کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے

کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے

آج کی اس پوسٹ میں ہم ” کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے” حمدیہ نظم کے الفاظ معانی ، مفہوم اور تشریح  پیش کریں گے ۔

شعر نمبر : 1

کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے، وہی خدا ہے

دکھائی بھی جو نہ دے، نظر بھی جو آ رہا ہے، وہی خدا ہے

مفہوم : خدا ہی ہے جو اس پوری کائنات کا نظام چلا رہا ہے۔ وہ ہمیں ظاہری آنکھ سے نظر تو نہیں آتا لیکن اس کے جلوے کائنات کے ہر ذرے ذرے میں نمایاں ہیں ۔

تشریح :

اس شعر میں شاعر مظفر وارثی کہتے ہیں کہ اس کائنات کا نظام اتنے منظم طریقے سے چل رہا ہے یہ خود بخود نہیں ہے، کوئی ایسی ذات ضرور ہے جو اس پوری کائنات کو چلا رہی ہے۔ جس نے ایک ترتیب اور ربط کے ساتھ اس کائنات کا نظام رواں رکھا ہوا ہے۔ اس میں کبھی بدلاؤ یا تبدیلی نہیں آتی۔ سورج کا مشرق سے نکل کر مغرب میں غروب ہونا، دن رات کا آنا ، موسموں کا بدلنا، پرندوں کا چہچہانا، درختوں کا پھل دینا، یہ سارا نظام چلانا کسی بھی انسان کے بس کی بات نہیں۔ اس سب کو چلانے والی اللہ تعالٰی کی ذات ہے۔ اگرچہ اللہ تعالٰی کا وجود انسان کو ظاہری آنکھ سے نظر نہیں آتا مگر اس کا وجود اس کائنات کی ہر چیز میں نمایاں ہے ۔

جگ میں اگر ادھر اُدھر دیکھا

تو ہی نظر آیا جدھر دیکھا

شاعر اللہ تعالٰی کی صفت غیب کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ظاہری آنکھ سے نہ نظر آنے والی اس ذات نے کائنات میں ہر طرف نشانیاں چھوڑی ہیں۔ ہوا، بارش، آندھی، دریا، سمندر، چرند پرند، پہاڑ، انسان اور حیوان سب اللہ تعالٰی کے وجود کی گواہی دیتے ہیں۔ اسی طرح بہت سی ایسی نشانیاں ہیں جو اکثر ہمارے روز مرہ امور میں سامنے آتی ہیں۔ اگر ان پر تھوڑا سا غور و فکر کر لیا جائے تو ہمارے ایمان میں تازگی اور اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔ ان نشانیوں پر غور و فکر کر کے ہر کوئی اللہ کی ذات کو پہچان لیتا ہے اور اس ذات واحد پر ایمان لے آتا ہے۔

ذرے ذرے کی شہادت کہ خدا ہے موجود

بچے بچے کو ہے صانع کی صفت کا اقرار

شعر  نمبر 2 :

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

جو دن کو رات اور رات کو دن بنا رہا ہے، وہی خدا ہے

مفہوم: اللہ تعالٰی کو پتھروں کے بنائے ہوئے بتوں میں تلاش نہ کرو کیونکہ وہ ہر لمحہ بدلتے ہوئے موسموں میں، دن اور رات کی تبدیلی میں ظاہر ہوتا ہے۔ جو ذات دن کو رات اور رات کو دن میں بدلتی ہے درحقیقت وہی خدا ہے ۔

تشریح:

انسانوں نے جب دنیا کا نظام چلانے والے کی تلاش شروع کی تو کچھ لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے بت بنا لیے اور ان کی پوجا شروع کر دی اور کچھ نے دیوتاؤں کو خدا مان لیا ۔ شاعر کہتا ہے کہ اللہ تعالٰی کی ذات کو پتھر کے بنائے ہوئے بتوں میں تلاش مت کرو کیونکہ وہ پتھر سے ایک بت کی شکل اختیار کرنے تک خود انسان کے محتاج ہوتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالٰی کی معرفت تلاش کرنی ہے تو قدرت کے مختلف مظاہر میں تلاش کرو، بدلتے ہوئے موسموں میں، دن کا رات میں اور رات کا دن میں بدلنے، سورج، چاند، ستاروں کے ظاہر ہونے، بارش ، دھوپ اور بادلوں کے آنے میں تلاش کرو ۔ اگر انسان ان نشانیوں پر غور و فکر کرے تو اس کی اپنی عقل اس دنیا کو بنانے والی ہستی اللہ تعالٰی کا اعتراف کرے گی اور ساری گرہیں کھلتی جائیں گی ۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے :

” بےشک آسمان اور زمین کی پیدائش اور دن اور رات کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں“۔

اللہ تعالٰی ایک ماہر کاریگر ہے اس کی قدرت کے کارخانے میں کوئی کمی یا خامی نہیں۔ کائنات کی ہر چیز سے اللہ تعالٰی کا جلوہ نمایاں ہے۔ زمین اور آسمان کی وسعتوں میں اللہ تعالٰی کا نشان اور شان و شوکت موجود ہے۔ کائنات کی ہر چیز اس کے حکم کے تابع ہے۔ اس کے حکم کے بغیر ایک پتا بھی نہیں ہل سکتا۔ اسی کے کن سے کائنات میں اجالا پھیلتا ہے اور اسی کی مرضی سے کائنات پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔

یہ سرد و گرم، خشک و تر ، اجالا اور تاریکی

نظر آتی ہے سب میں شان اسی کی ذات باری کی

شعر نمبر 3 : 

وہی ہے مشرق، وہی ہے مغرب، سفر کریں سب اس کی جانب

ہر آئینے میں جو عکس اپنا دکھا رہا ہے، وہی خدا ہے

مفہوم: مشرق ہو یا مغرب ہر سمت میں اللہ تعالٰی کی قدرت اس کے جلوے موجود ہیں۔ ہر چیز میں اللہ تعالٰی کا عکس دکھائی دیتا ہے ۔

تشریح :

شاعر کہتا ہے کہ اللہ تعالٰی مشرق اور مغرب اور ان کے درمیان جو کچھ موجود تمام چیزوں کا رب اور ان کا خالق و مالک ہے۔ ہر قدرتی منظر اس کے نور سے منور ہے۔ مشرق، مغرب، شمال، جنوب غرض ہر سمت اسی کی طرف جاتی ہے۔ ان سمتوں میں موجود نباتات، جمادات، حیوانات اور اشرف المخلوقات سب اسی کے تابع ہیں۔ اسی کے متعین کردہ حدود میں رہ کر سفر حیات کرتے ہیں۔

اسی خالق اسی مالک کی ہے سب حمد و ثنا

آبشاروں کا ترنم ہو کہ گلبانگ ہزار

شاعر کہتا ہے کہ اللہ کی ذات دنیا کے کسی ایک علاقے میں محدود نہیں بلکہ وہ اس کائنات میں ہر جگہ موجود ہے۔ اللہ تعالٰی نے کائنات کے ہر منظر کو اپنی تجلی عطا کی ہے ۔ اگر ہم اُسے حقیقتاً دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کی معرفت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ہر ایک ذرے میں اللہ کی ذات نظر آئے گی۔ کائنات کی ہر شے چاہے وہ ریت کے ذرے کی طرح چھوٹی سی ہو یا بڑی چٹان کی مانند ہو، ہر شے میں اللہ تعالٰی کی ذات نظر آتی ہے۔ ہم اس کائنات میں جو کچھ بھی دیکھتے ہیں وہ اللہ تعالٰی کی ہی عکاسی کرتی ہے۔ پھولوں میں، رنگوں میں، آبشاروں میں، فضاؤں میں، چاند، سورج، ستاروں میں، آسمانوں میں، زمینوں میں ہر جگہ اور ہر شے میں اس کا وجود نظر آتا ہے۔

آفاق میں پھیلے گی کب تک نہ مہک تیری

گھر گھر لیے پھرتی ہے پیغام صبا تیرا

شعر نمبر  4:

کسی کو سوچوں نے کب سراہا؟ وہی ہوا جو خدا نے چاہا

جو اختیار بشر پہ پہرے بٹھا رہا ہے، وہی خدا ہے

مفہوم : اللہ تعالٰی نے انسان کو محدود اختیارات دیے ہیں۔ انسان خود مختار نہیں بلکہ اس کے اختیارات بھی اللہ کی مرضی سے مشروط ہیں۔ آخری فیصلہ ہمیشہ اللہ کا ہی ہوتا ہے ۔

تشریح:

اس شعر میں شاعر اللہ تعالٰی کی طاقت اور اختیار کی بہترین ترجمانی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تمام کام صرف اور صرف اللہ کی قدرت اور اختیار میں ہے۔ انسان کی سوچوں کا دائرہ کار بہت وسیع ہے لیکن ان کو عملی جامہ پہنانا انسان کے اختیار میں نہیں۔ اللہ کی قدرت اور اختیار اس قدر وسیع ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اسی کا غلام اور محکوم ہے۔ کائنات کی ہر شے غرض کہ ایک درخت کا پتا بھی اسکی مرضی کے بغیر حرکت نہیں کر سکتا۔ اگر انسان کسی چیز کی خواہش کرے اور اس کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل جد و جہد کرے لیکن تب بھی ہوتا وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے ۔

ارشاد باری تعالٰی ہے :

تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے ۔ اور

یعنی تمہارے چاہنے سے بھی کچھ نہیں ہو سکتا جب تک اللہ نہ چاہے جو تمام جہانوں کا رب ہے ۔

 اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اپنا خلیفہ بنا کر اس دنیا میں بھیجا۔ اسے عقل و شعور اور دانشمندی عطا کی لیکن اسے محدود اختیارات دیے یعنی اس کے اختیارات کی حد بندی بھی کی۔ اللہ جب چاہے انسانی رسی دراز کرتے جب چاہے کھینچ لے ۔ یہ دنیا عارضی ہے اور انسان اس میں ایک مسافر ہے وہ دنیا کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کر سکتا ۔ حقیقت میں اللہ کی ذات ہی قادر مطلق ہے۔ حقیقی اختیار کا مالک صرف اللہ کی ذات ہے۔ اس کے اختیار کی تو یہ شان ہے کہ وہ کام ہو جانے کا حکم فرماتا تو یہ ہے تو کام ہو جاتا ہے۔

لائی حیات آئے ، قضا لے چلی چلے

اپنی خوشی نہ آئے، نہ اپنی خوشی چلے

شعر نمبر  5 : 

نظر بھی رکھے، سماعتیں بھی، وہ جان لیتا ہے نیتیں بھی

جو خانہ لاشعور میں جگمگا رہا ہے، وہی خدا ہے

مفہوم : اللہ تعالٰی ہماری ہر حرکت، بات اور دلوں میں چھپی نیتوں کو جانتا ہے۔ ہم جو سوچتے ہیں اور جو کرتے ہیں وہ ہر چیز سے واقف ہے ۔

تشریح:

الله اس شعر میں شاعر اللہ تعالٰی کی صفات بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اللہ سمیع و بصیر ہے۔ وہ نظر بھی رکھتا ہے اور سب کچھ سنتا بھی ہے۔ اس کائنات میں جہاں کہیں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ انسان کو صرف سنتا اور دیکھتا ہی نہیں بلکہ ہر ایک چیز کا مکمل علم رکھتا ہے۔ وہ انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور اس کے ہر عمل کو جانتا ہے۔ انسان کی تقدیر، اس کے ماضی، حال کے ساتھ ساتھ اس کے مستقبل سے بھی واقف ہے۔ وہ حاضر کے ساتھ ساتھ غیب کا بھی بھر پور علم رکھنے والا ہے۔ جیسا کے قرآن کریم ارشاد ہے :

ترجمہ : ”رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے میں جو کچھ ٹھہرا ہوا ہے سب اللہ کا ہے اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے “۔

عام تصور کے مطابق لاشعور دماغ میں موجود ایسی یادداشتوں کو کہا جاتا ہے جو عموماً انسان کی خواہش یا حسرت کی حیثیت میں اس کے ذہن میں موجود ہوتی ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ اللہ کی رسائی انسان کے لاشعور تک بھی ہے یعنی انسان کی سوچ اور نیت تک اللہ سے پوشیدہ نہیں ۔ غرض یہ کہ اللہ کا علم ہر چیز پر محیط ہے، چاہے وہ ظاہر ہو یا انسان کے باطن میں پوشیدہ ہو۔ وہ انسانی شعور کے ساتھ ساتھ لاشعور کا بھی مالک ہے۔ انسانی خواہشات، یاد داشتیں، دل پر گزرنے والے ہر خیال اور کیفیت سے واقف ہے ۔

 رنگین غلافوں میں چھپاتے ہیں جنہیں ہم

روحوں کے وہ آزاد ، خدا دیکھ رہا ہے

شعر نمبر : 6 

کسی کو تاج و قار بخشے، کسی کو ذلت کے غار بخشے

جو سب کے ماتھے پہ مہر قدرت لگا رہا ہے، وہی خدا ہے

مفہوم : اللہ تعالٰی ہی ہے جو کسی کو عزت اور وقار عطا کرتا ہے اور کسی کو ذلت اور پستی میں ڈال دیتا ہے۔ یہ سب اسی کی قدرت اور حکمت کے تحت ہوتا ہے۔ انسان جتنی بھی کوشش کیوں نہ کرلے اصل فیصلے کا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہی ہے۔

تشریح :

شاعر کہتا ہے کہ تمام اختیارات کا مالک اللہ تعالٰی ہے ۔ انسان کی تقدیر اور حیثیت کا تعین وہی کرتا ہے۔ اس کائنات میں اللہ کی ہی حاکمیت ہے۔ عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے عزت اور شان و شوکت عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دے کر آزماتا ہے۔ وہی اللہ ہے جو انسانوں کی تقدیر لکھ رہا ہے اور اس کے سوا کوئی ہماری قسمت کے فیصلے نہیں کر سکتا۔ وہ جسے چاہتا ہے بے حساب عطا کرتا ہے، اس کی قدرت کی کوئی حد اور کوئی حساب نہیں۔ وہ گنہ گاروں کو بھی عطا کرتا ہے اور نیک لوگوں کو بھی۔ اسی طرح آزمائش کے لیے وہ نیک بندوں کا بھی امتحان لیتا ہے اور گنہگاروں کو بھی امتحان میں ڈالتا ہے۔

نہ تخت و تاج پہ نازاں ہو، نہ زخموں پر گلہ کر یہ سب تیری نہیں تدبیر، یہ سب اس کی رضا ہے

انسان کی تقدیر ، اس کی قسمت اور اس کے حالات کا جو فیصلہ کرتا ہے وہ صرف اور صرف اللہ تعالٰی کی ذات ہے۔ ماتھے پر مہر لگانے سے مراد ہے کہ اللہ تعالٰی انسان کے مقدر کا فیصلہ کرتا ہے۔ شاعر اللہ تعالٰی کی قدرت اور اختیارات کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے وہی ذات ہے اس کے ہاتھ میں کائنات کے ہر فیصلے کا اختیار ہے۔ کوئی بھی انسان اپنی مرضی سے سب کچھ حاصل نہیں کر سکتا جب تک اللہ کی رضا شامل نہ ہو۔ لہذا عزت و ذلت کامیابی اور ناکامی سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے ۔

شعر نمبر : 7

سفید اس کا، سیاہ اس کا، نفس نفس ہے گواہ اس کا جو شعلہ جاں جلا رہا ہے، بجھا رہا ہے، وہی خدا ہے

مفہوم : اللہ تعالٰی کی ذات مختار کل ہے۔ وہ ہر شے پہ قادر ہے۔ زندگی اور موت کا اختیار اللہ ہی کے پاس ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے زندگی عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے موت سے ہم کنار کرتا ہے ۔

تشریح :

اس شعر میں شاعر اللہ تعالٰی کی ذات و صفات صفات کو بیان کرتا ہے کہ مختار کل صرف اللہ تعالٰی کی ذات ہے۔وہ کائنات کا خالق و مالک ہے۔ جن و انس اور دیگر تمام مخلوقات اسی نے پیدا فرمائی۔ اس کائنات کی تخلیق میں اسے کسی کی ضرورت نہیں تھی۔ ہر چیز اسی کے حکم کے تابع ہے۔ اچھائی ہو یا برائی، روشنی ہو یا اندھیر ہر چیز اسی کے ہاتھ میں ہے۔ انسان کا ہر نفس، ہر سانس، ہر لمحہ، ہر حرکت اللہ تعالٰی کے وجود کی گواہی دیتا ہے۔ اللہ تعالٰی نے انسان کو بادشاہ بنایا اور وسیع اختیارات دیے ، فرشتوں کو بے پناہ قوت سے نوازا، جنات کو غیر معمولی صلاحیتیں دیں، انسان کو اپنا نبی اور خلیفہ بنایا لیکن اس کے باوجود کسی کو مختار کل نہیں بنایا کہ وہ کائنات میں جو چاہے تصرف کرے۔ اللہ تعالٰی نے ہر قسم کے کلی اختیارات اپنے پاس رکھے اور ہر انسان اس بات کا گواہ ہے کہ قسمت کے فیصلے اللہ کے ہاں ہوتے ہیں ۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے : ترجمہ : بے شک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے“۔

موت اور حیات ایسے واقعات ہیں جو دن رات رونما ہوتے ہیں۔ زندگی اور موت کا مالک صرف اللہ تعالٰی ہے۔ وہی ہے جو زندگی دے بھی رہا ہے اور لے بھی رہا ہے دنیا کے تمام جاندار، چرند پرند ہر وقت اللہ تعالٰی کی حمد و ثنا میں مصروف رہتے ہیں اور گواہی دیتے ہیں کہ یہ زندگی اسی کی عطا کی ہوئی ہے اور وہی سانس لینے اور دینے پر قادر ہے۔

جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے :

وہی ہے جو زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے ۔

یہ کہ یہ کائنات اللہ کی تخلیق کردہ ہے۔ وہ اس کے سیاہ اور سفید کا مالک ہے ۔ وہ ہر ۔ چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ کائنات کی ہر چیز ہر لمحہ اس کے وجود کی گواہی دیتی ہے اور اس کے حکم کے تابع ہے۔ وہ زندگی اور موت کا مالک ہے۔ انسان کی زندگی کا شعلہ اسی کے حکم سے جلتا اور بجھتا ہے ۔

زندگی ہے اپنے قبضے میں نہ اپنے بس میں موت

آدمی مجبور ہے اور کس قدر مجبور ہے

Leave a Reply