رسمِ جفا کامیاب ، دیکھئیے، کب تک رہے

رسمِ جفا کامیاب ، دیکھئیے، کب تک رہے

شعر نمبر 1

رسمِ جفا دیکھیے کامیاب کب تک رہے

حبِّ وطن مست خواب دیکھیے کب تک رہے

مشکل الفاظ کے معانی:

رسمِ جفا: ظلم و ستم کا طریقہ/رواج۔

حبِّ وطن: وطن سے محبت کا جذبہ۔

محوِ خواب: نیند میں ڈوبا ہوا، غافل۔

مفہوم:

دیکھنا یہ ہے کہ انگریزوں کا یہ ظلم و ستم کا رواج کب تک کامیاب رہتا ہے اور اہل و عیال (اہلِ وطن) کے سینوں میں چھپی ہوئی وطن سے محبت کی تڑپ کب تک غفلت کی نیند سوئی رہتی ہے۔

تشریح:

مولانا حسرت موہانی کی یہ غزل ان کے مخصوص انقلابی اور سیاسی رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ویڈیو کے مطابق، یہ غزل 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد کے اس دور کی عکاسی کرتی ہے جب برصغیر کے مسلمانوں پر انگریزوں نے ظلم کے پہاڑ توڑ دیے تھے۔ پہلے مصرعے میں شاعر ایک سوالیہ انداز میں انگریز سامراج کو چیلنج کر رہے ہیں کہ تم نے جو ظلم و ستم کی رسم جاری کی ہے، اس کی کامیابی عارضی ہے۔ حسرت موہانی ایک پرامید انسان تھے، اس لیے وہ پوچھتے ہیں کہ یہ ناانصافی آخر کب تک چلے گی؟ دوسرے مصرعے میں وہ اپنوں کی حالتِ زار پر بات کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ برصغیر کے لوگوں کے دلوں میں اپنے وطن کی محبت ختم نہیں ہوئی، بلکہ وہ خوف اور مایوسی کی وجہ سے “محوِ خواب” یعنی نیند کی حالت میں ہے۔ جنگِ آزادی میں ناکامی کے بعد مسلمانوں کی جائیدادیں ضبط کر لی گئی تھیں اور انہیں ہر سطح پر نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ حسرت موہانی اس شعر کے ذریعے سوئی ہوئی قوم کو بیدار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ظلم کی ایک میعاد ہوتی ہے اور جب حبِ وطن کا جذبہ بیدار ہوگا تو یہ جفا کی رسم خود بخود دم توڑ دے گی۔ شاعر دراصل اہل ہند کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اب غفلت کی نیند سے بیدار ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ انگریز کے مظالم کے خلاف متحد ہوں اور اپنے حقوق کی جنگ لڑیں۔ یہ شعر اس دور کی سیاسی گھٹن اور عوامی بے بسی کا بھرپور نقشہ کھینچتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ آزادی کی امید کی شمع بھی روشن رکھتا ہے۔

بقول شاعر:

دنیا میں اس سے بڑا منافق نہیں کوئی

جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

شعر نمبر 2

دل پہ رہا مدتوں غلبہء یاس و ہراس

قبضہء خرم و حجاب، دیکھئیے، کب تک رہے

مشکل الفاظ کے معانی:

مدتوں: ایک طویل عرصے تک۔

غلبہٴ خوف و حجاب: ڈر اور جھجک کا تسلط۔

عزم و احتیاط: پختہ ارادہ اور پھونک پھونک کر قدم رکھنا۔

مفہوم:

ایک طویل عرصے تک ہمارے دلوں پر انگریزوں کے خوف اور جھجک کا قبضہ رہا، اب اس خوف کی جگہ ہمت اور محتاط رویے نے لے لی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ یہ کیفیت کب تک رہتی ہے۔

تشریح:

ایک وضاحت کے مطابق، 1857ء کے واقعات کے بعد مسلمانوں کے حوصلے ٹوٹ چکے تھے اور ان کے دلوں پر انگریزوں کی ہیبت طاری تھی۔ حسرت موہانی کہتے ہیں کہ “مدتوں” ہم اس سہمے ہوئے ماحول میں رہے جہاں لب کشائی کی اجازت نہ تھی اور نہ ہی کوئی احتجاج کی جرات کر سکتا تھا۔ دہلی کے ہر درخت پر مسلمانوں کی لاشیں لٹکائی گئیں تاکہ خوف کا راج قائم رہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ وہ پرانا خوف تو ختم ہو گیا ہے لیکن اس کی جگہ ایک نئی کیفیت “عزم و احتیاط” نے لے لی ہے۔ اب مسلمان آزادی کے لیے عزم تو رکھتے ہیں لیکن وہ بہت محتاط ہیں، کیونکہ وہ پچھلی ناکامیوں سے سبق سیکھ چکے ہیں۔ وہ اب ہر قدم بہت سوچ سمجھ کر اٹھا رہے ہیں تاکہ دوبارہ کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ شاعر یہاں یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ یہ جھجک اور یہ بہت زیادہ احتیاط کب تک رہے گی؟ کیونکہ آزادی کی منزل پانے کے لیے کبھی نہ کبھی تو احتیاط کا دامن چھوڑ کر بے باکانہ میدانِ عمل میں آنا ہی پڑتا ہے۔ حسرت دراصل یہ کہنا چاہتے ہیں کہ محض خاموش عزم کافی نہیں بلکہ انقلابی جذبے کی ضرورت ہے۔ جب تک دلوں میں احتیاط کا غلبہ رہے گا، مکمل آزادی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ یہ شعر تحریکِ آزادی کے ایک ایسے نازک موڑ کی عکاسی کرتا ہے جہاں قوم خوف سے تو نکل آئی تھی مگر ابھی مکمل طور پر سرگرمِ عمل ہونے میں ہچکچا رہی تھی۔

بقول شاعر:

دلوں پہ خوف کے پہرے لبوں پہ قفلِ سکوت

پسِ غم سلاخوں کے شامیانے ہیں

شعر نمبر 3

تابہ کجا ہوں دراز سلسلہ ہائے فریب
ضبط کی، لوگوں میں تاب، دیکھئیے، کب تک رہے

مشکل الفاظ کے معانی:

دراز: لمبا، طویل۔

سلسلہٴ فریب: دھوکے بازی کا تسلسل۔

تاب: ہمت، برداشت، سکت۔

مفہوم:

انگریزوں کی مکاریوں اور دھوکے بازیوں کا یہ طویل سلسلہ آخر کب تک جاری رہے گا اور لوگوں میں ان مظالم کو خاموشی سے سہنے کی ہمت کب تک باقی رہے گی۔

تشریح:

اس شعر میں حسرت موہانی انگریزوں کی عیارانہ سیاست پر وار کرتے ہیں۔ ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ انگریز ایک انتہائی شاطر قوم تھی جس نے برصغیر پر قبضے کے لیے صرف طاقت کا نہیں بلکہ “فریب” کا سہارا لیا۔ وہ کبھی اصلاحات کا لالچ دیتے، کبھی القابات بانٹتے اور کبھی ہندو مسلم اتحاد میں دراڑیں ڈال کر اپنا الو سیدھا کرتے۔ حسرت پوچھتے ہیں کہ یہ دھوکے بازی آخر کب تک چلے گی؟ کبھی وہ ہوم رول کا لالی پاپ دیتے تو کبھی دوسری مراعات کا جھانسہ، مگر ان سب کے پیچھے ان کا اپنا استعماری مفاد چھپا ہوتا تھا۔ دوسرے مصرعے میں شاعر عوامی ردعمل کی بات کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عوام نے اب تک بہت صبر کیا ہے اور انگریز کے ہر فریب کو برداشت کیا ہے، مگر اب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے والا ہے۔ شاعر یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ لوگوں میں “تاب” یعنی برداشت کرنے کی طاقت اب کتنی باقی ہے۔ یہ شعر دراصل انگریزوں کے لیے ایک وارننگ ہے کہ تم اپنی چالوں سے اب زیادہ دیر تک اس قوم کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ جب عوام کا صبر ختم ہوگا تو پھر تمہاری یہ فریب کاریاں بھی تمہیں بچا نہیں سکیں گی۔ حسرت موہانی کی سیاست بھی یہی تھی کہ وہ انگریزوں کے کسی بھی معاہدے یا وعدے پر یقین نہیں رکھتے تھے اور مکمل آزادی (آزادیِ کامل) کے حامی تھے۔ وہ عوام کو یہ احساس دلا رہے ہیں کہ انگریز کے فریب کو سمجھنا اور اس کے خلاف اٹھنا ہی اب واحد راستہ بچا ہے۔

شعر نمبر 4

پردہء اصلاح میں کوششِ تخریب کا

خلقِ خدا پر عذاب، دیکھئیے، کب تک رہے

مشکل الفاظ کے معانی:

اشاعت و اصلاح: تعلیم پھیلانا اور بہتری لانا۔

تخریب و شر: تباہی، بربادی اور فتنہ۔

عذاب: تکلیف، اذیت۔

مفہوم:

بظاہر تو انگریز تعلیم اور بہتری کے دعوے کر رہے ہیں لیکن اس کے پردے میں وہ برصغیر کو تباہ کر رہے ہیں، اللہ کی مخلوق پر یہ مصیبت کب تک مسلط رہے گی۔

تشریح:

ویڈیو کی روشنی میں اس شعر کی تشریح بہت اہم ہے، جہاں انگریزوں کے نام نہاد تعلیمی اور انتظامی نظام کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ حسرت کہتے ہیں کہ انگریزوں نے ریلوے لائنیں بچھائیں، انگریزی تعلیمی نظام (جیسے لارڈ میکالے کا نظام) رائج کیا اور اسے “اصلاح” کا نام دیا۔ لیکن حقیقت میں یہ سب “تخریب و شر” تھا، کیونکہ اس کا مقصد صرف برصغیر کے وسائل کو لوٹنا اور یہاں کے لوگوں کو ذہنی طور پر اپنا غلام بنانا تھا۔ انگریزی تعلیم کا مقصد صرف کلرک پیدا کرنا تھا جو انگریز کی وفاداری کریں۔ ریلوے کا مقصد خام مال کی آسانی سے ترسیل اور بغاوت کچلنے کے لیے فوج کی فوری نقل و حرکت تھا۔ شاعر ان تمام “جدید سہولتوں” کو اللہ کی مخلوق پر ایک “عذاب” قرار دیتے ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے مقامی صنعتیں تباہ ہو گئیں اور لوگ اپنی روایات سے دور ہو گئے۔ اس دور کے علماء کا بھی یہی خیال تھا کہ انگریز کا وجود برصغیر کے گناہوں کی سزا کے طور پر ایک عذابِ الہی ہے۔ حسرت موہانی ایک بار پھر وہی سوال دہراتے ہیں کہ یہ غیر ملکی تسلط اور ان کی تباہ کن پالیسیاں آخر کب تک جاری رہیں گی؟ وہ اس عذاب سے نجات کے منتظر ہیں اور چاہتے ہیں کہ برصغیر کے لوگ اس ملمع سازی کو پہچانیں جس میں تباہی کو اصلاح کا نام دے کر پیش کیا جا رہا ہے۔ شاعر کے نزدیک حقیقی اصلاح غیر ملکی آقاؤں سے نجات پانے میں ہی مضمر ہے۔

بقول شاعر:

نام سے قانون کے ہوتے ہیں کیا کیا ستم

ظلم ہے ہر ایک قدم اور عدالت نام ہے

شعر نمبر 5

حسرتِ آزاد پر جورِ غلامانِ وقت

ازرہِ بُغض و عناد، دیکھئیے، کب تک رہے

مشکل الفاظ کے معانی:

حسرتِ آزاد: آزادی پسند حسرت (شاعر نے اپنے لیے استعمال کیا)۔

جورِ ابنائے وقت: وقت کے لوگوں (موقع پرستوں) کا ظلم۔

بے سبب و بے حساب: بغیر کسی وجہ کے اور حد سے زیادہ۔

مفہوم:

مجھ جیسے آزادی کے متوالے حسرت پر زمانے کے ان خود غرض اور موقع پرست لوگوں کا یہ بے انتہا ظلم دیکھنا ہے کہ کب تک جاری رہتا ہے۔

تشریح:

غزل کے اس مقطع میں حسرت موہانی نے اپنے اوپر ہونے والے مظالم کا تذکرہ کیا ہے۔ ویڈیو کے مطابق، حسرت نے اپنی پوری زندگی آزادی کے لیے وقف کر دی تھی اور اس دوران انہیں نہ صرف انگریزوں کی جانب سے قید و بند کی صعوبتیں اٹھانا پڑیں بلکہ ان کے اپنے ہم وطن بھی ان کے دشمن بن گئے۔ “ابنائے وقت” سے مراد وہ لوگ ہیں جو انگریزوں کے وفادار تھے اور اپنی ذاتی مراعات کے لیے آزادی پسندوں کو نشانہ بناتے تھے۔ شاعر کہتے ہیں کہ یہ لوگ مجھ پر “بے سبب اور بے حساب” ظلم کر رہے ہیں۔ کبھی مجھے جیل بھیجا جاتا ہے تو کبھی مجھ پر سنگ باری کی جاتی ہے، اور یہ سب صرف اس لیے ہے کہ میں آزادی کا علمبردار ہوں۔ حسرت نے قید میں سخت مشقت کی، چکی پیسی مگر کبھی ہار نہیں مانی۔ وہ ان موقع پرستوں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ تم کتنا ہی ظلم کیوں نہ کر لو، میرا عزم کمزور نہیں ہوگا۔ وہ ایک بار پھر اسی صیغے “کب تک رہے” کا استعمال کرتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ یہ موقع پرست اور غدار لوگ بھی ہمیشہ نہیں رہیں گے۔ جب آزادی کا سورج طلوع ہوگا تو ان ظالموں اور ان کے آقاؤں کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ یہ شعر حسرت موہانی کی استقامت، ان کی قربانیوں اور ان کے سیاسی مشن کی سچائی کی بہترین گواہی دیتا ہے، جہاں وہ تنہا ہو کر بھی حق کی آواز بلند کرتے رہے۔

Leave a Reply