بند نمبر 17

بند نمبر 17

کیوں مُسلمانوں میں ہے دولتِ دُنیا نایاب ؟

تیری قُدرت تو ہے وہ جس کی نہ حَد ہے نہ حِساب

تُو جو چاہے تو اُٹھے سینہء صحراء سے حباب

رہروء دشت ہو سیلی زدہء موجِ سَراب

طعنِ اغیار ہے ، رُسوائی ہے ، ناداری ہے

کیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہے ؟

Leave a Reply