بازیچہ اطفال ہے

[contact-form][contact-field label=”Name” type=”name” required=”true” /][contact-field label=”Email” type=”email” required=”true” /][contact-field label=”Website” type=”url” /][contact-field label=”Message” type=”textarea” /][/contact-form]

دوسرا کون ہے ؟ جہاں تو ہے

حمد از امیر مینائی

شعر نمبر 1 : 

دوسرا کون ہے ؟ جہاں تو ہے

کون جانے تجھے ؟ کہاں تو ہے

تشریح: یہ شعر امیر مینائی کی حمدیہ نظم سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ اے خدا! اس جہان میں تیرے سوا کوئی دوسرا موجود نہیں ہے۔ ہر طرف تیری ہی ہستی جلوہ گر ہے۔ پھر کون جان سکتا ہے کہ تو کہاں ہے ؟ یعنی تیری ذات اس قدر بلند اور ارفع ہے کہ کسی کی عقل و فہم اس کا احاطہ نہیں کر سکتی۔

اس شعر میں جہاں تو ہے’ سے مراد یہ ہے کہ کائنات کا کوئی ذرہ ایسا نہیں ہے جہاں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کا علم موجود نہ ہو۔ وہ ہر جگہ حاضر و ناظر ہے۔ لیکن اس کے باوجود، انسان اپنی محدود عقل سے اس کی ذات کا مکمل ادراک نہیں کر سکتا۔ اس لیے شاعر سوال کرتا ہے کہ کون جانے تجھے کہاں تو ہے ؟ یعنی تیری حقیقت اور تیری عظمت کا علم کسی کو نہیں۔

 : بقول شاعر

یار کو ہم نے جا بجا دیکھا یکھا

کہیں ظاہر کہیں چھپا دیکھا

یہ شعر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، اس کی لامحدود قدرت اور انسان کی عجز و بے بسی کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔

شعر نمبر 2 :

لاکھ پردوں میں ہے، تو بے پردہ

سو نشانوں پہ بے نشاں تو ہے

تشریح : اس شعر میں شاعر اللہ تعالیٰ کی ثنا بیان کر رہے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات ہماری آنکھوں کے پردے سے اوجھل ہے۔ ہم اسے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے مگر اتنا او جھل ہونے کے باوجود بھی وہ ظاہر ہے۔ اللہ بے نشان ہے مگر اللہ کی قدرت کی نشانیاں کائنات کے ہر ذرے میں موجود ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی ہزاروں پردوں کے پیچھے ہونے کے باوجود اپنی قدرتوں کی وجہ سے ہمیں ہر جگہ نظر آتا ہے۔ اللہ کی ذات لاکھوں پر دوں میں چھپی ہونے کے باوجود نظر آتی ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ تیرے وجود کی گواہی دے رہا ہے۔ شاعر مزید کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بے نشان ہیں لیکن کائنات کی ہر شے ان کی نشانی ہے۔

جگ میں آکر اُدھر ادھر دیکھا

تو ہی آیا نظر ، جدھر دیکھا

شعر نمبر 3 : 

تو ہے خلوت میں، تو ہے جلوت میں

کہیں پنہاں ، کہیں عیاں تو ہے

تشریح : شاعر کہتا ہے کہ اے خدا، تو خلوت( تنہائی ) میں بھی جلوہ گر ہے اور جلوت( رونق ) میں بھی تیرا ہی ظہور ہے۔ تو کہیں ظاہر ہے اور کہیں پوشیدہ، یعنی ہر جگہ تیری ہی قدرت اور تیرا ہی عکس نظر آتا ہے۔

اس شعر میں خلوت سے مراد تنہائی اور باطنی کیفیات ہیں، جبکہ ‘جلوت’ سے مراد محافل اور ظاہری دنیا ہے۔ شاعر اس بات پر زور دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف کسی ایک جگہ یا ایک کیفیت میں محدود نہیں ہے، بلکہ وہ ہر حال میں موجود ہے۔ چاہے انسان تنہا اپنی ذات میں غور و فکر کر رہا ہو ، یا وہ دنیا کی رونقوں میں مشغول ہو ، ہر جگہ اسے خدا کی قدرت اور اس کی نشانیاں دکھائی دیتی ہیں۔

اسی طرح، کہیں عیاں اور کہیں نہاں’ کے الفاظ اللہ تعالیٰ کی ظاہری اور باطنی صفات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کچھ چیزیں ہمیں واضح طور پر اللہ کی قدرت کا پتہ دیتی ہیں، جیسے کہ یہ وسیع و عریض کائنات اور اس کا منظم نظام ۔ جبکہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتیں، لیکن ان کی تاثیر اور حکمت ہر جگہ موجود ہوتی ہے، جیسے کہ کائنات کے قوانین اور زندگی کا راز۔ شاعر کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی ہمارے ساتھ ہر پل موجود ہے۔ وہ تنہائی میں بھی ہمارے ساتھ ہے اور ہجوم میں بھی ہر انسان کے ساتھ ہے۔

شعر نمبر 4 : 

نہ مکاں میں ، نہ لامکاں میں کچھ

جلوہ فرما، یہاں وہاں تو ہے

تشریح :  یہ شعر اللہ تعالیٰ کی ذاتِ پاک کی بے مثل و بے نظیر ہونے اور ہر جگہ موجود ہونے کی کیفیت کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ نہ تو کوئی مکان ایسا ہے جہاں وہ نہ ہو ، اور نہ ہی کوئی لا مکاں ایسا ہے جہاں اس کا جلوہ موجود نہ ہو۔ وہ ہر جگہ جلوہ فرما ہے ، چاہے وہ یہ دنیا ہو یا کوئی اور جہاں ، ہر جگہ اس کی قدرت اور اس کا ظہور دکھائی دیتا ہے۔ اس شعر میں اللہ تعالیٰ کی ہمہ گیری اور اس کی لامحدودیت کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کسی خاص جگہ یا حد میں قید نہیں ، بلکہ اس کی موجودگی ہر مکان اور لامکاں میں یکساں طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔

اس شعر میں شاعر نے مکاں اور لامکان کو صنعت تضاد کے طور پر استعمال کیا ہے۔

شعر نمبر 5 : 

 نہیں تیرے سوا، یہاں کوئی

میز باں تو ہے، مہماں تو ہے

تشریح : یہ شعر اللہ تعالیٰ کی واحدانیت اور اس کی مہمان نوازی کی شان کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس دنیا میں تیرے سوا کوئی میزبان نہیں ، یعنی سب کچھ تیری ہی عطا اور تیری ہی مہربانی سے ہے۔ تو ہی یہاں سب کا مہمان نواز ہے ، سب کو رزق دینے والا اور سب کی حاجات پوری کرنے والا ہے۔ اس شعر میں ‘میزبان کی صفت اللہ تعالیٰ کی خالقیت، رازقیت اور پرورش کرنے والی ذات کی طرف اشارہ کرتی ہے، جبکہ مہمان سے مراد تمام مخلوقات ہیں جو اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی مہمان ہیں۔ شاعر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ کائنات میں جو کچھ بھی ہے ، وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور وہی سب کا سہارا ہے۔

بقول شاعر

زمیں پر جلوہ آراء ہیں مظاہر اُس کی قدرت کے بچھائے ہیں اسی داتا نے دستر خوان نعمت کے

شعر نمبر 6 : 

رنگ تیرا یہ چمن میں بو تیری

خوب دیکھا تو باغباں تو ہے

تشریح : اس شعر میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کی مثال ایک باغ جیسی ہے اور اللہ تعالیٰ اس باغ کا مالی ہے۔ جس طرح ایک اچھا مالی اپنے باغ کی مکمل نگرانی کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالٰی کی ذات ، اس سے بھی بڑھ کر اس دنیا کے باغ میں موجود انسانوں اور دیگر مخلوقات کی مکمل حفاظت کرتی ہے۔ شاعر مزید کہتا ہے کہ اس چمن میں جو رنگ اور خوشبو ہے ، وہ دراصل تیری ہی وجہ سے ہے۔ یہاں ” تو ” سے مراد اللہ تعالیٰ کی محبوب ہستی ہے جس کی تعریف کی جارہی ہے۔ شاعر کہنا چاہتا ہے کہ جو کچھ بھی خوبصورتی اور دلکشی اس دنیا میں ہے ، وہ سب تیری ہی عطا کردہ ہے۔ باغبان تو صرف ایک ظاہری نگہبان ہے، لیکن اصل میں یہ سب تیری ہی قدرت کا ظہور ہے۔ تو تمام انسانوں پر رحم و کرم جاری رکھتا ہے۔ انسانوں کی تمام ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ یعنی اس جیسا بہترین باغبان کوئی نہیں ہے۔ وہ اکیلا اور واحد  اس پوری کائنات کا مالک و خالق ہے ۔

شعر نمبر 7 :

محرم راز ، تو بہت ہیں امیر

جس کو کہتے ہیں راز داں تو ہے

تشریح: امیر مینائی کے اس خوبصورت شعر میں اللہ کی وحدانیت اور اس کی بے مثال ہستی کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر اللہ پاک کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگرچہ اس دنیا میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو راز جانے کا دعویٰ کرتے ہیں، جو ظاہر بھیدوں سے واقف نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت میں سچا راز داں تو صرف تو ہی ہے۔ تیری ذات ہی وہ ہے جو ہر پوشیدہ اور ظاہر بات کو جانتی ہے، جس پر تمام بھید کھلے ہوئے ہیں۔

شاعر اس شعر میں اس بات پر زور دیتا ہے کہ انسان چاہے کتنا ہی علم حاصل کرے ، کتنے ہی دعوے کرے ، وہ کبھی بھی خدا کے علم کی گہرائی تک نہیں پہنچ سکتا۔ حقیقی علم اور دانائی کا منبع صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ انسانوں کے درمیان جو بھی راز دار کہلاتے ہیں ، ان کا علم محدود اور سطحی ہو سکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے علم میں کائنات کی ہر چیز کا احاطہ ہے۔ وہ ہر ذرے کے راز سے واقف ہے اور اس کی حکمت کامل ہے۔ اس شعر میں عاجزی اور توکل کا پہلو بھی نمایاں ہے۔ شاعر اپنی کم علمی اور بے بسی کا اعتراف کرتے ہوئے صرف اللہ تعالٰی کو اپنا سچا راز داں مانتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ تمام بھیدوں کا علم صرف اسی ذات کے پاس ہے اور وہی ہر مشکل میں اس کی رہنمائی کر سکتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے اور اسی سے مدد طلب کرے، کیونکہ وہی سب سے بڑا اور سچا راز داں ہے۔

Leave a Reply