دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم غیر ہمیں اٹھائے کیوں

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے مرزا اسد اللہ خان غالب کی یہ غزل اردو ادب کا شاہکار ہے جس میں انسانی جذبات، فلسفہ اور شوخی کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ ذیل میں اس غزل کے تمام اشعار کی تفصیلی تشریح پیش ہے۔ شعر نمبر 1 دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے آخر اس درد