دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں

شعر نمبر 1

دائم پڑا ہوا تیرے در پر نہیں ہوں میں

خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں

مشکل الفاظ کے معنی:

دائم: ہمیشہ، مسلسل۔

در: دروازہ، چوکھٹ۔

خاک ایسی زندگی پہ: ایسی زندگی پر لعنت یا افسوس۔

مفہوم:

شاعر کہتا ہے کہ میں کوئی بے جان پتھر نہیں ہوں جو ہمیشہ تمہارے دروازے پر پڑا رہوں۔ اگر میری زندگی میں حرکت اور احساس نہیں ہے تو ایسی زندگی فضول ہے۔

تشریح:

اس شعر میں غالب نے اپنی خودداری اور انسانی جبلت کا اظہار کیا ہے۔ اردو کی کلاسیکی شاعری میں یہ روایت رہی ہے کہ عاشق اپنے محبوب کی گلی یا چوکھٹ پر پڑا رہتا ہے اور اسے اپنی معراج سمجھتا ہے، لیکن غالب یہاں اس روایت سے انحراف کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ایک جیتا جاگتا انسان ہوں، میرے اندر جذبات اور احساسات ہیں۔ میں کوئی بے جان پتھر نہیں ہوں جسے جہاں رکھ دیا جائے وہیں پڑا رہے۔ پتھر میں نہ تو حرکت ہوتی ہے اور نہ ہی وہ کسی بے رخی کو محسوس کر سکتا ہے۔ غالب اپنے محبوب سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اگر تم میری طرف توجہ نہیں دیتے اور مجھے مسلسل نظر انداز کر رہے ہو، تو میں کب تک تمہارے در پر پڑا رہوں گا؟ ایک وقت آتا ہے جب انسان کی انا بیدار ہوتی ہے۔ غالب کے نزدیک وہ زندگی جس میں انسان کی کوئی اہمیت نہ ہو اور وہ محض ایک پتھر کی طرح کسی کی چوکھٹ کی زینت بنا رہے، وہ زندگی لائقِ تحسین نہیں بلکہ لائقِ ملامت ہے۔ وہ اپنی بشری کمزوریوں اور جذباتی کیفیات کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجھ میں صبر کی ایک حد ہے کیونکہ میں انسان ہوں، جمادات کی طرح بے حس نہیں ہوں۔

بقولِ شاعر:

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن

بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے

شعر نمبر 2

کیوں گردشِ مدام سے گھبرا نہ جائے دل

انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں

مشکل الفاظ کے معنی:

گردشِ مدام: مسلسل گردش، وقت کے پہیے کا لگاتار گھومنا، مسلسل مصائب۔

پیالہ و ساغر: شراب پینے کا برتن یا جام۔

مفہوم:

مسلسل گردش اور حالات کی تبدیلیوں سے میرا دل کیوں نہ گھبرائے؟ میں ایک حساس انسان ہوں، کوئی بے جان جام یا پیالہ نہیں ہوں جو محفل میں گردش کرتا رہے۔

تشریح:

غالب اس شعر میں انسانی نفسیات کی ایک بڑی حقیقت کو بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان حالات کے تابع ہے اور جب زندگی میں مسلسل پریشانیاں اور گردشیں آتی ہیں تو دل کا گھبرانا ایک فطری عمل ہے۔ وہ اپنی مثال پیالے اور ساغر سے دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ محفلِ رنداں میں پیالہ اور ساغر تو مسلسل ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں گردش کرتے رہتے ہیں، لیکن وہ بے جان ہونے کی وجہ سے اس گردش کی تھکن یا پریشانی کو محسوس نہیں کرتے۔ مگر میں تو ایک گوشت پوست کا انسان ہوں، میرے پاس ایک دل ہے جو دکھتا بھی ہے اور تھکتا بھی ہے۔ زندگی کے شب و روز کی تلخیاں اور زمانے کی بے رحمانہ گردشیں میرے دل پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ غالب یہاں یہ نکتہ واضح کر رہے ہیں کہ انسان کو ہر وقت متحرک اور مصائب کا سامنا کرتے ہوئے دیکھ کر یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ اسے تکلیف نہیں ہوتی۔ وہ اپنی حساسیت کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرا گھبرانا میرے انسان ہونے کی دلیل ہے۔ یہ شعر غالب کے فلسفۂ زندگی اور ان کی عظمتِ انسانی کا عکاس ہے، جہاں وہ انسان کو کائنات کی سب سے حساس اکائی قرار دیتے ہیں۔

بقولِ شاعر:

آئے ہے بے کسیِ عشق پہ رونا غالبؔ

کس کے گھر جائے گا سیلابِ بلا میرے بعد

شعر نمبر 3

یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے

لوحِ جہاں پہ حرفِ مکرر نہیں ہوں میں

مشکل الفاظ کے معنی:

لوحِ جہاں: دنیا کی تختی۔

حرفِ مکرر: وہ لفظ جو دوبارہ لکھا گیا ہو اور جس کی ضرورت نہ ہو۔

مفہوم:

اے میرے رب! یہ دنیا والے مجھے مٹانے کے درپے کیوں ہیں؟ میں اس کائنات کی تختی پر کوئی فالتو یا دوبارہ لکھا ہوا حرف نہیں ہوں کہ مجھے مٹا دیا جائے۔

تشریح:

یہ شعر غالب کی خود اعتمادی اور اپنی انفرادیت کے احساس کا بہترین نمونہ ہے۔ غالب اللہ تعالیٰ سے شکوہ کناں ہیں کہ زمانہ ان کی قدر کرنے کے بجائے انہیں مٹانے اور نیچا دکھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ قدیم زمانے میں جب تختی پر کوئی لفظ غلطی سے دو بار لکھ دیا جاتا تھا تو اسے مٹا دیا جاتا تھا کیونکہ اس کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ غالب کہتے ہیں کہ میں تو اپنی ذات میں انجمن ہوں، میں منفرد ہوں اور میرا کوئی ثانی نہیں ہے۔ کائنات کے اس نقشے میں میرا وجود ایک خاص مقصد کے تحت ہے، میں کوئی ایسی چیز نہیں ہوں جو پہلے سے موجود ہو اور میں اس کی تکرار کر رہا ہوں۔ میری شاعری، میری سوچ اور میرا اندازِ بیاں سب اچھوتا ہے۔ پھر یہ زمانہ مجھے کیوں مٹانا چاہتا ہے؟ یہاں غالب اپنی انفرادیت اور فنکارانہ بڑائی کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ وہ زمانے کی ناقدری پر رنجیدہ ہیں لیکن ساتھ ہی اپنی اہمیت سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایک تخلیق کار اپنی ذات میں واحد ہوتا ہے اور اسے مٹانا دراصل ایک انوکھے نقش کو مٹانے کے مترادف ہے جو دوبارہ کبھی نہیں بن سکتا۔

بقولِ شاعر:

ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے

وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

شعر نمبر 4

کچھ حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطے

آخر گنہگار ہوں کافر نہیں ہوں میں

مشکل الفاظ کے معنی:

عقوبت: عذاب، تکلیف دہ سزا۔

کافر: منکر، خدا کو نہ ماننے والا۔

مفہوم:

سزا دینے میں بھی کوئی انصاف اور حد ہونی چاہیے۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں گنہگار ہوں، لیکن میں کافر تو نہیں ہوں کہ مجھے ایسی کڑی اور مستقل سزا دی جائے۔

تشریح:

اس شعر میں غالب نے گناہ، سزا اور رحمت کے درمیان ایک خوبصورت تعلق کو بیان کیا ہے۔ غالب اپنے رب کے حضور التجا کرتے ہیں کہ میرے گناہوں کی سزا میں سختی کی بھی ایک حد ہونی چاہیے۔ وہ ایک منطقی دلیل پیش کرتے ہیں کہ کفر کی سزا تو دائمی اور سخت ہو سکتی ہے کیونکہ کافر اللہ کی وحدانیت کا منکر ہوتا ہے، لیکن میں تو ایک گنہگار مومن ہوں۔ میں نے خطائیں ضرور کی ہیں، میں نے احکامات کی نافرمانی کی ہوگی، لیکن میرا ایمان سلامت ہے۔ ایک گنہگار انسان سزا کا مستحق تو ہوتا ہے لیکن وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتا۔ غالب یہاں انسانی کمزوریوں کا اعتراف کر رہے ہیں کہ انسان خطا کا پتلا ہے اور گناہ اس کی فطرت میں شامل ہیں، مگر اس کی سزا اتنی سخت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ برداشت سے باہر ہو جائے۔ یہ شعر غالب کے رندانہ انداز اور مذہبی تصورات کے امتزاج کو ظاہر کرتا ہے، جہاں وہ اپنے گناہوں کو تسلیم کرتے ہوئے بھی رحمتِ الٰہی کے طلبگار نظر آتے ہیں۔ وہ سزا میں تخفیف کی درخواست ایک ایسے قیدی کی طرح کر رہے ہیں جو اپنے جرم سے واقف ہے مگر منصف سے رحم کی امید رکھتا ہے۔

بقولِ شاعر:

ہاں اے فلکِ پیر ہم بھی تھے وہاں

کیا ہم کو بھی یہاں سے نکالا گیا تھا؟

شعر نمبر 5

کس واسطے عزیز نہیں جانتے مجھے

لعل و زمرّد و زر و گوہر نہیں ہوں میں

مشکل الفاظ کے معنی:

عزیز: پیارا، محترم۔

لعل و زمرّد: قیمتی پتھر۔

زر و گوہر: سونا اور موتی۔

مفہوم:

تم مجھے اہمیت کیوں نہیں دیتے؟ کیا اس لیے کہ میں کوئی بے جان سونا، چاندی یا قیمتی ہیرا جواہرات نہیں ہوں؟ کیا انسان کی قدر مال و دولت سے کم ہے؟

تشریح:

اس شعر میں غالب نے انسانی قدر و قیمت کے زوال اور مادیت پرستی پر چوٹ کی ہے۔ وہ اپنے محبوب یا زمانے سے شکوہ کرتے ہیں کہ آج کے دور میں انسان کی اہمیت اس کے کردار یا اس کی روح سے نہیں بلکہ اس کے پاس موجود مال و دولت سے لگائی جاتی ہے۔ محبوب کو ہیرے، جواہرات اور سونے چاندی سے تو رغبت ہے لیکن اسے ایک سچے عاشق کے جذبات کی کوئی قدر نہیں۔ غالب کہتے ہیں کہ میں گوشت پوست کا انسان ہوں، میرے اندر محبت کا سمندر موجزن ہے، لیکن تم مجھے اس لیے حقیر سمجھتے ہو کیونکہ میں لعل و زمرد کی طرح چمکتا نہیں ہوں اور نہ ہی میرے پاس دولت کے ڈھیر ہیں۔ یہ معاشرے کی اس تلخ حقیقت کی عکاسی ہے جہاں انسان کو اشیاء کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔ غالب کا دکھ یہ ہے کہ بے جان پتھروں کو تو سینے سے لگایا جاتا ہے اور انہیں “عزیز” رکھا جاتا ہے، مگر ایک جیتا جاگتا حساس فنکار اپنی قدر دانی کے لیے ترس رہا ہے۔ وہ اپنی انسانیت کو مادی اشیاء پر فوقیت دیتے ہیں مگر دنیا کے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں جو جوہرِ انسانی کے بجائے زر و مال کا اسیر ہے۔

بقولِ شاعر:

کوئی ناامیدانہ کر کے نگاہ

تم ہم سے منہ چھپا کر چلے

شعر نمبر 6

رکھتے ہو تم قدم میری آنکھوں سے کیوں دریغ

رتبے میں مہر و ماہ سے کمتر نہیں ہوں میں

مشکل الفاظ کے معنی:

دریغ: بچنا، انکار کرنا، کنارہ کشی کرنا۔

مہر و ماہ: سورج اور چاند۔

مفہوم:

تم میری آنکھوں پر قدم رکھنے (یعنی مجھ سے ملنے یا توجہ دینے) سے کیوں کتراتے ہو؟ میں اپنے مرتبے اور عزت میں سورج اور چاند سے کم نہیں ہوں۔

تشریح:

غالب اپنی انا اور وقار کو آسمان کی بلندیوں تک لے گئے ہیں۔ وہ محبوب سے کہتے ہیں کہ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ مجھ سے ملنا یا میری طرف دیکھنا تمہاری شان کے خلاف ہے، تو یہ تمہاری بھول ہے۔ میری آنکھیں تمہارے قدموں کا فرش بننے کے لیے تیار ہیں، لیکن اسے میری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ میں اپنی عظمت اور روحانی رتبے میں اس کائنات کے سب سے روشن ستاروں یعنی سورج اور چاند کے برابر ہوں۔ جیسے سورج اور چاند پوری دنیا کو روشنی بخشتے ہیں اور ان کا ایک مقام ہے، ویسے ہی ایک شاعر اور ایک بلند مرتبہ انسان کے طور پر میرا مقام بھی نہایت بلند ہے۔ غالب یہاں اپنی خودی کو بلند کرتے ہوئے محبوب کو یہ باور کرا رہے ہیں کہ وہ کوئی معمولی شخص نہیں ہیں۔ اگر محبوب حسن میں بے مثال ہے تو غالب اپنے فن اور شخصیت میں عدیم المثال ہیں۔ وہ محبوب کی بے رخی کا جواب اپنی عظمت کے احساس سے دیتے ہیں۔ یہ غالب کا وہ مخصوص انداز ہے جس میں وہ عجز و انکسار کے بجائے اپنی بڑائی کو اسلوب بنا کر پیش کرتے ہیں اور محبوب کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ جس سے گریز کر رہا ہے وہ خود ایک آفتاب ہے۔

بقولِ شاعر:

جانے کا نہیں شور سخن کا میرے ہرگز

تا حشر جہاں میں میرا دیوان رہے گا

شعر نمبر 7

غالبؔ! وظیفہ خوار ہو دو شاہ کو دعا

وہ دن گئے جو کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں

مشکل الفاظ کے معنی:

وظیفہ خوار: پنشن پانے والا، تنخواہ دار۔

شاہ: بادشاہ (مراد بہادر شاہ ظفر)۔

مفہوم:

اے غالب! اب تم سرکاری وظیفہ حاصل کرتے ہو، اس لیے اب بادشاہ کو دعائیں دو۔ وہ وقت گزر گیا جب تم فخر سے کہتے تھے کہ میں کسی کا ملازم یا نوکر نہیں ہوں۔

تشریح:

یہ غزل کا مقطع ہے جس میں غالب نے اپنی موجودہ حالت پر طنز کیا ہے۔ غالب عمر بھر اپنی آزادی اور انا کے اسیر رہے اور انہوں نے کبھی کسی کی غلامی پسند نہیں کی۔ وہ اپنی خودداری کے لیے مشہور تھے، لیکن زندگی کے آخری ایام میں معاشی حالات نے انہیں مجبور کر دیا کہ وہ قلعہ معلیٰ (بہادر شاہ ظفر کے دربار) سے وابستہ ہو جائیں۔ جب بادشاہ نے ان کا وظیفہ مقرر کر دیا اور وہ دربار کے باقاعدہ شاعر بن گئے، تو غالب نے خود پر یہ چوٹ کی۔ وہ کہتے ہیں کہ اے غالب! اب وہ اپنی انا اور خودداری کی باتیں چھوڑ دو کہ میں کسی کا نوکر نہیں ہوں، اب تو تم بادشاہ کے وظیفہ خوار ہو چکے ہو۔ اب تمہارا کام صرف بادشاہ کی مدح سرائی اور اسے دعائیں دینا ہے۔ اس شعر میں غالب کا ملامتی انداز نمایاں ہے جہاں وہ اپنی مجبوریوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ یہ ان کی زندگی کی ایک تلخ حقیقت کا اظہار ہے کہ حالات کس طرح انسان کی انا کو جھکنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ غالب نے بڑی خوبصورتی سے اپنے ماضی کے دعووں اور حال کی حقیقت کا موازنہ کیا ہے، جس میں ایک طرح کی شرمندگی بھی ہے اور حقیقت پسندی بھی۔

بقولِ شاعر:

ہماری نہ جائیو دامن جھاڑ کے

فرشتے عرش سے کریں گے دیکھ کر

Leave a Reply