شکوہ بند نمبر 19

شکوہ بند نمبر 19

تیری محفل بھی گئی ، چاہنے والے بھی گئے

شب کی آہیں بھی گئیں ، صُبح کے نالے بھی گئے

دِل تجھے دے بھی گئے ، اپنا صلہ لے بھی گئے

آکے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئے

آئے عُشاق ، گئے وعدہء فردا لے کر

اَب اُنہیں ڈُھونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر

Leave a Reply