دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے

دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے کلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے زمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے تمہارے شہیدوں میں داخل ہوئے ہیں گل و لالہ و ارغواں کیسے کیسے بہار آئی ہے نشہ میں جھومتے ہیں

چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم

چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم خواجہ حیدر علی آتش دبستانِ لکھنؤ کے سب سے معتبر اور صاحبِ طرز شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں لکھنوی تہذیب کا رچاؤ، زبان کی صفائی اور تصوف کا رنگ نمایاں ہے۔ زیرِ نظر غزل ان کے مخصوص رنگِ تغزل کی عکاس ہے جس میں وہ دنیا

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا کیا کیا الجھتا ہے تری زلفوں کے تار سے بخیہ طلب ہے سینۂ صد چاک شانہ کیا زیر زمیں سے آتا ہے جو گل سو زر بکف قاروں نے