نئی نسل کا نوحہ (امجد اسلام امجد)

نئی نسل کا نوحہ (امجد اسلام امجد)

بند نمبر 1

میں سوچتا ہوں

لکھا ہے جو کچھ، پڑھا ہے جو کچھ

وہ کس لیے تھا؟

کہاں سے پوچھوں، کسے بتاؤں؟

تشریح:

شاعر امجد اسلام امجد نظم کی ابتدا ایک استفہامیہ (سوالیہ) انداز سے کرتے ہیں۔ وہ نئی نسل کے نمائندے کے طور پر خود کلامی کی کیفیت میں ہیں۔ نوجوان ذہن سوچتا ہے کہ سکولوں، کالجوں اور کتابوں میں ہمیں جو کچھ پڑھایا گیا اور جو نظریات لکھوائے گئے، ان کا مقصد کیا تھا؟ شاعر معاشرے کے دانشوروں، اساتذہ اور مفسرین کی طرف دیکھتا ہے لیکن اسے کوئی جواب دینے والا نہیں ملتا۔ یہ سوال دراصل “نظری تعلیم” اور “عملی زندگی” کے درمیان موجود خلیج کا اظہار ہے۔

بند نمبر 2

کہہ سکتے ہیں مجھے

عقیدوں کے خواب دے کر کہا گیا، ان کی روشنی ہے

چمکتی قدروں کی چھب دکھا کر، بتایا یہ زندگی ہے

تشریح:

یہاں شاعر اس تربیت (Conditioning) کا ذکر کر رہا ہے جو ہمارے سماج میں بچے کی کی جاتی ہے۔ نئی نسل کو بچپن ہی سے مذہبی عقائد اور اخلاقیات کے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ “سچائی اور نیکی” ہی اصل روشنی ہے۔ انہیں “اقدار” (Values) کی خوبصورتی (چھب) دکھا کر یقین دلایا جاتا ہے کہ کامیاب زندگی دراصل انہی اصولوں پر چلنے کا نام ہے۔ یعنی اسے ایک مثالی (Ideal) دنیا کا نقشہ دکھایا جاتا ہے۔

بند نمبر 3

سکھائے مجھ کو کمال ایسے، یقین نہ لائیں سکھانے والے

اگر انہی کو میں جا سناؤں

تشریح:

یہ بند ہمارے معاشرتی رویوں پر ایک طنزیہ وار ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ مجھے تو اساتذہ اور بزرگوں نے اعلیٰ ظرفی، ایثار اور دیانت کے کمالات سکھا دیے، لیکن المیہ یہ ہے کہ وہ “سکھانے والے” خود ان باتوں پر یقین نہیں رکھتے۔ اگر آج کا نوجوان پلٹ کر انہی بزرگوں کو ان کا دیا ہوا درس یاد دلائے، تو وہ اسے دیوانہ یا غیر عملی (Impractical) سمجھتے ہیں۔ یہاں “قول و فعل کا تضاد” واضح کیا گیا ہے۔

بند نمبر 4

میں کہنہ آنکھوں کی دسترس میں نئے مناظر کہاں سے لاؤں

زمین پاؤں تلے نہیں ہے، تو کیسے ستاروں کی سمت جاؤں

تشریح:

نوجوان شش و پنج کا شکار ہے۔ “کہنہ آنکھیں” (پرانی سوچ رکھنے والے لوگ/ بزرگ) جدید دور کے تقاضوں اور نئے مناظر کو دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، لیکن وہ نوجوان سے امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں۔

دوسرے مصرعے میں بہت گہری معنویت ہے۔ “زمین پاؤں تلے نہ ہونا” سے مراد معاشی یا سماجی عدم تحفظ ہے۔ جب نوجوان کے پاس بنیادی سہولیات اور مستحکم بنیاد ہی نہیں، تو وہ کیسے “ستاروں کی سمت” (بلند مقاصد) کا سفر طے کرے؟ یہ موجودہ دور کی مہنگائی اور بے روزگاری کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے۔

بند نمبر 5

پرانی قدریں جو محترم ہیں، انہیں سنبھالوں

یا آنے والے نئے عقیدوں کا بھید پاؤں؟

تشریح:

یہاں ذہنی کشمکش (Conflict) عروج پر ہے۔ ایک طرف وہ روایات اور “پرانی قدریں” ہیں جو والدین سے ورثے میں ملیں اور محترم ہیں، دوسری طرف جدید دور کے تقاضے (نئے عقیدے) ہیں جو کامیابی کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ نوجوان فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ وہ ماضی کا بوجھ اٹھائے یا مستقبل کا راز (بھید) پائے۔ وہ دوراہے پر کھڑا ہے۔

بند نمبر 6

وہ سب عقیدے، تمام قدریں، خیال سارے

وہ مجھ کو سکے بنا کے بخشے گئے تھے

میرے حواسِ خمسہ سے معتبر تھے

تشریح:

شاعر نے یہاں “استعارہ” (Metaphor) کا خوبصورت استعمال کیا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ سچائی، ایمانداری، شرافت اور حب الوطنی جیسی تمام اقدار اسے “سکوں” (Coins/Currency) کی صورت میں دی گئی تھیں۔ اسے یقین دلایا گیا تھا کہ زندگی کے بازار میں یہی سکے چلیں گے۔ اسے اپنے پانچوں حواس (دیکھنا، سننا، چکھنا، سونگھنا، چھونا) سے بھی زیادہ ان اصولوں کی سچائی پر یقین اور اعتبار تھا۔

بند نمبر 7 (حاصلِ نظم)

جب ان کو رہبر بنا کے نکلا، تو میں نے دیکھا

کہ میرے ہاتھوں میں کچھ نہیں ہے

میں ایسے بازار میں کھڑا ہوں، جہاں کرنسی بدل چکی ہے

تشریح:

یہ نظم کا آخری اور سب سے طاقتور حصہ ہے۔ جب نوجوان ان تمام اخلاقی اصولوں (رہبروں) کو لے کر عملی زندگی (بازار) میں خریداری (کامیابی حاصل کرنے) کے لیے نکلتا ہے، تو اسے شدید دھچکا لگتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے ہاتھ خالی ہیں کیونکہ اس کے پاس موجود “سچائی اور شرافت کے سکے” اب بیکار ہو چکے ہیں۔

معاشرے کے بازار میں اب “کرنسی بدل چکی ہے”۔ آج کے دور میں کامیابی کے لیے جھوٹ، دھوکہ دہی، خوشامد اور رشوت کی کرنسی چلتی ہے۔ پرانی اخلاقیات اب منسوخ شدہ (Demonetized) کرنسی کی طرح ہیں۔ یہی وہ “نوحہ” (ماتم) ہے جو نئی نسل کر رہی ہے۔

Leave a Reply