کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا

کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا

کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا

آتش و آب کا ممکن نہیں یک جا ہونا

سرِ صحرا تو عناصر بھی بھٹک جاتے ہیں

اس سفر میں کسے راس آئے گا دریا ہونا

کیسے بھوُلوں، وہ شبِ ہجر کے سنّاٹے میں

خشک پتّے کا بھی گِرنا تو دھماکا ہونا

میرے آتے ہی، تیرے رنگ کے فق ہونے سے

میں نے دیکھا ہے بھری بزم کا صحرا ہونا

توُ جو چاہے تو اسے اپنا مقدّر کہ لوُں

ساتھ انبوہ کے چلتے ہوُئے، تنہا ہونا

ایک گلزار سے میں راکھ میں بدلا، لیکن

ابھی باقی ہے قیامت کا تماشا ہونا

ایک نعمت بھی یہی، ایک قیامت بھی یہی

روح کا جاگنا اور آنکھ کا بیِنا ہونا

جو برائی تھی، میرے نام سے منسُوب ہوئی

دوستو! کِتنا بُرا تھا میرا اچھا ہونا

قعرِ دریا میں بھی آ نکلے گی سوُرج کی کرن

مجھ کو آتا نہیں محروُم تمناّ ہونا

شاعری روزِ ازل سے ہوُئی تخلیق ندیمؔ

شعر سے کم نہیں انسان کا پیدا ہونا

احمد ندیم قاسمی

Leave a Reply