رسول مجتبیٰ کہیے محمد مصطفیٰ کہیے

رسول مجتبیٰ کہیے محمد مصطفیٰ کہیے

نظم نعت از ماہر القادری تمام اشعار کی تشریح

شعر نمبر 1 : 

رسول مجتبی کہیے ، محمد مصطفیٰ کہیے

خُدا کے بعد بس وہ ہیں، پھر اس کے بعد کیا کہیے

 تشریح : اس شعر میں شاعر نے محبت و عظمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ چاہے آپ حضور کو “رسول مجتبی ” کہیں یا ” محمد مصطفیٰ ” ، ہر لقب ان کی عظمت اور برتری کا اعلان ہے۔

دوسرے مصرعے میں شاعر بتاتا ہے کہ  اللہ تعالیٰ کے بعد اگر کوئی ہستی سب سے زیادہ قابل تعظیم اور مقام و مر تبہ والی ہے تو وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ان کے بعد کسی کا ذکر کرنا گویا فضول ہے، کیونکہ ان جیسا کوئی اور نہیں۔

: بقول شاعر

تمہارے در کا فقیر ہوں، یہی ہے میری پہچان

مدینے والے کا غلام ہوں، یہی میری شان

یہ شعر عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ میر اسب سے بڑا فخر یہ ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے در کا فقیر ہوں۔ میری اصل پہچان اور عزت اس بات میں ہے کہ میں مدینے والے محبوبِ خدا کا غلام ہوں، اور یہی میری دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔

شعر نمبر 2 : 

شریعت کا ہے یہ اصرار ختم الانبیاء کہیے

محبت کا تقاضا ہے کہ محبوب خدا  کہیے

تشریح : شاعر کہتا ہے کہ شریعت یعنی اسلامی قانون کا تقاضا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ” خاتم النبیین ” یعنی آخری نبی مانا جائے، کیونکہ یہ ایمان کی بنیاد ہے۔ لیکن صرف قانونی اقرار کافی نہیں، عشق مصطفی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان دل سے انہیں ” محبوب خدا” کہے، کہ یہی محبت کی معراج ہے۔ یہ شعر دین کی دونوں بنیادوں شریعت اور محبت کا حسین امتزاج ہے۔

: بقول شاعر

نہ کوئی آپ سا آیا ، نہ کوئی آپ سا ہو گا

خدا کی شان ہے یہ ، مصطفی جیسا بنایا

 اس شعر میں شاعر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بے بہا عظمت اور انفرادیت کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ نہ آپ جیسا کوئی ماضی میں آیا، نہ مستقبل میں آسکتا ہے۔ یہ صرف اللہ کی قدرت کا کمال ہے کہ اُس نے اتنی عظیم ہستی کو پیدا فرمایا۔

یہ شعر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس کی شانِ یکتائی اور اللہ کی تخلیق پر دلالت کرتا ہے۔

شعر نمبر 3 : 

جب ان کا ذکر ہو ، دنیا سرا پا گوش ہو جائے

جب ان کا نام آئے ، مرحبا صل علی کہے

تشریح :

اس شعر میں شاعر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کی برکت ، عظمت اور روحانی اثرات کو بیان کر رہا ہے۔ جب بھی آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہو ، تو کائنات ہمہ تن گوش ہو جاتی ہے، جیسے ہر ذی روح سننے کے لیے رک جائے اور جب اُن کا نام آتا ہے ، تو دل و زبان سے بے اختیار “ مرحبا ” اور “ صل علی نکلتا ہے۔ یہ محبت ، ادب اور عقیدت کا وہ بلند درجہ ہے جو صرف نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے لیے مخصوص ہے ۔

یہ شعر سامع کے دل کی کیفیت اور عاشق رسول کے جذبات کو بہت خوبصورتی سے پیش کرتا ہے ۔

: بقول شاعر

ملے جو ذکر محمد کا نور دل میں کہیں

تو خود بہ خود ہی زمانہ ضیاء ضیاء کہے

،شاعر کہتا ہے کہ جب دل میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کی روشنی اترتی ہے تو وہ نور انسان کی زندگی ہی نہیں بلکہ اس کے ارد گرد کے ماحول کو بھی روشن کر دیتا ہے۔

پھر ہر طرف صرف روشنی اور برکت ہی محسوس ہوتی ہے اور لوگ اس نور کو دیکھ کر خود بھی کہہ اٹھتے ہیں کہ یہ ضیاء، یہ روشنی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کی ہے۔

یہ شعر نعتیہ ادب میں ذکرِ رسول کے فیضان اور اس کے روحانی اثرات کی اعلیٰ مثال ہے۔

شعر نمبر 4 :

 مرے سرکار کے نقشِ قدم شمع ہدایت ہیں

یہ وہ منزل ہے جس کو مغفرت کا راستہ کہیے

تشریح :

شاعر کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص زندگی کے سفر میں اندھیروں میں بھٹک رہا ہو ، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم کو اختیار کر کے وہ ہدایت کی روشنی پا سکتا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت، قول و فعل اور ہر عمل دنیا کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ جیسے ایک مسافر سفر میں روشنی کی تلاش کرتا ہے تاکہ وہ گمراہی سے بچ جائے، ویسے ہی انسانیت کو نجات کی روشنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے ملتی ہے۔

نقش قدم ” کا مطلب یہ نہیں کہ صرف جسمانی قدموں کے نشان مراد ہیں، بلکہ اس سے ” مراد ہے آپ کا طرز زندگی، سچائی، صبر ، عدل، رحم، تقویٰ، عبادات، معاملات اور اخلاق۔ یہ وہ منزل ہے، جسے پانا ہر مومن کا خواب ہوتا ہے اور وہ منزل ہے اللہ کی مغفرت۔

جب کوئی شخص سچے دل سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتا ہے، تو اللہ کی رحمت اس پر نازل ہوتی ہے ، گناہ معاف ہوتے ہیں، اور وہ بندہ جنت کا مستحق بن جاتا ہے۔

قدموں میں تیرے رکھ دی ہم نے زندگی کی راہیں

جو تو دکھا دے وہی اب ہمارا قبلہ ہو جائے

شعر نمبر 5 :

محمد کی نبوت دائرہ ہے نور وحدت کا

اسی کو ابتدا کہیے ، اسی کو انتہا کہیے

تشریح : شاعر اس شعر میں یہ پیغام دے رہا ہے کہ نبی کریم  کی نبوت محض ایک پیغام یا منصب نہیں بلکہ وہ اصل نور ہے جس سے پوری کائنات نے وجود پایا۔ جیسے دائرہ کسی ایک نکتہ پر شروع ہو کر اسی پر مکمل ہوتا ہے، ویسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت آغاز بھی ہے اور کمال بھی۔ یعنی رب کی وحدانیت کا ظہور آپ کی ذات سے مکمل ہوا۔

 درود ان پر کہ جن کے دم سے کائنات ہے

نہ اُن کا ابتدا کوئی، نہ اُن کی انتہا کوئی

یہ شعر اسی عقیدت کو مزید گہرائی سے پیش کرتا ہے کہ نبی کی ذات ہر حد سے بلند ہے۔ اُن کا مقام انسانوں کے فہم سے بالاتر ہے۔ شاعر کے مطابق،  کائنات کی حقیقت آپ کے نور میں چھپی ہے اور اس نور کے بغیر تخلیق کائنات کا کوئی مفہوم نہیں۔ اس شعر میں عشق، عقیدہ، اور عرفان کی خوبصورت جھلک نظر آتی ہے۔

شعر نمبر 6 :

غبارِ راہِ طیبہ سرمہ چشم بصیرت ہے

یہی وہ خاک ہے جس خاک کو خاک شفا کہیے

تشریح : ” پہلا مصرع : ” غبارِ راہِ طیبہ سرمہ چشم بصیرت ہے شاعر کہتا ہے کہ مدینہ منورہ کی خاک ( جہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے) وہ خاک ہے جس کو اگر روحانی آنکھوں میں سرمہ کی طرح لگایا جائے، تو دل کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ بصیرت ” صرف ظاہری نظر نہیں، بلکہ دل کی وہ روشنی ہے جو حق اور باطل میں فرق کر سکے ، جو “

حقیقت کو پہچان سکے۔ یہ خاک بظاہر مٹی ہے، لیکن اہل دل کے لیے روحانیت کا خزانہ ہے۔

دوسرا مصرع : ”  یہی وہ خاک ہے جس خاک کو خاک شفا کہیے ”  یہاں اس مٹی کی عظمت کو مزید بڑھایا گیا ہے کہ یہ وہی خاک ہے جسے لوگ شفا کی خاک کہتے ہیں۔ یعنی جو جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ روحانی بیماریوں کا بھی علاج ہے۔ مدینہ کی خاک میں محبت رسول، برکت ، نور اور تاثیر ہے جو دلوں کو بدل دیتی ہے۔

بقول شاعر:

مدینے کی ہوائیں دل کو راحت دے رہی ہیں

یہی وہ نکلیں ہیں جن سے جنت مہک رہی ہے

شعر نمبر 7 : 

مدینہ یاد آتا ہے تو پھر آنسو نہیں رکتے

مری آنکھوں کو ماہر چشمہ آپ بقا کہیے

: تشریح

پہلا مصرع : ” مدینہ یاد آتا ہے تو پھر آنسو نہیں رکتے

اس مصرع میں شاعر مدینہ کی روحانی کشش اور محبت رسول کی شدت کا اظہار کرتا ہے۔ جب محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا شہر مدینہ دل میں آتا ہے، تو آنکھیں بے اختیار اشکبار ہو جاتی ہیں۔ دل اشکبار ہو جاتی ہیں۔ دل کی گہرائیوں سے ایسا جذبہ ابھرتا ہے جو لفظوں سے بالا تر ہوتا ہے۔ یہ آنسو دکھ یا مایوسی کے نہیں بلکہ عشق، محبت ، عقیدت اور روحانی تڑپ کے آنسو ہیں۔

یہ کیفیت عام نہیں ۔ یہ عاشقوں کا مقام ہے۔ ایسے آنسو صدق دل کی نشانی ہوتے ہیں، اور یہ مدینہ کے فراق میں نکلنے والے وہ آنسو ہیں جنہیں عرش بھی پہچانتا ہے۔

دوسرا مصرع : ” مری آنکھوں کو ماہر چشمۂ آب بقا کہیے

یہ مصرع پورے شعر کو ایک ماورائی جہت دیتا ہے۔  شاعر اپنی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کو اس قدر مقدس اور مسلسل قرار دیتا ہے کہ کوئی ماہر بصارت انہیں عام آنکھیں نہیں بلکہ “آب بقا” کا چشمہ سمجھتا ہے۔

یہاں ” آبِ بقا” کا استعمال بہت گہرا ہے، یہ آنسو فنا نہیں ہوتے ، ان کا منبع محبت رسول ہے جو ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ان آنسوؤں میں شفا ہے، روشنی ہے، طہارت ہے ، بقا ہے یہ کیفیت صرف ان عاشقوں کو نصیب ہوتی ہے جن کے دل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت بستی ہے۔ ایسی آنکھیں جو صرف دیکھنے کے لیے نہیں، بلکہ یادِ مدینہ میں بہنے کے لیے پیدا ہوئی ہوں۔

نظر جب بھی اُٹھتی ہے مدینے کی طرف یا رب

دل کہتا ہے بس اب یہیں سانسیں تمام ہوں

Leave a Reply