وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے، جو نشاطِ شامِ وصال دے

وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے، جو نشاطِ شامِ وصال دے

1 ۔وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے جو نشاط شام وصال دے

 جو پلک جھپک میں گزر گئے مجھے پھر وہی مہ و سال دے

2 ۔ یہ گداگروں کی ہیں بستیاں یہاں چشم پوشی گناہ ہے

تو امیر شہر جمال ہے تو زکوة حسن و جمال دے

3 ۔مجھے شوق سیر سما نہیں میں اسیر حرص و ہوا نہیں

 میں قفس میں عمر گزار دوں وہ ضمانت پر و بال دے

4 ۔ مرا غم شناس کوئی تو ہے، میرے آس پاس کوئی تو ہے

 میرے حرف کو جو خلوص دے میرے لفظ کو جو کمال دے

5 ۔ تجھے زعم خود نگری سہی، مجھے فخر قرب حبیب ہے

 میں ہوں عکس عکس میں جلوہ گر مجھے آئینوں سے

نکال دے

6 ۔ وہی تیرگی کی روایتیں، وہی ظلمتوں کی حکایتیں

تو وکیل صبح حیات ہے کوئی روشنی کی مثال دے

7۔ نہ ہے چاہ منصب و جاه کی، نہ ہوس ہے تخت و کلاہ کی

میں غریب ہوں تو غیور رکھ مجھے صرف رزق حلال دے

8 ۔ میری سوچ میں نئے موسموں کی شگفتگی کی شمیم ہو

میں اسیر فکر قدیم ہوں مجھے تازگی خیال دے

9۔ ہے دعائے محسن ہے نوا کہ نگار شعر کو ہو عطا

 وہ چمک جو تابش مہر دے وہ ملک جو ناف غزال دے

Leave a Reply