|
نمبر |
ضرب المثل |
مفہوم (مطلب) |
|---|---|---|
|
1 |
آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا |
ایک مصیبت سے نکل کر دوسری میں پھنس جانا۔ |
|
2 |
اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت |
وقت گزر جانے کے بعد افسوس کرنا فضول ہے۔ |
|
3 |
انت بھلا سو بھلا |
انجام اچھا ہو تو سب اچھا مانا جاتا ہے۔ |
|
4 |
الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے |
اپنا قصور ہونے کے باوجود دوسرے کو قصوروار ٹھہرانا۔ |
|
5 |
ایک پنتھ دو کاج |
ایک ہی کوشش سے دو کام نکال لینا۔ |
|
6 |
آم کے آم گٹھلیوں کے دام |
دوہرا فائدہ حاصل کرنا۔ |
|
7 |
بغل میں چھری منہ میں رام رام |
ظاہر میں دوست بننا اور دل میں دشمنی رکھنا۔ |
|
8 |
بندر کیا جانے ادرک کا سواد |
بے وقوف انسان اچھی چیز کی قدر نہیں جانتا۔ |
|
9 |
جس کی لاٹھی اس کی بھینس |
طاقتور کا حکم ہی چلتا ہے۔ |
|
10 |
گھر کی مرغی دال برابر |
گھر کی قیمتی چیز یا باصلاحیت انسان کی قدر نہ کرنا۔ |
|
11 |
ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا |
اپنی نا اہلی چھپانے کے لیے بہانے بنانا۔ |
|
12 |
دور کے ڈھول سہانے |
دور کی چیزیں دیکھنے میں اچھی معلوم ہوتی ہیں۔ |
|
13 |
اونچی دکان پھیکا پکوان |
شہرت بہت زیادہ ہو لیکن حقیقت میں کچھ نہ ہو۔ |
|
14 |
چراغ تلے اندھیرا |
دوسروں کو فائدہ پہنچانا مگر اپنوں کو محروم رکھنا۔ |
|
15 |
ہاتھ کنگن کو آرسی کیا |
ظاہر بات کو ثابت کرنے کے لیے دلیل کی ضرورت نہیں۔ |
|
16 |
دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے |
ایک بار نقصان اٹھا کر انسان بہت محتاط ہو جاتا ہے۔ |
|
17 |
ایک مچھلی سارے تالاب کو گندا کرتی ہے |
ایک برے شخص کی وجہ سے پوری جماعت بدنام ہوتی ہے۔ |
|
18 |
تھوتھا چنا باجے گھنا |
کم ظرف انسان بہت زیادہ ڈینگیں مارتا ہے۔ |
|
19 |
جیسی کرنی ویسی بھرنی |
انسان کو اپنے عمل کا ویسا ہی بدلہ ملتا ہے۔ |
|
20 |
دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں |
راز کی بات بہت احتیاط سے کرنی چاہیے۔ |
|
21 |
سانچ کو آنچ نہیں |
سچے آدمی کو کسی قسم کا کوئی خوف نہیں ہوتا۔ |
|
22 |
ضرورت ایجاد کی ماں ہے |
ضرورت پڑنے پر انسان کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتا ہے۔ |
|
23 |
غریبی میں آٹا گیلہ |
مصیبت پر مزید مصیبت آنا۔ |
|
24 |
نو نقد نہ تیرہ ادھار |
نقد کا تھوڑا فائدہ ادھار کے زیادہ فائدے سے بہتر ہے۔ |
|
25 |
اونٹ کے منہ میں زیرہ |
ضرورت زیادہ ہو اور چیز بہت کم ملے۔ |
|
26 |
دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا |
جو بندہ دو طرفہ ہو وہ کہیں کا نہیں رہتا۔ |
|
27 |
بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا |
کسی چیز کا اچانک اور بغیر محنت کے مل جانا۔ |
|
28 |
اندھوں میں کانا راجہ |
جاہلوں میں تھوڑا پڑھا لکھا بھی بڑا عالم سمجھا جاتا ہے۔ |
|
29 |
بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی |
بڑے نقصان میں سے جو بچ جائے وہ غنیمت ہے۔ |
|
30 |
آسمان کو تھوکا منہ پر آتا ہے |
بڑوں کی برائی کرنے سے اپنی ہی عزت کم ہوتی ہے۔ |
|
31 |
پانچوں انگلیاں گھی میں |
ہر طرف سے فائدہ ہی فائدہ ہونا۔ |
|
32 |
چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانا |
اپنی آمدنی یا بساط کے مطابق خرچ کرنا۔ |
|
33 |
چور کی داڑھی میں تنکا |
گناہ گار انسان خود ہی اپنے قول و فعل سے ڈرا ہوتا ہے۔ |
|
34 |
ڈوبتے کو تنکے کا سہارا |
مصیبت زدہ کے لیے تھوڑی سی مدد بھی بہت بڑی ہوتی ہے۔ |
|
35 |
سو سنار کی ایک لوہار کی |
سو چھوٹی تدبیروں پر ایک طاقتور ضرب بھاری ہوتی ہے۔ |
|
36 |
کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا |
دوسروں کی نقل کرنے میں اپنا وقار کھو دینا۔ |
|
37 |
کھودا پہاڑ نکلا چوہا |
بہت زیادہ محنت کرنا اور صلہ بہت کم ملنا۔ |
|
38 |
مان نہ مان میں تیرا مہمان |
زبردستی کسی کے گلے پڑنا۔ |
|
39 |
نیکی کر دریا میں ڈال |
نیکی کر کے بھلا دینا چاہیے، جتلانا نہیں چاہیے۔ |
|
40 |
ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور |
ظاہر میں کچھ اور باطن میں کچھ اور ہونا۔ |
|
41 |
ہینگ لگے نہ پھٹکڑی رنگ بھی چوکھا آئے |
بغیر خرچ اور محنت کے کام بن جانا۔ |
|
42 |
یک نہ شد دو شد |
ایک مصیبت ابھی ختم نہ ہوئی کہ دوسری آ گئی۔ |
|
43 |
آپ کاج مہا کاج |
اپنا کام اپنے ہاتھ سے کرنا ہی سب سے بہتر ہے۔ |
|
44 |
تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی |
لڑائی ہمیشہ دونوں طرف سے ہوتی ہے۔ |
|
45 |
خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے |
صحبت کا اثر ضرور ہوتا ہے۔ |
|
46 |
دال میں کچھ کالا ہے |
کسی معاملے میں شک و شبہ ہونا۔ |
|
47 |
رائی کا پہاڑ بنانا |
چھوٹی سی بات کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کرنا Bra۔ |
|
48 |
بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی |
بچاؤ کی کوشش کے باوجود آخر کار نقصان ہو کر رہنا۔ |
|
49 |
مانگے تانگے کا کام نہیں چلتا |
دوسروں کے سہارے پر زندگی نہیں گزاری جا سکتی۔ |
|
50 |
نیم حکیم خطرہ جان |
اناڑی ڈاکٹر یا کم علم انسان سے نقصان کا ڈر ہوتا ہے۔ |