دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا احمد فراز اردو شاعری کا وہ معتبر نام ہیں جن کی غزلوں میں جہاں رومانوی رنگ نمایاں ہے، وہاں زمانے کی تلخیوں اور انسانی رویوں کی عکاسی بھی بڑے خوبصورت انداز میں ملتی ہے۔ آپ کی فرمائش کے مطابق اس غزل کی مکمل تشریح، معانی اور مفہوم

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا اب اسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار مرا سخت نادم ہے مجھے دام میں لانے والا صبح دم چھوڑ گیا نکہت گل کی صورت رات کو غنچۂ دل میں سمٹ آنے والا کیا

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں شعر نمبر 1 دائم پڑا ہوا تیرے در پر نہیں ہوں میں خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں مشکل الفاظ کے معنی: دائم: ہمیشہ، مسلسل۔ در: دروازہ، چوکھٹ۔ خاک ایسی زندگی پہ: ایسی زندگی پر لعنت یا افسوس۔ مفہوم: شاعر کہتا ہے کہ

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جاے دل انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے لوح جہاں پہ حرف