چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم

چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم

Table of Contents

خواجہ حیدر علی آتش دبستانِ لکھنؤ کے سب سے معتبر اور صاحبِ طرز شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں لکھنوی تہذیب کا رچاؤ، زبان کی صفائی اور تصوف کا رنگ نمایاں ہے۔ زیرِ نظر غزل ان کے مخصوص رنگِ تغزل کی عکاس ہے جس میں وہ دنیا کی بے ثباتی، عشق کی کیفیات اور الٰہیاتی رموز کو بیان کرتے ہیں۔

درج ذیل میں غزل کے تمام اشعار کی مفصل تشریح، معانی اور مفہوم پیش ہے۔

شعر نمبر 1

چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم

نہال کس کو کرے باغباں نہیں معلوم

مشکل الفاظ کے معانی:

آشیاں: گھونسلہ، گھر۔

نہال کرنا: سیراب کرنا، خوشحال کرنا، پودا لگانا۔

باغباں: مالی، (استعارۃً) اللہ تعالیٰ یا حاکمِ وقت۔

مفہوم:

اس دنیا میں ہمیں یہ نہیں معلوم کہ ہمارا مستقل ٹھکانہ کہاں ہے اور نہ ہی یہ پتہ ہے کہ قدرت کس کو نوازنے والی ہے۔

تشریح:

خواجہ حیدر علی آتش اس شعر میں دنیا کی بے ثباتی اور تقدیر کے الٰہیاتی نظام پر روشنی ڈال رہے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ یہ دنیا ایک چمن کی مانند ہے جہاں انسان پرندے کی طرح چند دن کے لیے قیام پذیر ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمیں یہ علم ہی نہیں کہ ہمارا اصل ٹھکانہ یا مستقل گھر (آشیاں) کہاں ہے۔ ہم ایک مسافر کی طرح ہیں جو منزل سے بے خبر ہے۔ دوسرے مصرعے میں وہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ رزاقیت اور اس کی مصلحت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ “باغبانِ حقیقی” کس پودے کو پروان چڑھائے گا اور کس کو نظر انداز کر دے گا، یہ انسانی عقل سے بالاتر ہے۔ کسی کو عروج ملے گا یا زوال، یہ سب اس کی حکمت پر مبنی ہے جس کا علم کسی بشر کو نہیں۔ اس شعر میں حیرت اور بے بسی کی ایک ملی جلی کیفیت پائی جاتی ہے جو صوفیانہ فکر کی عکاس ہے۔ آتش یہاں لکھنوی رنگ کے بجائے دہلوی رنگِ تصوف کے قریب نظر آتے ہیں۔ زندگی کی ناپائیداری کا احساس اس قدر شدید ہے کہ انسان خود کو ایک اجنبی محسوس کرتا ہے۔ قدرت کے فیصلے اٹل ہیں اور انسان ان کے سامنے محض ایک تماشائی ہے۔ یہ شعر انسان کو اپنی اوقات اور قدرت کی وسعت کا احساس دلاتا ہے۔

بقولِ شاعر  :

کھلی ہے خانۂ صیاد میں ہماری آنکھ

قفس کو جانتے ہیں آشیاں نہیں معلوم

شعر نمبر 2

مرے صنم کا کسی کو مکاں نہیں معلوم

خدا کا نام سنا ہے نشاں نہیں معلوم

مشکل الفاظ کے معانی:

صنم: محبوب، بت (مراد اللہ تعالیٰ)۔

نشاں: پتا، علامت، سراغ۔

مفہوم:

میرے محبوب حقیقی (خدا) کا گھر کہاں ہے، یہ کسی کو معلوم نہیں۔ ہم نے اس کا نام تو سنا ہے مگر اس تک پہنچنے کا راستہ یا اس کا پتا معلوم نہیں ہے۔

تشریح:

یہ شعر وحدت الوجود اور عرفانِ الٰہی کے موضوع پر مبنی ہے۔ آتش کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اتنی بلند اور ماورا ہے کہ عام انسان کی عقل وہاں تک پہنچنے سے قاصر ہے۔ محبوبِ حقیقی (خدا) ہر جگہ موجود ہے لیکن اس کا کوئی ایک ٹھکانہ یا مکان متعین نہیں کیا جا سکتا۔ لوگ اسے ڈھونڈنے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر ناکام رہتے ہیں۔ دوسرے مصرعے میں ایک بڑی سچی اور کڑوی حقیقت بیان کی گئی ہے کہ ہم بچپن سے خدا کا نام تو سنتے آئے ہیں، ہماری زبانوں پر اس کا ذکر بھی رہتا ہے، لیکن حقیقتاً وہ کیسا ہے اور کہاں ہے، اس کا سراغ ہمیں نہیں ملا۔ یہ “نشاں” نہ معلوم ہونا دراصل اللہ کی لامحدودیت کی طرف اشارہ ہے۔ صوفیا کے نزدیک خدا دل میں رہتا ہے، مگر شاعر یہاں انسانی محدودیت کا ذکر کر رہا ہے کہ زبانی کلامی دعووں سے ہٹ کر معرفت کی اصل حقیقت سے ہم ناآشنا ہیں۔ یہ شعر انسان کی تشنہ لبی اور خدا کی غیبی صفت کو بڑی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ آتش نے محبوب کو “صنم” کہہ کر حسنِ تعلیل سے کام لیا ہے، جو کہ مجاز سے حقیقت کی طرف ایک سفر ہے۔

بقولِ شاعر :

کس آئنے میں نہیں جلوہ گر تری تمثال

تجھے سمجھتے ہیں ہم این و آں نہیں معلوم

شعر نمبر 3

اخیر ہو گئے غفلت میں دن جوانی کے

بہارِ عمر ہوئی کب خزاں نہیں معلوم

مشکل الفاظ کے معانی:

اخیر ہونا: ختم ہونا، انجام کو پہنچنا۔

غفلت: بے خبری، لاپروائی۔

بہارِ عمر: جوانی کا زمانہ۔

مفہوم:

جوانی کے دن لاپروائی اور کھیل کود میں ختم ہو گئے، پتا ہی نہیں چلا کہ کب جوانی کی بہار بڑھاپے کی خزاں میں بدل گئی۔

تشریح:

اس شعر میں آتش انسانی زندگی کی تیزی اور وقت کے گزرنے کے احساس کو موضوع بناتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان جب جوان ہوتا ہے تو وہ اپنی طاقت اور رعنائی کے زعم میں جینا شروع کر دیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ یہ وقت ہمیشہ رہے گا، اسی غفلت میں وہ اپنی زندگی کا قیمتی ترین سرمایہ یعنی جوانی ضائع کر دیتا ہے۔ جب بڑھاپا دستک دیتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ جوانی کے دن تو ختم ہو گئے۔ دوسرے مصرعے میں وہ وقت کی بے رحمی کا ذکر کرتے ہیں کہ عمر کی بہار کب خزاں (بڑھاپے یا زوال) میں تبدیل ہوگئی، اس کا اندازہ تک نہ ہو سکا۔ یہ تبدیلی اتنی خاموشی سے آئی کہ انسان سنبھلنے کا موقع بھی نہ پا سکا۔ یہ شعر ایک آفاقی سچائی پر مبنی ہے کہ انسان وقت کی قدر تب کرتا ہے جب وہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ آتش نے یہاں “بہار” اور “خزاں” کے استعاروں سے زندگی کے تضادات کو واضح کیا ہے۔ جوانی کی رنگینیوں میں گم انسان کو موت اور زوال کی آہٹ سنائی نہیں دیتی، اور یہی انسانی زندگی کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

بقولِ شاعر  :

چھٹیں گے زیست کے پھندے سے کس دن اے آتشؔ

جنازہ ہوگا کب اپنا رواں نہیں معلوم

شعر نمبر 4

یہ اشتیاقِ شہادت میں محو تھا دمِ قتل

لگے ہیں زخم بدن پر کہاں نہیں معلوم

مشکل الفاظ کے معانی:

اشتیاقِ شہادت: شہید ہونے کا شوق یا آرزو۔

محو: گم، ڈوبا ہوا۔

دمِ قتل: قتل ہوتے وقت۔

مفہوم:

میں محبوب کے ہاتھوں قتل ہونے کے شوق میں اس قدر گم تھا کہ مجھے یہ بھی احساس نہ ہوا کہ میرے جسم پر کہاں کہاں زخم لگے۔

تشریح:

یہ شعر عشقِ صادق کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔ کلاسیکی اردو شاعری میں عاشق کا سب سے بڑا اعزاز محبوب کے ہاتھوں قتل ہونا سمجھا جاتا ہے۔ آتش کہتے ہیں کہ جب مجھے قتل کیا جا رہا تھا، تو میں درد یا تکلیف محسوس کرنے کے بجائے اس بات کی خوشی اور شوق میں غرق تھا کہ میں اپنے محبوب کے ہاتھوں قربان ہو رہا ہوں۔ یہ لذتِ آزار کی وہ کیفیت ہے جہاں جسمانی دکھ ہیچ ہو جاتا ہے۔ عاشق اپنے زخموں کی گنتی نہیں کرتا اور نہ ہی اسے یہ ہوش رہتا ہے کہ تلوار کہاں لگی۔ وہ تو بس محبوب کے جمال اور اس کی توجہ میں کھویا رہتا ہے۔ یہاں “زخموں کا نہ معلوم ہونا” بے خودی اور جذبِ عشق کی علامت ہے۔ جب انسان کسی مقصد یا ہستی میں فنا ہو جاتا ہے، تو اسے اپنے وجود کی خبر نہیں رہتی۔ یہ شعر آتش کی قادر الکلامی کا ثبوت ہے جہاں انہوں نے خوں ریزی کے منظر کو بھی ایک روحانی وارفتگی میں بدل دیا ہے۔ یہ قربانی کی وہ منزل ہے جہاں صلہ و ستائش کی تمنا ختم ہو جاتی ہے اور صرف شوق باقی رہتا ہے۔

بقولِ شاعر :

طریق عشق میں دیوانہ وار پھرتا ہوں

خبر گڑھے کی نہیں ہے کنواں نہیں معلوم

شعر نمبر 5

سنا جو ذکرِ الٰہی تو اس صنم نے کہا

عیاں کو جانتے ہیں ہم نہاں نہیں معلوم

مشکل الفاظ کے معانی:

ذکرِ الٰہی: اللہ کا ذکر۔

عیاں: ظاہر، کھلا ہوا۔

نہاں: چھپا ہوا، پوشیدہ۔

مفہوم:

جب محبوب نے خدا کا ذکر سنا تو اس نے کہا کہ ہم صرف ظاہر کو پہچانتے ہیں، پوشیدہ حقیقتوں (غیب) کا ہمیں علم نہیں۔

تشریح:

اس شعر میں آتش نے ایک نازک نفسیاتی اور فلسفیانہ نکتہ بیان کیا ہے۔ یہاں “صنم” سے مراد دنیاوی محبوب بھی ہو سکتا ہے اور وہ انسان بھی جو صرف ظواہر پر یقین رکھتا ہے۔ جب اس کے سامنے خدا کی عظمت اور اس کے ذکر کی بات کی گئی، تو اس نے اعتراف کیا کہ ہماری محدود بصارت صرف اسی چیز کو دیکھ اور سمجھ سکتی ہے جو سامنے ہے (عیاں)۔ جو ذات پردہِ غیب میں ہے یا جو حقائق چھپے ہوئے ہیں (نہاں)، وہ ہماری فہم سے باہر ہیں۔ شاعر یہاں دراصل انسانی عقل کی محدودیت کا رونا رو رہے ہیں کہ انسان صرف مادی دنیا کو دیکھ کر حقیقت سمجھ بیٹھتا ہے، جبکہ اصل حقیقت تو “نہاں” یعنی چھپی ہوئی ہے۔ ایک صوفیانہ رخ یہ بھی ہے کہ محبوب خود خدا کا مظہر ہے، اور وہ کہہ رہا ہے کہ تم مجھے (ظاہر کو) تو دیکھ رہے ہو مگر میرے اندر چھپی ہوئی خدائی حقیقت کو نہیں جانتے۔ یہ شعر ظاہر اور باطن کے درمیان پائے جانے والے فرق کو نمایاں کرتا ہے۔

بقولِ شاعر :

دہن میں آپ کے البتہ ہم کو حجت ہے

کمر کا بھید جو پوچھوں میاں نہیں معلوم

شعر نمبر 6

کیا ہے کس نے طریقِ سلوک سے آگاہ

مرید کس کا ہے پیرِ مغاں نہیں معلوم

مشکل الفاظ کے معانی:

طریقِ سلوک: معرفت کا راستہ، صوفیانہ راہ۔

مرید: شاگرد، پیروی کرنے والا۔

پیرِ مغاں: مے خانے کا مالک، مرشدِ کامل۔

مفہوم:

ہمیں یہ نہیں معلوم کہ پیرِ مغاں (رہبر) نے خود کس سے تربیت حاصل کی اور اسے روحانی راستے کی خبر کس نے دی۔

تشریح:

یہ شعر تصوف کے ایک اہم پہلو “سلسلہ” کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ تصوف میں ہر مرید کا ایک پیر ہوتا ہے اور اس پیر کا اپنا ایک مرشد۔ لیکن آتش یہاں ایک ایسے مقام کی بات کر رہے ہیں جہاں سلسلہ ختم ہو کر ذاتِ الٰہی سے جا ملتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا رہبر (پیرِ مغاں) جو ہمیں معرفت کے جام پلاتا ہے اور ہمیں راہِ حق دکھاتا ہے، وہ خود کس کا فیض یافتہ ہے؟ اس کی اصل کیا ہے؟ یہ ایک ایسا راز ہے جو کسی پر عیاں نہیں۔ یہاں “پیرِ مغاں” کا استعارہ عقلِ کل یا اس کامل ہستی کے لیے ہے جو کائنات کا نظام چلا رہی ہے۔ شاعر حیرت کا اظہار کرتا ہے کہ اس کائنات کے عظیم استاد کو کس نے سکھایا؟ یہ دراصل خدا کی وحدانیت اور اس کے بے استاد ہونے کی طرف ایک شاعرانہ اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔ شعر میں تجسس کی فضا ہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ علم اور حکمت کا آخری منبع کہاں ہے۔

بقولِ شاعر  :

جو ہو تو شوق ہی ہو کوئے یار کا ہادی

کسی کو ورنہ سبیلِ جناں نہیں معلوم

شعر نمبر 7

مری طرح تو نہیں اس کو عشق کا آزار

یہ زرد رہتی ہے کیوں زعفراں نہیں معلوم

مشکل الفاظ کے معانی:

آزار: دکھ، بیماری، تکلیف۔

زعفراں: کیسر (ایک پودا جس کا رنگ پیلا ہوتا ہے)۔

مفہوم:

مجھے نہیں معلوم کہ یہ زعفران کا پھول کیوں پیلا رہتا ہے؟ کیا اسے بھی میری طرح عشق کی بیماری لاحق ہے؟

تشریح:

اس شعر میں آتش نے “حسنِ تعلیل” کا بہترین استعمال کیا ہے، یعنی کسی بات کی ایسی وجہ بیان کرنا جو حقیقت میں نہ ہو مگر شاعرانہ لحاظ سے خوبصورت ہو۔ اردو شاعری میں عاشق کا رنگ زرد (پیلا) ہونا اس کے عشق اور جدائی کے دکھ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ شاعر زعفران کے پودے کو دیکھ کر سوال کرتا ہے کہ اس کا رنگ بھی پیلا ہے، تو کیا اس کی وجہ بھی وہی ہے جو میری ہے؟ کیا زعفران بھی کسی کے عشق میں مبتلا ہے اور اسی غم نے اسے زرد کر دیا ہے؟ حالانکہ زعفران کا قدرتی رنگ ہی پیلا ہوتا ہے، مگر شاعر اسے انسانی جذبات سے جوڑ کر ایک نئی معنویت دے رہا ہے۔ یہ شعر عاشق کی اپنی کیفیت کی عکاسی کرتا ہے کہ اسے ہر پیلی چیز میں اپنا ہی دکھ نظر آتا ہے۔ یہ کائنات کو اپنے احساسات کے آئینے میں دیکھنے کا عمل ہے۔ آتش کی یہ جودتِ طبع قابلِ داد ہے کہ انہوں نے ایک نباتیاتی حقیقت کو عشقیہ واردات میں بدل دیا۔

بقولِ شاعر  :

سنیں گے واقعہ اس کا زبانِ سوسن سے

شهید کس کا ہے یہ ارغواں نہیں معلوم

شعر نمبر 8

جہان و کارِ جہاں سے ہوں بے خبر میں مست

زمیں کدھر ہے کہاں آسماں نہیں معلوم

مشکل الفاظ کے معانی:

کارِ جہاں: دنیا کے کام، دنیا داری۔

مست: بے خود، نشے میں دھت (مراد عشق الٰہی)۔

مفہوم:

میں عشق کی مستی میں دنیا اور دنیا کے کاموں سے اس قدر بے خبر ہوں کہ مجھے زمین و آسمان کی بھی خبر نہیں۔

تشریح:

یہ شعر مکمل طور پر “استغراق” اور “محویت” کی حالت کو بیان کرتا ہے۔ آتش کہتے ہیں کہ جب انسان عشقِ حقیقی کے نشے میں سرشار ہوتا ہے، تو مادی دنیا اس کی نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں رہتی کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے یا لوگ کیا کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنی سمتوں کا ادراک بھی کھو دیتا ہے۔ اسے یہ نہیں پتہ چلتا کہ زمین کہاں ہے اور آسمان کہاں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں زمان و مکان (Time and Space) کی قید ختم ہو جاتی ہے۔ صوفیانہ اصطلاح میں اسے “فنا” کی ایک صورت کہا جا سکتا ہے جہاں سالک اپنی ذات اور کائنات کو بھول کر صرف محبوب کی یاد میں مگن ہو جاتا ہے۔ آتش نے “مست” کا لفظ استعمال کر کے اس روحانی سرور کو واضح کیا ہے جو تمام دنیاوی فکروں سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ یہ شعر لکھنوی شعرا کی اس روایت سے ہٹ کر ہے جو صرف ظاہری سج دھج کی بات کرتے تھے، یہاں آتش کی داخلیت نمایاں ہے۔

بقولِ شاعر  :

خموش ایسا ہوا ہوں میں کم دماغی سے

دہن میں ہے کہ نہیں ہے زباں نہیں معلوم

شعر نمبر 9

سپرد کس کے مرے بعد ہو امانتِ عشق

اٹھائے کون یہ نارِ گراں نہیں معلوم

مشکل الفاظ کے معانی:

امانتِ عشق: عشق کا بوجھ، وہ ذمہ داری جو خدا نے انسان کو دی۔

نارِ گراں: بھاری آگ، مشکل بوجھ۔

مفہوم:

میرے مرنے کے بعد عشق کی یہ عظیم ذمہ داری اور یہ بھاری بوجھ کون اٹھائے گا، مجھے نہیں معلوم۔

تشریح:

یہ شعر اس قرآنی آیت کی طرف اشارہ ہے جس میں ذکر ہے کہ اللہ نے امانت (عشق یا خلافت) زمین، آسمان اور پہاڑوں پر پیش کی مگر سب نے انکار کر دیا اور انسان نے اسے اٹھا لیا۔ آتش کہتے ہیں کہ میں نے اپنی زندگی تو اس “امانتِ عشق” کو نبھاتے ہوئے گزار دی، لیکن اب میرے بعد کوئی ایسا مردِ جری نظر نہیں آتا جو اس آگ جیسے بھاری بوجھ کو اپنے سینے پر سہہ سکے۔ عشق محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک ایسی “نارِ گراں” (بھاری آگ) ہے جو وجود کو جلا دیتی ہے۔ شاعر کو فکر ہے کہ اس کے جانے کے بعد یہ روایتِ عشق ختم نہ ہو جائے۔ یہ شعر عاشق کی انانیت اور اس کے وقار کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ خود کو اس امانت کا سچا امین سمجھتا ہے اور دوسروں میں وہ اہلیت نہیں پاتا۔ عشق کی سختیوں کو آگ سے تشبیہ دینا اس کی تپش اور شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

بقولِ شاعر  :

مری تمہاری محبت ہے شہرۂ آفاق

کسے حقیقتِ ماہ و کتاں نہیں معلوم

شعر نمبر 10

خموش ایسا ہوا ہوں میں کم دماغی سے

دہن میں ہے کہ نہیں ہے زباں نہیں معلوم

مشکل الفاظ کے معانی:

کم دماغی: پریشانی، ذہنی کمزوری، بیزاری۔

دہن: منہ۔

مفہوم:

حالات کی سختی یا ذہنی پریشانی کی وجہ سے میں ایسا خاموش ہوا ہوں کہ مجھے خود پتہ نہیں کہ میرے منہ میں زبان ہے بھی یا نہیں۔

تشریح:

یہ شعر انسانی دکھ اور صدمے کی اس کیفیت کو بیان کرتا ہے جہاں انسان کے پاس الفاظ ختم ہو جاتے ہیں۔ آتش کہتے ہیں کہ زندگی کے تجربات اور عشق کے آلام نے مجھے اس قدر تھکا دیا ہے (کم دماغی) کہ اب مجھ میں بولنے کی سکت نہیں رہی۔ خاموشی میری فطرت بن گئی ہے۔ یہ خاموشی اتنی طویل اور گہری ہے کہ مجھے اپنے وجود کے اعضا تک کا احساس نہیں رہا۔ وہ طنزیہ یا عاجزی کے انداز میں کہتے ہیں کہ شاید میرے منہ میں زبان ہی نہیں رہی، کیونکہ میں نے ایک عرصے سے اسے استعمال نہیں کیا۔ یہ شعر دراصل دنیا کی بے حسی پر ایک گہرا طنز بھی ہو سکتا ہے، جہاں بولنا بے سود ہو جاتا ہے۔ شعری اصطلاح میں اسے “خاموشی کی زبان” کہا جاتا ہے۔ آتش نے اپنی بے بسی کو جس خوبصورتی سے “زباں کے نہ ہونے” سے تعبیر کیا ہے، وہ ان کے فن کا کمال ہے۔

بقولِ شاعر :

عجب نہیں ہے جو اہل سخن ہوں گوشہ نشیں

کسی دہن میں زباں کا مکاں نہیں معلوم

شعر نمبر 11

مری تمہاری محبت ہے شہرۂ آفاق

کسے حقیقتِ ماہ و کتاں نہیں معلوم

مشکل الفاظ کے معانی:

شہرۂ آفاق: پوری دنیا میں مشہور۔

ماہ و کتاں: چاند اور کتان (کتان ایک باریک کپڑا ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ چاندنی دیکھ کر پھٹ جاتا ہے)۔

مفہوم:

ہمارا عشق پوری دنیا میں مشہور ہے، بالکل ویسے ہی جیسے سب کو چاند اور کتان کے کپڑے کی پرانی داستان معلوم ہے۔

تشریح:

اس شعر میں آتش نے ایک قدیم لوک داستان یا شاعرانہ تلمیح کا استعمال کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ “کتان” ایک ایسا باریک کپڑا ہوتا ہے جو چاند کی روشنی پڑتے ہی ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے، گویا وہ چاند کا عاشق ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب! میرا تمہارا عشق کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، یہ تو پوری کائنات میں مشہور ہو چکا ہے۔ جیسے چاند اور کتان کا تعلق ایک مسلمہ حقیقت ہے اور بچہ بچہ اس سے واقف ہے، ویسے ہی ہماری محبت کی داستان بھی زباں زدِ عام ہے۔ یہاں “ماہ” (چاند) محبوب ہے اور “کتان” عاشق (شاعر) ہے جو محبوب کی ایک جھلک دیکھ کر خود کو فنا کر لیتا ہے۔ اس شعر میں لکھنوی مبالغہ آرائی اور تلمیحاتی حسن موجود ہے، جو آتش کے کلام کو دلکش بناتا ہے۔

بقولِ شاعر  :

سپرد کس کے مرے بعد ہو امانتِ عشق

اٹھائے کون یہ نارِ گراں نہیں معلوم

شعر نمبر 12

کس آئنے میں نہیں جلوہ گر تری تمثال

تجھے سمجھتے ہیں ہم این و آں نہیں معلوم

مشکل الفاظ کے معانی:

جلوہ گر: ظاہر ہونا، نظر آنا۔

تمثال: تصویر، عکس۔

این و آں: یہ اور وہ، دنیاوی جھگڑے یا مختلف چیزیں۔

مفہوم:

کائنات کا کوئی ایسا آئینہ (ذرہ) نہیں جہاں تیرا عکس موجود نہ ہو۔ ہم تو صرف تجھے جانتے ہیں، باقی یہ دنیا کیا ہے، ہمیں نہیں معلوم۔

تشریح:

یہ شعر وحدت الشہود اور تصوف کے اس نظریے کی عکاسی کرتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز میں خدا کا جلوہ موجود ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اے محبوبِ حقیقی! تو ہر جگہ موجود ہے، کائنات کا ہر ذرہ تیرے حسن کا آئینہ دار ہے۔ جب ہم ہر طرف تیری ہی تصویر دیکھتے ہیں تو پھر ہمارے لیے “یہ اور وہ” (غیر اللہ) کی تمیز ختم ہو جاتی ہے۔ ہم نے اپنی توجہ صرف تیری ذات پر مرکوز کر دی ہے، اس لیے ہمیں دنیا کی دوسری چیزوں یا حقیقتوں کا کوئی علم نہیں۔ یہ مقامِ توحید ہے جہاں عاشق کو سوائے معبود کے کچھ نظر نہیں آتا۔ آتش نے یہاں “آئینہ” اور “تمثال” کی اصطلاحات سے فلسفہِ وجود کو سادہ الفاظ میں بیان کر دیا ہے۔ یہ شعر انسان کو کائنات کے مشاہدے سے خالق تک پہنچنے کی دعوت دیتا ہے۔

بقولِ شاعر  :

مرے صنم کا کسی کو مکاں نہیں معلوم

خدا کا نام سنا ہے نشاں نہیں معلوم

شعر نمبر 13

ملا تھا خضر کو کس طرح چشمۂ حیواں

ہمیں تو یار کا اپنے دہاں نہیں معلوم

مشکل الفاظ کے معانی:

خضر: ایک پیغمبر جو بھٹکے ہوؤں کو راستہ دکھاتے ہیں اور جنہوں نے آبِ حیات پیا۔

چشمۂ حیواں: آبِ حیات کا چشمہ، جسے پی کر زندگی جاوید مل جاتی ہے۔

دہاں: منہ (محبوب کا چھوٹا سا منہ)۔

مفہوم:

حضرت خضر کو آبِ حیات کا چشمہ کیسے مل گیا، یہ وہی جانتے ہوں گے، ہمیں تو اپنے محبوب کا چھوٹا سا منہ تک نظر نہیں آتا (وہ بھی ایک پوشیدہ راز ہے)۔

تشریح:

اس شعر میں آتش نے روایتی عشقیہ مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے۔ اردو شاعری میں محبوب کا منہ (دہن) اس قدر چھوٹا تصور کیا جاتا ہے کہ وہ معدوم معلوم ہوتا ہے، یعنی “عنقا” کی طرح جس کا نام ہے مگر وجود نہیں۔ شاعر طنزیہ انداز میں کہتا ہے کہ لوگ حیران ہوتے ہیں کہ حضرت خضر نے اندھیروں میں چھپا آبِ حیات کا چشمہ کیسے ڈھونڈ لیا، مگر میرے لیے تو اس سے بڑا معمہ محبوب کا منہ ڈھونڈنا ہے۔ وہ بھی ایک ایسا راز ہے جو نظر نہیں آتا۔ یہاں شاعر نے اپنی محرومی اور محبوب کی نزاکت کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ محبوب کی گفتگو اور اس کے لبوں کی تمنا کو آبِ حیات سے تشبیہ دی گئی ہے، جس کی تلاش میں عاشق بھٹک رہا ہے۔ یہ شعر آتش کی شگفتہ بیانی کا بہترین نمونہ ہے۔

بقولِ شاعر  :

دہن میں آپ کے البتہ ہم کو حجت ہے

کمر کا بھید جو پوچھوں میاں نہیں معلوم

شعر نمبر 14

کھلی ہے خانۂ صیاد میں ہماری آنکھ

قفس کو جانتے ہیں آشیاں نہیں معلوم

مشکل الفاظ کے معانی:

خانۂ صیاد: شکاری کا گھر۔

قفس: پنجرہ۔

آشیاں: گھونسلہ، گھر۔

مفہوم:

ہم تو پیدا ہی قید میں ہوئے ہیں، اس لیے ہمیں صرف پنجرے کا پتہ ہے، ہم نہیں جانتے کہ گھر یا آزادی کیا ہوتی ہے۔

تشریح:

یہ شعر انسانی تقدیر اور جبری ماحول کی بہت بڑی علامت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہے، ہم نے خود کو صیاد (دنیا یا حالات) کی قید میں پایا ہے۔ ہماری آنکھ ہی پنجرے میں کھلی ہے۔ چونکہ ہم نے کبھی آزادی دیکھی ہی نہیں، اس لیے ہمارے لیے یہ پنجرہ ہی سب کچھ ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ چمن کیسا ہوتا ہے یا گھونسلہ کسے کہتے ہیں۔ یہ شعر ان لوگوں کی ترجمانی کرتا ہے جو نسل در نسل غلامی یا مصائب کا شکار رہے ہوں اور وہ ان مصائب کو ہی اپنی زندگی کا مقدر سمجھ لیں۔ صوفیانہ لحاظ سے یہ دنیا ایک قفس ہے اور روح اس میں قید ہے، روح بھول چکی ہے کہ اس کا اصل وطن (عالمِ ارواح) کتنا آزاد اور وسیع تھا۔ آتش نے یہاں قید و بند کی اذیت کو ایک دائمی کیفیت کے طور پر پیش کیا ہے۔

بقولِ شاعر  :

چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم

نہال کس کو کرے باغباں نہیں معلوم

شعر نمبر 15

طریقِ عشق میں دیوانہ وار پھرتا ہوں

خبر گڑھے کی نہیں ہے کنواں نہیں معلوم

مشکل الفاظ کے معانی:

طریقِ عشق: عشق کا راستہ۔

دیوانہ وار: پاگلوں کی طرح۔

مفہوم:

میں عشق کی راہ میں اس قدر دیوانگی سے چل رہا ہوں کہ مجھے راستے کی خطرناکیوں، گڑھوں اور کنوؤں کا کوئی ہوش نہیں۔

تشریح:

عشق جب جنون کی حد تک پہنچ جاتا ہے تو انسان مصلحت اندیشی اور احتیاط کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔ آتش کہتے ہیں کہ میں محبت کے اس کٹھن راستے پر ایک دیوانے کی طرح دوڑ رہا ہوں۔ میری نظر صرف منزل (محبوب) پر ہے، اس لیے مجھے یہ دکھائی نہیں دیتا کہ راستے میں کہاں گڑھا ہے اور کہاں گہرا کنواں۔ یعنی میں خطرات سے بے نیاز ہو چکا ہوں۔ یہ بے خوفی دراصل عشق کی طاقت ہے۔ جب تک انسان نفع و نقصان کا سوچتا ہے، وہ عاشق نہیں کہلا سکتا۔ یہاں “گڑھا” اور “کنواں” دنیاوی رکاوٹوں اور مصائب کی علامتیں ہیں۔ عاشق ان تمام چیزوں سے بے خبر ہو کر اپنی دھن میں مگن رہتا ہے۔ یہ شعر جوش اور ولولے کی کیفیت کو بیان کرتا ہے جو آتش کی شاعری کا ایک خاص پہلو ہے۔

بقولِ شاعر  :

یہ اشتیاقِ شہادت میں محو تھا دمِ قتل

لگے ہیں زخم بدن پر کہاں نہیں معلوم

شعر نمبر 16

جو ہو تو شوق ہی ہو کوئے یار کا ہادی

کسی کو ورنہ سبیلِ جناں نہیں معلوم

مشکل الفاظ کے معانی:

کوئے یار: محبوب کی گلی۔

ہادی: راستہ دکھانے والا، رہبر۔

سبیلِ جناں: جنت کا راستہ۔

مفہوم:

اگر محبوب کی گلی تک پہنچنا ہے تو صرف “شوق” ہی آپ کا رہبر بن سکتا ہے، ورنہ کسی کو یہ معلوم نہیں کہ جنت (یا محبوب تک پہنچنے) کا راستہ کہاں ہے۔

تشریح:

آتش کہتے ہیں کہ اللہ یا محبوبِ حقیقی تک پہنچنے کے لیے عقل کافی نہیں بلکہ سچا جذبہ اور شوق ضروری ہے۔ محبوب کی گلی وہ منزل ہے جس کا راستہ نقشوں یا کتابوں میں نہیں ملتا۔ اگر انسان کے دل میں تڑپ اور شوقِ صادق ہو، تو وہی شوق اسے منزل تک لے جاتا ہے۔ دوسرے مصرعے میں وہ “کوئے یار” کو “جنت” سے تعبیر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جنت کا راستہ بھی وہی ہے جو محبوب کے در تک جاتا ہے، مگر اس راستے کی خبر کسی عام مسافر کو نہیں ہو سکتی۔ یہ صرف وہی جانتا ہے جس کے دل میں عشق کی آگ روشن ہو۔ یہاں آتش نے عشق کو عقل پر فوقیت دی ہے اور اسے ہی اصل راہنما قرار دیا ہے۔ یہ شعر منزل کی دشواری اور شوق کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

بقولِ شاعر  :

کیا ہے کس نے طریقِ سلوک سے آگاہ

مرید کس کا ہے پیرِ مغاں نہیں معلوم

شعر نمبر 17

دہن میں آپ کے البتہ ہم کو حجت ہے

کمر کا بھید جو پوچھوں میاں نہیں معلوم

مشکل الفاظ کے معانی:

حجت: دلیل، بحث، جھگڑا۔

بھید: راز۔

کمر: (محبوب کی) پتلی کمر۔

مفہوم:

آپ کے منہ (دہن) کے وجود پر تو ہم پھر بھی کوئی بحث کر لیں گے، مگر آپ کی کمر کا راز تو ایسا ہے جو کسی کو معلوم ہی نہیں۔

تشریح:

لکھنوی شاعری میں محبوب کی کمر کو اس قدر پتلا دکھایا جاتا ہے کہ وہ “لا موجود” (جس کا وجود نہ ہو) کہلاتی ہے۔ آتش یہاں اسی روایتی مضمون کو طنزیہ اور شوخ انداز میں باندھ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اے محبوب! تمہارا منہ تو شاید پھر بھی بحث مباحثے سے ثابت ہو جائے، لیکن تمہاری کمر کی نزاکت اور اس کے ہونے کا راز تو ایسا گہرا ہے کہ کوئی اسے سمجھ ہی نہیں پایا۔ یہ سراسر شاعرانہ تخیل اور مبالغہ آرائی ہے جو اس دور کے لکھنؤ میں بہت مقبول تھی۔ یہاں “میاں” کا لفظ تخاطب کے لیے استعمال ہوا ہے جو گفتگو میں بے تکلفی پیدا کر رہا ہے۔ یہ شعر غزل کے سنجیدہ صوفیانہ اشعار کے درمیان ایک شگفتہ وقفے کی طرح ہے، جو آتش کی رنگارنگ طبیعت کا پتا دیتا ہے۔

بقولِ شاعر  :

ملا تھا خضر کو کس طرح چشمۂ حیواں

ہمیں تو یار کا اپنے دہاں نہیں معلوم

شعر نمبر 18

نسیمِ صبح نے کیسا یہ اس کو بھڑکایا

ہنوز آتشِ گل کا دھواں نہیں معلوم

مشکل الفاظ کے معانی:

نسیمِ صبح: صبح کی ٹھنڈی ہوا، صبا۔

ہنوز: اب تک۔

آتشِ گل: پھول کی آگ (پھول کی سرخی کو آگ سے تشبیہ دی گئی ہے)۔

مفہوم:

صبح کی ہوا نے پھول کی سرخی (آگ) کو کیسا بھڑکایا ہے، مگر عجیب بات ہے کہ اس آگ کا دھواں اب تک نظر نہیں آیا۔

تشریح:

اس شعر میں آتش نے نہایت عمدہ “تشبیہ” اور “استعارہ” استعمال کیا ہے۔ سرخ پھول جب باغ میں کھلتا ہے تو وہ آگ کے شعلے کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب صبح کی ہوا چلی، تو اس نے اس “آتشِ گل” (پھول کی آگ) کو مزید ہوا دی جس سے وہ دہکنے لگا۔ لیکن یہ کیسی آگ ہے کہ اس کی سرخی اور تپش تو نظر آ رہی ہے مگر اس کا دھواں کہیں نظر نہیں آتا۔ دراصل پھول کی رنگینی کو آگ کہنا اور ہوا کے چلنے کو اسے بھڑکانا کہنا ایک بہت بڑا تخلیقی تصور ہے۔ یہ شعر فطرت کے مشاہدے اور اسے انسانی جذبات سے ہم آہنگ کرنے کی بہترین مثال ہے۔ شاعر یہاں حیرت کا اظہار کر رہا ہے جو کہ جمالیاتی حس کو بیدار کرتی ہے۔

بقولِ شاعر  :

مری طرح تو نہیں اس کو عشق کا آزار

یہ زرد رہتی ہے کیوں زعفراں نہیں معلوم

شعر نمبر 19

سنیں گے واقعہ اس کا زبانِ سوسن سے

شہید کس کا ہے یہ ارغواں نہیں معلوم

مشکل الفاظ کے معانی:

سوسن: ایک پھول جس کی پنکھڑیاں زبان کی طرح ہوتی ہیں۔

ارغواں: ایک سرخ رنگ کا پھول۔

شہید: محبوب کی راہ میں جان دینے والا۔

مفہوم:

اس سرخ پھول (ارغواں) کی شہادت کی کہانی ہم سوسن کے پھول سے سنیں گے، کیونکہ ہمیں نہیں پتہ کہ یہ کس کے عشق میں قتل ہوا ہے۔

تشریح:

آتش نے یہاں “سوسن” کے پھول کو “گویا” (بولنے والا) قرار دیا ہے کیونکہ اس کی ساخت زبان کی طرح ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ جو ارغوانی رنگ کا سرخ پھول ہے، یہ یقیناً کسی کا شہید ہے (کیونکہ سرخ رنگ خون کی علامت ہے)۔ اب یہ کس کے ہاتھ سے مارا گیا اور اس پر کیا گزری، یہ داستان سوسن کا پھول ہی سنا سکتا ہے کیونکہ اس کے پاس “زبان” موجود ہے۔ یہاں باغ کو ایک میدانِ جنگ یا میدانِ عشق کے طور پر پیش کیا گیا ہے جہاں پھولوں کی رنگینی کو خونِ ناحق سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یہ شعر آتش کی امیجری (تصویر کاری) کا بہترین نمونہ ہے، جہاں وہ بے جان پھولوں کو جیتے جاگتے کرداروں میں بدل دیتے ہیں۔

بقولِ شاعر  :

یہ اشتیاقِ شہادت میں محو تھا دمِ قتل

لگے ہیں زخم بدن پر کہاں نہیں معلوم

شعر نمبر 20

کنارِ آب چلے دورِ جام یا لبِ کشت

شکار ہووے بطِ مے کہاں نہیں معلوم

مشکل الفاظ کے معانی:

کنارِ آب: ندی کا کنارہ۔

دورِ جام: شراب کے پیالے کا گردش کرنا۔

لبِ کشت: کھیت کا کنارہ۔

بطِ مے: شراب کی صراحی (جو بطخ کی شکل کی ہوتی تھی)۔

مفہوم:

ندی کے کنارے یا کھیتوں کے پاس شراب کا دور چل رہا ہے، پتہ نہیں یہ “شراب کی بطخ” (صراحی) کہاں جا کر ختم ہوگی یا کس کا شکار بنے گی۔

تشریح:

یہ شعر آتش کے لکھنوی رنگِ عیش و نشاط کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ مے نوشی اور فطرت کے نظاروں کو یکجا کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ایک طرف پانی کا کنارہ ہے اور دوسری طرف لہلہاتے کھیت، اور ان کے درمیان مے نوشی کی محفل جمی ہوئی ہے۔ “بطِ مے” اس زمانے کی صراحی ہوتی تھی جس کی گردن بطخ کی طرح لمبی ہوتی تھی۔ شاعر کہتا ہے کہ یہ صراحی آج کس کا شکار ہوگی، یعنی کس کے حلق کو تر کرے گی، یہ کہنا مشکل ہے۔ یہاں فضا بہت پرلطف اور رنگین دکھائی گئی ہے۔ زندگی کو خوشی اور مستی میں گزارنے کا یہ پیغام آتش کے کلام میں اکثر ملتا ہے، جو ان کے قلندرانہ مزاج کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

بقولِ شاعر  :

جہان و کارِ جہاں سے ہوں بے خبر میں مست

زمیں کدھر ہے کہاں آسماں نہیں معلوم

شعر نمبر 21

رسائی جس کی نہیں اے صنم درِ دل تک

یقیں ہے اس کو ترا آستاں نہیں معلوم

مشکل الفاظ کے معانی:

رسائی: پہنچ۔

درِ دل: دل کا دروازہ۔

آستاں: چوکھٹ، ٹھکانہ۔

مفہوم:

اے محبوب! جس شخص کی پہنچ میرے دل تک نہیں ہو سکی، یقیناً اسے تیرے گھر کا پتا بھی نہیں معلوم ہو سکتا۔

تشریح:

اس شعر میں آتش نے دل کو خدا کا گھر قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو شخص روحانی طور پر اتنا پست ہے کہ وہ انسانی دل کی حقیقت یا میرے دل کے جذبات تک نہیں پہنچ سکتا، وہ تیرے آستانے (خدا کی بارگاہ) تک کیسے پہنچے گا؟ گویا دل تک پہنچنا ہی رب تک پہنچنے کی پہلی سیڑھی ہے۔ اگر کوئی دل کی قدر نہیں جانتا تو وہ معرفتِ الٰہی سے بھی محروم رہے گا۔ یہاں شاعر نے اپنے دل کی عظمت بیان کی ہے کہ میرا دل تیرے حسن کا اصل مقام ہے، اور جو یہاں تک نہیں آیا وہ بھٹکا ہوا مسافر ہے۔ یہ شعر انسانی رشتوں اور روحانی تعلق کے گہرے ربط کو ظاہر کرتا ہے۔

بقولِ شاعر  :

کس آئنے میں نہیں جلوہ گر تری تمثال

تجھے سمجھتے ہیں ہم این و آں نہیں معلوم

شعر نمبر 22

عجب نہیں ہے جو اہل سخن ہوں گوشہ نشیں

کسی دہن میں زباں کا مکاں نہیں معلوم

مشکل الفاظ کے معانی:

اہلِ سخن: شاعر، ادیب، دانشور۔

گوشہ نشیں: تنہائی پسند، دنیا سے الگ تھلگ۔

مفہوم:

اگر شاعر اور صاحبِ علم لوگ گوشہ نشینی اختیار کر لیں تو اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں، کیونکہ اب لوگوں کے منہ میں زبان (سچ بولنے یا قدر دانی کی طاقت) نہیں رہی۔

تشریح:

یہ شعر معاشرتی بے حسی اور قدر شناسی کے فقدان پر مبنی ہے۔ آتش کہتے ہیں کہ وہ لوگ جو علم و ادب کے مالک ہیں، اگر وہ دنیا سے کٹ کر تنہائی میں بیٹھ گئے ہیں تو یہ ان کا احتجاج ہے۔ جب زمانے میں سچ سننے اور سچ بولنے والے ختم ہو جائیں، اور جب لفظوں کی حرمت باقی نہ رہے، تو صاحبِ بصیرت لوگ خاموش ہو جانا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔ “زباں کا مکاں نہ معلوم ہونا” اس بات کا استعارہ ہے کہ اب لوگوں نے اپنی زبانیں بیچ دی ہیں یا وہ حق گوئی بھول چکے ہیں۔ یہ شعر آتش کی انا اور ان کے بلند مرتبے کا اظہار بھی ہے کہ وہ ایسے معاشرے میں بولنا پسند نہیں کرتے جہاں قدر دان نہ ہوں۔

بقولِ شاعر  :

خموش ایسا ہوا ہوں میں کم دماغی سے

دہن میں ہے کہ نہیں ہے زباں نہیں معلوم

شعر نمبر 23

چھٹیں گے زیست کے پھندے سے کس دن اے آتشؔ

جنازہ ہوگا کب اپنا رواں نہیں معلوم

مشکل الفاظ کے معانی:

زیست کا پھندا: زندگی کی قید، زندگی کی مشکلات۔

رواں ہونا: چلنا، روانہ ہونا۔

مفہوم:

اے آتش! ہمیں اس زندگی کی مصیبتوں اور قید سے کب نجات ملے گی؟ ہمارا جنازہ کب اٹھے گا، اس کا ہمیں علم نہیں۔

تشریح:

یہ غزل کا مقطع ہے جس میں آتش نے زندگی کو ایک “پھندے” (جال) سے تشبیہ دی ہے۔ عام طور پر لوگ زندگی کی دعا مانگتے ہیں، مگر صوفی منش شاعر کے لیے یہ زندگی ایک بوجھ اور قید ہے جس سے وہ نجات چاہتا ہے۔ وہ سوال کرتا ہے کہ یہ زندگی کی تگ و دو اور اس کے جنجال کب ختم ہوں گے؟ موت ہی وہ راستہ ہے جو اس قید سے آزادی دلائے گا، مگر المیہ یہ ہے کہ موت کا وقت کسی کو معلوم نہیں۔ شاعر یہاں بے صبری سے اس وقت کا انتظار کر رہا ہے جب اس کا جنازہ اٹھے اور وہ اس عارضی دنیا سے رخصت ہو کر اپنے اصل مقام کو پہنچ جائے۔ اس شعر میں یاسیت (مایوسی) کے بجائے ایک طرح کی روحانی تڑپ اور دنیا سے بیزاری نظر آتی ہے جو کہ آتش کے کلام کا ایک اہم پہلو ہے۔

بقولِ شاعر  :

آخیر ہو گئے غفلت میں دن جوانی کے

بہارِ عمر ہوئی کب خزاں نہیں معلوم

Leave a Reply