۔

تشریح:

اس شعر میں غالب نے عاشق اور محبوب کے درمیان موجود تضاد کو بڑے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک طرف میں ہوں جس کی زندگی کا محور ہی محبوب کی دید ہے، میں اس کا طلبگار ہوں اور اس سے ملنے کی تڑپ رکھتا ہوں، جبکہ دوسری طرف محبوب کا رویہ بالکل اس کے برعکس ہے۔ محبوب نہ صرف یہ کہ بے رخی برت رہا ہے بلکہ وہ مجھ سے اکتا چکا ہے۔ وہ میری موجودگی سے بیزاری محسوس کرتا ہے۔ غالب یہاں حیرت زدہ ہو کر اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ یہ کیسی عجیب تقسیم ہے؟ محبت کا تقاضا تو یہ تھا کہ دونوں طرف آگ برابر لگی ہوتی، مگر یہاں معاملہ یک طرفہ ہے۔ یہ انسانی نفسیات کی عکاسی ہے کہ محبت میں اکثر ایک فریق بے انتہا چاہت رکھتا ہے جبکہ دوسرا فریق بالکل لاپرواہ ہوتا ہے۔ غالب کی یہ حیرت طنزیہ بھی ہے اور اس میں ایک معصومانہ شکوہ بھی چھپا ہوا ہے۔ وہ اس “ماجرے” کی حقیقت سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جہاں سب سے زیادہ خلوص ہو، وہیں سے سب سے زیادہ بیزاری ملتی ہے۔ یہ شعر عشق کی نفسیاتی کشمکش اور محبوب کی بے نیازی کو مکمل طور پر واضح کرتا ہے۔

بقول شاعر:

ان کو آنا نہ تھا نہ آئے وہ

ہم نے بیکار انتظار کیا

شعر نمبر 3

میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں

کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے

مشکل الفاظ کے معانی:

زبان رکھنا: بولنے کی قدرت رکھنا، جواب دے سکنا۔

مدعا: مقصد، مطلب، دلی تمنا۔

مفہوم:

میں بھی بول سکتا ہوں اور اپنی صفائی پیش کر سکتا ہوں، کاش تم مجھ سے کبھی پوچھو تو سہی کہ میرے دل کی مراد کیا ہے اور میں کیا چاہتا ہوں۔

تشریح:

اس شعر میں غالب محبوب سے گلہ کر رہے ہیں کہ اسے میری خاموشی کو میری بے زبانی یا کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ قدرت نے مجھے بھی بولنے کی صلاحیت دی ہے، میرے پاس بھی دلیلیں ہیں اور میں بھی اپنے جذبات کا اظہار الفاظ میں کر سکتا ہوں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ محبوب کبھی سننے کی زحمت ہی نہیں کرتا۔ یہاں ‘زبان رکھنا’ ایک محاورہ ہے جس کا مطلب ہے کہ انسان میں بات کرنے کا حوصلہ اور طاقت موجود ہے۔ شاعر کی آرزو ہے کہ کاش محبوب اپنی انا چھوڑ کر ایک بار پیار سے یہ پوچھ لے کہ “تمہاری خواہش کیا ہے؟”۔ جب تک پوچھا نہیں جائے گا، شاعر اپنی غیرت کی وجہ سے خاموش ہے۔ اس میں ایک وقار بھی ہے اور ایک حسرت بھی۔ غالب بتانا چاہتے ہیں کہ وہ بے زبان نہیں ہیں، بلکہ محبوب کی بے رخی نے انہیں چپ رہنے پر مجبور کر رکھا ہے۔ اگر محبوب تھوڑی سی توجہ دے تو وہ اپنے دل کے تمام بھید کھول کر رکھ دیں گے۔ یہ انسانی تعلقات کا ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ اکثر لوگ ایک دوسرے سے بات کیے بغیر ہی غلط فہمیاں پال لیتے ہیں۔ غالب اسی مکالمے کی کمی کا شکوہ کر رہے ہیں کہ کاش تم میرا مقصد پوچھتے تو تمہیں میری محبت کی گہرائی کا اندازہ ہوتا۔

بقول شاعر:

بات کرنی ہمیں مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

جیسی اب ہے کہ کسی بات پر بات ہی نہیں

شعر نمبر 4

جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود

پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے

مشکل الفاظ کے معانی:

تجھ بن: تیرے بغیر۔

موجود: حاضر، ہونے والا۔

ہنگامہ: شور و غل، دنیا کی چہل پہل۔

مفہوم:

اے خدا! جب کائنات کی ہر شے میں صرف تیری ہی ذات موجود ہے اور تیرے سوا کچھ نہیں، تو پھر دنیا میں یہ اتنا شور شرابہ اور ہنگامہ کیوں برپا ہے؟

تشریح:

یہ شعر غالب کے صوفیانہ افکار کی ترجمانی کرتا ہے۔ یہاں “وحدت الوجود” کا فلسفہ بیان ہوا ہے جس کے مطابق کائنات کی ہر چیز خدا کا عکس ہے اور حقیقی وجود صرف اللہ کا ہے۔ غالب سوال کرتے ہیں کہ اگر کائنات میں صرف اللہ کی ذات ہی اصل ہے اور باقی سب ہیچ ہے، تو پھر یہ دنیاوی جھگڑے، یہ رونقیں، یہ انسانوں کا آپس میں ٹکراؤ اور یہ ہنگامہ کیوں ہے؟ اگر ہر طرف تو ہی ہے تو پھر یہ “غیر” کا تصور کہاں سے آگیا؟ یہ ایک بہت گہرا فلسفیانہ سوال ہے جس میں غالب انسانی عقل کی محدودیت کا اعتراف کر رہے ہیں۔ وہ اس کائنات کے تضادات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایک طرف خالق کی یکتائی ہے اور دوسری طرف مخلوق کا یہ بے پناہ تنوع اور ہنگامہ خیزی۔ اس شعر میں جہاں تصوف ہے وہاں ایک طرح کی استفہامیہ جرات بھی ہے جو غالب کا خاصہ ہے۔ وہ خدا سے مخاطب ہو کر اس کائنات کے رموز و اسرار پوچھ رہے ہیں۔ یہ ہنگامہ دراصل انسان کی اپنی سوچ اور اس کے مادی وجود کا پیدا کردہ ہے، جبکہ حقیقت صرف ایک ہی ہے۔ غالب کی نظر میں یہ سارا تماشا ایک پردہ ہے جس کے پیچھے اصل حقیقت چھپی ہوئی ہے۔

بقول شاعر:

نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

شعر نمبر 5

یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں

غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے

مشکل الفاظ کے معانی:

پری چہرہ: پری جیسے خوبصورت چہرے والے۔

غمزہ: آنکھوں کا اشارہ۔

عشوہ: ناز و نخرہ۔

ادا: ڈھب، انداز۔

مفہوم:

یہ حسین و جمیل لوگ کون ہیں اور ان کا یہ آنکھوں سے اشارے کرنا، ناز و نخرے دکھانا اور یہ دلفریب انداز آخر کیا حقیقت رکھتے ہیں؟

تشریح:

گزشتہ شعر میں کائنات کے وجود پر سوال اٹھانے کے بعد اب غالب حسن کی مادی صورتوں پر سوال کر رہے ہیں۔ وہ محبوب کی خوبصورتی اور اس کی دلربا حرکتوں کو دیکھ کر حیران ہوتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ یہ لوگ جن کے چہرے پریوں جیسے ہیں، یہ کہاں سے آئے ہیں؟ ان کے انداز میں جو غمزہ اور عشوہ (یعنی ادائیں اور نخرے) ہیں، ان کی حقیقت کیا ہے؟ غالب یہاں حسن کے نفسیاتی اور مادی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ایک عاشق کے لیے محبوب کی ہر ادا ایک پہیلی ہوتی ہے جو اسے اپنی طرف کھینچتی ہے۔ وہ ان اداؤں کے پیچھے چھپے ہوئے مقاصد کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ یہ شعر انسانی حسن کی تعریف بھی ہے اور اس کے سحر میں گرفتار ایک ذہن کی حیرت بھی۔ غالب یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ دنیا میں اگر ہر طرف خدا کا نور ہے تو پھر یہ انسانی حسن اور اس کی کرشمہ سازیاں دل کو کیوں لبھاتی ہیں؟ یہ ادائیں انسان کو اللہ سے غافل کیوں کر دیتی ہیں یا یہ خود اللہ کے حسن کا پرتو ہیں؟ غالب کی یہ سوالیہ طرزِ فکر قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ حسن محض ایک ظاہری چیز ہے یا اس کے پیچھے کوئی گہرا راز چھپا ہے۔

بقول شاعر:

خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے

قدم رکھ کر سنبھلنا سیکھو آ ہی جائے گی

شعر نمبر 6

شکنِ زلفِ عنبریں کیوں ہے

نگہِ چشمِ سرمہ سا کیا ہے

مشکل الفاظ کے معانی:

شکن: بل، خم۔

زلفِ عنبریں: خوشبودار بال۔

نگہ: نظر۔

چشمِ سرمہ سا: وہ آنکھ جس میں سرمہ لگا ہو۔

مفہوم:

محبوب کے خوشبودار بالوں میں یہ پیچ و خم کیوں ہیں اور اس کی سرمئی آنکھوں کی کاٹ دار نظر کا اصل مطلب کیا ہے؟

تشریح:

غالب حسن کی تفصیلات میں جاتے ہوئے محبوب کے خدوخال پر سوال اٹھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ محبوب کی زلفیں جو عنبر جیسی خوشبو بکھیرتی ہیں، ان میں اتنے بل اور پیچ کیوں ڈالے گئے ہیں؟ یہ زلفیں دراصل عاشق کے لیے زنجیر کا کام کرتی ہیں۔ پھر وہ ان آنکھوں کا ذکر کرتے ہیں جن میں سرمہ لگا ہوا ہے اور جو اپنی ایک نگاہ سے دلوں کو زخمی کر دیتی ہیں۔ غالب ان تمام چیزوں کی “وجہ” تلاش کر رہے ہیں۔ کیا یہ سب آرائش صرف عاشق کو تڑپانے کے لیے ہے؟ اردو شاعری میں زلف اور چشم ہمیشہ سے اہم استعارے رہے ہیں۔ زلف کو اکثر پریشانی اور رات سے تشبیہ دی جاتی ہے جبکہ آنکھوں کو تیر اور تلوار سے۔ غالب ان روایتی استعاروں کو ایک نئے سوالیہ رنگ میں پیش کر رہے ہیں۔ وہ اس کائنات کے رنگ و بو اور حسن کے اسباب جاننا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ پوچھنا کہ “کیوں ہے” اور “کیا ہے” دراصل اس گہری جستجو کا حصہ ہے جو غالب کی شاعری کا طرہ امتیاز ہے۔ وہ محض حسن کی تعریف نہیں کرتے بلکہ اس کے “ہونے” پر غور کرتے ہیں۔

بقول شاعر:

تیری زلفوں میں لگی ہے تو کہیں چھوٹ نہ جائے

یہ مری عمر کی پونجی ہے کہیں ٹوٹ نہ جائے

شعر نمبر 7

سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں

ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے

مشکل الفاظ کے معانی:

سبزہ و گل: ہریالی اور پھول۔

ابر: بادل۔

ہوا: نسیم، باد۔

مفہوم:

یہ ہریالی اور رنگ برنگے پھول زمین سے کیسے نمودار ہوئے؟ بادلوں کی حقیقت کیا ہے اور یہ ہوا کیا شے ہے جو ہمیں محسوس تو ہوتی ہے مگر نظر نہیں آتی؟

تشریح:

اس شعر میں غالب فطرت (Nature) کے بارے میں سوال کر رہے ہیں۔ وہ محبوب کے حسن سے نکل کر اب کائنات کے حسنِ فطرت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ بنجر زمین سے اچانک سبزہ لہلہانے لگتا ہے اور خوبصورت پھول کھل اٹھتے ہیں۔ وہ حیران ہیں کہ یہ رنگ کہاں سے آتے ہیں؟ مٹی میں تو کوئی رنگ نہیں ہوتا، پھر یہ گل و گلزار کیسے بن جاتے ہیں؟ اسی طرح وہ بادلوں اور ہوا کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ یہ عناصرِ فطرت انسان کو اللہ کی قدرت کی یاد دلاتے ہیں، مگر غالب کا انداز یہاں بھی ایک معصوم بچے جیسا ہے جو ہر چیز کے بارے میں “کیوں” اور “کیسے” پوچھتا ہے۔ یہ شعر سائنسی تجسس اور صوفیانہ مشاہدے کا سنگم ہے۔ غالب کے نزدیک کائنات کی ہر حرکت کے پیچھے کوئی نہ کوئی مصلحت ہے اور وہ اسی مصلحت کو پانا چاہتے ہیں۔ وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ انسان ان روزمرہ کی چیزوں کا اتنا عادی ہو جاتا ہے کہ ان کے پیچھے چھپے ہوئے معجزات پر غور ہی نہیں کرتا۔ غالب ہمیں ان چیزوں پر ازسرِ نو غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

بقول شاعر:

پھول کھلے ہیں گلشن گلشن

لیکن اپنا اپنا دامن

شعر نمبر 8

ہم کو ان سے وفا کی ہے امید

جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

مشکل الفاظ کے معانی:

وفا: نبھانا، دوستی کا حق ادا کرنا۔

امید: آس، توقع۔

مفہوم:

ہمیں ان لوگوں سے وفاداری اور محبت کی توقع ہے جنہیں سرے سے یہ معلوم ہی نہیں کہ وفا کس چڑیا کا نام ہے اور اسے کیسے نبھایا جاتا ہے۔

تشریح:

یہ اس غزل کا سب سے مشہور اور طنزیہ شعر ہے۔ اس میں غالب نے اپنی نادانی اور محبوب کی بے وفائی کو ایک ساتھ بیان کیا ہے۔ وہ خود پر ہنستے ہیں کہ میں کتنا سادہ لوح ہوں کہ میں نے ایسے شخص سے وفا کی امید باندھ رکھی ہے جو اس لفظ کے معنی سے بھی واقف نہیں ہے۔ یہاں محبوب کو جاہل نہیں کہا گیا بلکہ اس کی جبلت میں وفا کا نہ ہونا بیان کیا گیا ہے۔ جیسے آگ کا کام جلانا ہے، ویسے ہی حسینوں کا کام بے وفائی کرنا سمجھا جاتا ہے۔ غالب کہتے ہیں کہ قصور محبوب کا نہیں بلکہ میرا اپنا ہے کیونکہ میں نے غلط جگہ امید لگا لی ہے۔ یہ انسانی زندگی کا ایک بڑا المیہ ہے کہ ہم اکثر ان لوگوں سے محبت اور توجہ چاہتے ہیں جو اس کے اہل نہیں ہوتے یا جن کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ اس شعر میں ایک گہرا دکھ چھپا ہوا ہے مگر اسے غالب نے بڑے ہی ظریفانہ انداز میں بیان کیا ہے۔ یہ شعر ایک طرح سے مطلع کے اس سوال کا جواب بھی ہے کہ “دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے”۔ دل کی نادانی یہی ہے کہ وہ ناممکن سے ممکن کی امید رکھتا ہے۔

بقول شاعر:

وفا جن سے کی بے وفا ہو گئے وہ

جسے راہ دکھائی وہی کھو گئے وہ

شعر نمبر 9

ہاں بھلا کر ترا بھلا ہوگا

اور درویش کی صدا کیا ہے

مشکل الفاظ کے معانی:

بھلا کرنا: نیکی کرنا، اچھا سلوک کرنا۔

درویش: فقیر، اللہ والا۔

صدا: آواز، پکار۔

مفہوم:

لوگوں کے ساتھ نیکی اور اچھا سلوک کرو، اس کے بدلے تمہارا بھی بھلا ہوگا۔ ایک فقیر کی اس سے زیادہ اور کیا دعا یا پکار ہو سکتی ہے؟

تشریح:

اس شعر میں غالب ایک درویش یا فقیر کا روپ دھار لیتے ہیں۔ یہ شعر اخلاقیات پر مبنی ہے اور مکافاتِ عمل کے قانون کو بیان کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کائنات کا اصول ہے کہ جو تم دو گے، وہی تمہیں واپس ملے گا۔ اگر تم دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرو گے تو تمہارے لیے بھی بھلائی کے راستے کھلیں گے۔ درویشوں کا شیوہ یہی ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو نیکی کی تلقین کرتے ہیں اور بدلے میں کچھ نہیں مانگتے۔ غالب یہاں خود کو ایک درویش قرار دے رہے ہیں جو محبوب کو (یا عام انسان کو) یہ مشورہ دے رہا ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارے ساتھ اچھا ہو، تو تم دوسروں کے ساتھ اچھا کرنا شروع کر دو۔ اس میں ایک لطیف اشارہ محبوب کی طرف بھی ہے کہ اگر تم مجھ پر مہربانی کرو گے تو خدا تم پر مہربانی کرے گا۔ غالب نے تصوف کے اس بنیادی اصول کو کہ “جیسا کرو گے ویسا بھرو گے” نہایت سادہ مگر پر اثر الفاظ میں ڈھالا ہے۔ یہ شعر ان کی وسیع القلبی اور انسانی ہمدردی کا ثبوت ہے۔

بقول شاعر:

خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے

مگر میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا

شعر نمبر 10

جان تم پر نثار کرتا ہوں

میں نہیں جانتا دعا کیا ہے

مشکل الفاظ کے معانی:

نثار کرنا: قربان کرنا، وار دینا۔

دعا: خیر و برکت کی التجا۔

مفہوم:

میں اپنی زندگی تمہارے نام کرتا ہوں اور تم پر قربان ہونے کے لیے تیار ہوں۔ مجھے لفظی دعائیں مانگنا نہیں آتا، میرا عمل (قربانی) ہی میری سب سے بڑی دعا ہے۔

تشریح:

عشق کی انتہا قربانی ہے اور غالب اس شعر میں اسی انتہا پر نظر آتے ہیں۔ وہ محبوب سے کہتے ہیں کہ لوگ تو تمہیں دعائیں دیتے ہوں گے کہ تمہاری عمر لمبی ہو یا تم خوش رہو، لیکن میں ان لفظی دعاؤں پر یقین نہیں رکھتا۔ میرے پاس دینے کے لیے سب سے قیمتی چیز میری جان ہے اور میں وہ تمہارے قدموں میں نثار کرنے کے لیے تیار ہوں۔ غالب کا یہ انداز روایتی دعاؤں سے بہت مختلف اور بلند ہے۔ وہ کہنا چاہتے ہیں کہ صرف زبان سے دعا دینا آسان ہے، لیکن عملاً کسی کے لیے اپنی زندگی وقف کر دینا اصل محبت ہے۔ اس میں محبوب کے لیے ان کی بے پناہ عقیدت جھلکتی ہے۔ وہ خود کو ایک ایسے عاشق کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو لفظوں کے گورکھ دھندے میں پڑنے کے بجائے براہِ راست عمل پر یقین رکھتا ہے۔ یہ قربانی کا جذبہ ہی عشق کو معتبر بناتا ہے۔ غالب کے نزدیک دعا ایک رسمی چیز ہے جبکہ جان کا نذرانہ پیش کرنا حقیقت ہے۔

بقول شاعر:

جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی

حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

شعر نمبر 11

میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ

مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے

مشکل الفاظ کے معانی:

مفت: بغیر قیمت کے، بلا معاوضہ۔

ہاتھ آنا: حاصل ہونا، مل جانا۔

مفہوم:

میں تسلیم کرتا ہوں کہ غالب کی کوئی حیثیت نہیں اور وہ ایک بے قیمت انسان ہے، لیکن اگر ایسا بندہ تمہیں بغیر کسی محنت یا قیمت کے مل رہا ہے تو اسے پاس رکھنے میں کیا برائی ہے؟

تشریح:

یہ غزل کا مقطع ہے جس میں غالب نے کمال کی خود پسندی اور کسرِ نفسی کا امتزاج پیش کیا ہے۔ وہ محبوب سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ میں جانتا ہوں میں کسی کام کا نہیں ہوں، میری معاشرے میں یا تمہاری نظر میں کوئی وقعت نہیں ہے۔ میں ایک ہیچ اور بے مقدار شخص ہوں۔ لیکن ذرا سوچو، ایک وفادار غلام اگر تمہیں بغیر کسی قیمت کے مل رہا ہے تو سودا برا نہیں ہے۔ یہاں غالب نے اپنی “مفت” دستیابی کو ایک خوبی کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ غالب کی مخصوص ظرافت اور شوخی ہے کہ وہ اپنی تذلیل میں بھی ایک پہلو ایسا نکال لیتے ہیں جو انہیں محبوب کی توجہ کا مرکز بنا دیتا ہے۔ وہ محبوب کو قائل کر رہے ہیں کہ چلو مجھے قیمتی نہ سمجھو، مگر ایک فالتو چیز سمجھ کر ہی رکھ لو، اس میں تمہارا کیا نقصان ہے؟ یہ شعر غالب کے اس اعتماد کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود اپنی انفرادیت اور وفاداری کی وجہ سے قیمتی ہیں۔

بقول شاعر:

بنا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا

وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے

Leave a Reply