دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد

شعر نمبر 1

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد

اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد

مشکل الفاظ کے معانی:

ستم: ظلم، ناانصافی، سختیاں۔

وفا: نبھانا، پیار میں ثابت قدمی۔

سوا: علاوہ، بغیر۔

مفہوم:

شاعر کہتا ہے کہ میں محبت کی اس منزل پر پہنچ گیا ہوں جہاں مجھے دنیا کے دیے ہوئے دکھ یاد ہیں اور نہ ہی اپنی وفاداریوں کا احساس، بس اب صرف محبت ہی میرا اوڑھنا بچھونا ہے۔

تشریح:

جگر مراد آبادی اس مطلع میں اپنی کیفیتِ عشق کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کی پوری شخصیت کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ شاعر کے مطابق، ماضی میں دنیا والوں نے ان پر جو مظالم ڈھائے، جو طنز کیے اور جو رکاوٹیں کھڑی کیں، اب وہ سب ان کے ذہن سے مٹ چکے ہیں۔ عام طور پر انسان اپنی قربانیاں اور وفائیں یاد رکھتا ہے، لیکن جگر کہتے ہیں کہ وہ اپنے محبوب کی محبت میں اس قدر ڈوب چکے ہیں کہ انہیں اپنی وہ وفاداری بھی یاد نہیں رہی جو انہوں نے کٹھن حالات میں نبھائی تھی۔ اب ان کا دل و دماغ تمام مادی اور دنیاوی سوچوں سے پاک ہو چکا ہے۔ ان کی توجہ کا واحد مرکز صرف اور صرف “محبت” ہے۔ یہ وہ مقامِ عشق ہے جہاں انسان اپنی ذات کو بھول کر فنا ہو جاتا ہے۔ جب انسان سچی محبت میں گرفتار ہوتا ہے، تو اسے نہ تو دشمنوں کا خوف رہتا ہے اور نہ ہی اپنی نیکیوں کا تکبر۔ شاعر کا یہ شعر ان کی زندگی کے اس دور کی عکاسی کرتا ہے جہاں وہ ہر قسم کے گلے شکووں سے بلند ہو کر صرف جذبہِ عشق کو اپنی زندگی کا مقصد بنا چکے ہیں۔ بقولِ شاعر، اب ان کی دنیا صرف محبوب کے گرد گھومتی ہے اور وہ باقی سب کچھ فراموش کر چکے ہیں۔

شعر نمبر 2

میں شکوہ بہ لب تھا مجھے یہ بھی نہ رہا یاد

شاید کہ میرے بھولنے والے نے کیا یاد

مشکل الفاظ کے معانی:

شکوہ بہ لب: ہونٹوں پر شکایت ہونا۔

بھولنے والا: وہ جو بھول گیا ہو (مراد محبوب)۔

شاید: ہو سکتا ہے، غالباً۔

مفہوم:

میرے ہونٹوں پر محبوب سے بہت سے شکوے تھے، لیکن اچانک میں سب بھول گیا؛ شاید میرے محبوب نے مجھے کہیں یاد کر لیا ہے، جس کا اثر میرے دل پر ہوا۔

تشریح:

اس شعر میں جگر مراد آبادی نے نفسیاتی نکتہ بیان کیا ہے کہ محبت میں دلوں کے درمیان ایک غیبی رشتہ ہوتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ وہ اپنے محبوب کی بے رخی اور لاپروائی سے تنگ آ کر بہت سے گلے شکوے زبان پر لانے والے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ جب محبوب ملے تو اسے بتائیں کہ اس نے کتنی بے وفائی کی ہے، لیکن جیسے ہی وہ شکایت کرنے بیٹھے، ان کے ذہن سے تمام شکوے مٹ گئے۔ شاعر کو محسوس ہوتا ہے کہ شاید اسی لمحے ان کے محبوب نے انہیں پیار سے یاد کیا ہوگا، اور محبوب کی اس یاد کی تڑپ ان کے دل تک پہنچ گئی، جس نے تمام تلخیوں کو مٹا دیا۔ بقولِ شاعر، سچا عاشق اپنے محبوب کی ایک جھلک یا ایک یاد پر اپنی برسوں کی شکایتیں قربان کر دیتا ہے۔ وہ اپنے محبوب کو “بھولنے والا” کہہ رہے ہیں جو کہ ایک طنز بھی ہے اور محبت کا اظہار بھی۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ جب اسے احساس ہو کہ سامنے والا اسے یاد کر رہا ہے، تو اس کا غصہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ شاعر یہاں اپنی پشیمانی کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ وہ کیوں دنیا کے سامنے محبوب کی شکایت کرنے چلے تھے، جبکہ محبوب تو شاید انہیں یاد کر رہا تھا۔ یہ شعر عشق کی اس گہرائی کو ظاہر کرتا ہے جہاں زبان کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ دل سے دل کو راہ ہوتی ہے۔

شعر نمبر 3

کیا جانیے کیا ہو گیا اربابِ جنوں کو

مرنے کی ادا یاد نہ جینے کی ادا یاد

مشکل الفاظ کے معانی:

اربابِ جنوں: دیوانے، عشق میں پاگل لوگ۔

ادا: ڈھنگ، طریقہ، انداز۔

کیا جانیے: کیا معلوم، پتہ نہیں۔

مفہوم:

نہ جانے آج کل کے عاشقوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ نہ تو ڈھنگ سے جی سکتے ہیں اور نہ ہی عشق میں مرنا جانتے ہیں۔

تشریح:

جگر مراد آبادی اس شعر میں اپنے عہد کے عاشقوں اور عشق کی گرتی ہوئی روایات پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔ “اربابِ جنوں” سے مراد وہ لوگ ہیں جو عشق کی راہ میں اپنی عقل و ہوش کھو دیتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ قدیم دور میں عشق کے کچھ آداب ہوا کرتے تھے؛ عاشق یا تو محبوب کے لیے جیتا تھا یا پھر اس کی یاد میں جان دے دیتا تھا۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ عشق کے دعویداروں میں وہ تڑپ اور سچائی باقی نہیں رہی۔ وہ نہ تو زندگی کی رعنائیوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں اور نہ ہی عشق کی آزمائشوں میں جان دے کر سرخرو ہونا جانتے ہیں۔ بقولِ شاعر، وہ ایک ایسی درمیانی کیفیت میں پھنس گئے ہیں جہاں نہ تو مکمل دیوانگی ہے اور نہ ہی مکمل ہوشیاری۔ ان کے پاس جینے کا کوئی ڈھنگ ہے اور نہ ہی عزت کے ساتھ مرنے کا سلیقہ۔ یہ شعر دراصل اس دور کی عکاسی کرتا ہے جہاں جذبات میں سطحی پن آ گیا تھا۔ جگر کہتے ہیں کہ عشق صرف دعووں کا نام نہیں بلکہ یہ تو ایک فن ہے، جس میں جینے کا بھی ایک انداز ہوتا ہے اور مرنے کا بھی ایک خاص وقار۔ آج کے عاشق ان دونوں خوبیوں سے محروم ہو چکے ہیں، جو کہ عشق کی روایت کے لیے ایک المیہ ہے۔

شعر نمبر 4

میں ترکِ رہ و رسمِ جنوں کر ہی چکا تھا

کیوں آ گئی ایسے میں تیری لغزشِ پا یاد

مشکل الفاظ کے معانی:

ترک کرنا: چھوڑ دینا، دستبردار ہونا۔

رہ و رسمِ جنوں: دیوانگی کے طور طریقے، عشق کا راستہ۔

لغزشِ پا: پاؤں کا لڑکھڑانا۔

مفہوم:

میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ اب میں عشق و محبت کی تڑپ چھوڑ دوں گا، لیکن اچانک تمہاری اداؤں اور تمہارے پاؤں کی لڑکھڑاہٹ کی یاد نے مجھے دوبارہ بے قرار کر دیا۔

تشریح:

اس شعر میں شاعر انسانی ارادے کی کمزوری اور محبت کی طاقت کا موازنہ کر رہے ہیں۔ جگر کہتے ہیں کہ محبوب کی مسلسل بے رخی اور دنیا کی تکلیفوں سے تنگ آ کر انہوں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اب “ترکِ عشق” کر دیں گے۔ انہوں نے دیوانگی کے تمام راستوں کو خیرباد کہنے کا پکا ارادہ کر لیا تھا تاکہ وہ ایک سکون کی زندگی گزار سکیں۔ لیکن عین اس وقت جب وہ اس فیصلے پر عمل کرنے والے تھے، انہیں اپنے محبوب کے چلنے کا وہ انداز یا وہ لڑکھڑاہٹ یاد آ گئی جو ان کے دل کو بھاتی تھی۔ محبوب کی ایک معمولی سی ادا یا اس کی پاؤں کی لغزش نے شاعر کے تمام ارادوں پر پانی پھیر دیا۔ بقولِ شاعر، عشق سے توبہ کرنا آسان نہیں ہوتا، کیونکہ محبوب کی یادیں کسی نہ کسی بہانے دل کے دروازے پر دستک دیتی رہتی ہیں۔ یہاں “لغزشِ پا” محبوب کی ایک ایسی معصومانہ ادا کی علامت ہے جو عاشق کے دل میں دوبارہ محبت کی آگ بھڑکا دیتی ہے۔ شاعر یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ انسان کتنا ہی مضبوط کیوں نہ بن جائے، محبت کی ایک چھوٹی سی یاد اسے دوبارہ اسی راستے پر لے آتی ہے جسے وہ چھوڑنے کا عہد کر چکا ہوتا ہے۔

شعر نمبر 5

کیا لطف کہ میں اپنا پتہ آپ بتاؤں

کیجیے کوئی بھولی ہوئی خاص اپنی ادا یاد

مشکل الفاظ کے معانی:

لطف: مزہ، خوشی۔

خاص ادا: انوکھا انداز، مخصوص طریقہ۔

پتہ: پہچان، ٹھکانہ۔

مفہوم:

اس بات میں کیا مزہ ہے کہ میں خود اپنا تعارف کراؤں؛ بہتر یہ ہے کہ تم خود ہماری وہ پرانی یادیں اور اپنی ادائیں یاد کرو جن کے ذریعے تم مجھے پہچان سکو۔

تشریح:

یہ غزل کا آخری شعر ہے جس میں شاعر محبوب سے اپنی پہچان کا تقاضا ایک منفرد انداز میں کر رہے ہیں۔ محبوب شاید شاعر کو بھول چکا ہے اور اب اس سے اس کا نام یا پتہ پوچھ رہا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اگر میں نے خود زبان سے اپنا حال بتایا یا اپنا پتہ دیا تو اس میں کوئی برائی تو نہیں لیکن وہ “لطف” اور وہ “کیف” نہیں رہے گا جو محبت کا خاصہ ہے۔ شاعر چاہتے ہیں کہ محبوب اپنے دل پر زور دے اور ان لمحوں کو یاد کرے جو انہوں نے اکٹھے گزارے تھے۔ وہ چاہتے ہیں کہ محبوب اپنی ان اداؤں کو یاد کرے جن پر شاعر فدا ہوا کرتا تھا۔ بقولِ شاعر، محبت میں لفظوں کے ذریعے تعارف کرانا ایک طرح کی توہین ہے؛ سچی محبت تو وہ ہے جہاں دل خود گواہی دے کہ یہ وہی شخص ہے جس سے کبھی گہرا تعلق تھا۔ شاعر کا کہنا ہے کہ وہ تو محبوب کے دل میں ہی رہتے ہیں، اس لیے انہیں اپنا پتہ بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر محبوب انہیں یاد کرے گا تو اسے خود بخود سب یاد آ جائے گا۔ یہ شعر محبوب کی بے نیازی پر ایک لطیف چوٹ بھی ہے اور اپنی محبت پر پختہ یقین کا اظہار بھی کہ ایک نہ ایک دن محبوب کو وہ پرانی یادیں ضرور تڑپائیں گی۔

Leave a Reply