دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمھیں تو ہو

نعت رسول ” دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمھیں تو ہو” کا مفہوم اور تشریح

شعر نمبر 1 : 

دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تم ہی تو ہو

ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تم ہی تو ہو

مفہوم: ہمارا دل آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تمنا اور خواہش کی وجہ سے زندہ ہے اور ہم جس دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں وہ بھی آپ کی بدولت ہے۔

تشریح :

مولانا ظفر علی خان نے نعت کے اس مطلع میں حضور نبی پاک خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اپنی زندگی کی اصل روح اور مقصد قرار دیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس کی زندگی کی خواہشات اور آرزوؤں کی بنیاد صرف اور صرف نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ ہے۔ انہی کی محبت سے دل زندہ اور بامعنی ہے۔ ہمارا جینا مرنا، ہمارا وجود، سب کچھ حضور پاک السلام کے تصور ، ذکر اور عشق سے وابستہ ہے ۔ دنیا کی ہر چیز اسی وقت خوبصورت لگتی ہے جب اس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نسبت شامل ہو ۔ دنیا کی تمام تر رونقیں، رعنائیاں، چہل پہل اور خوبصورتی آپ کے وجود کی بدولت ہے۔ آپ  کی محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ اگر یہ محبت دل میں جاگزیں نہ ہو تو یہ زندگی بیکار اور بے معنی ہو جاتی ہے۔ آپ کی ذات مبارکہ ہمارا سب سے بڑا سہارا ہے۔ حضور کی سچی محبت کے بغیر کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا۔

خوشبو ہے دو عالم میں تیری اے گل چیدا

کس منہ سے بیاں ہوں تیرے اوصاف حمیدہ

اللہ تعالٰی نے آپ کو اس دنیا میں دونوں جہانوں کا سردار بنا کر بھیجا۔ آپ صلی علیہ السلام نے دنیا کو اسلام کے نور سے منور کر دیا اور اللہ تعالٰی کے احکامات کے مطابق بہترین نظام زندگی قائم کیا۔ جس پر چل کر دنیا امن و آتشی کا گہوارہ بن گئی۔ آپ کی ہی بدولت یہ کائنات ہے۔ آپ علیہ السلام کی ذات مبارکہ نہ ہوتی تو یہ کائنات بھی وجود میں نہ آتی۔

شعر نمبر 2 : 

جو ماسوا کی حد سے بھی آگے گزر گیا

اے رہ نورد جادہ اسریٰ تمہیں تو ہو

مفہوم : نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ ہستی ہیں جن کو وہاں تک رسائی ملی جہاں انسانی عقل پہنچنے سے قاصر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسریٰ کا کا راستہ طے کرنے والے نبی ہیں جن کو معراج کی سعادت نصیب ہوئی۔

تشریح:

اس شعر میں شاعر نبی کریم السلام کے عظیم معجزے معراج کا ذکر کرتے ہوئے آپ کے بلند مرتبے کو بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالٰی نے جو مقام نبی کریم کو عطا کیا وہ کسی نبی کو حاصل نہیں۔ اللہ تعالٰی کے بعد سب سے بڑا مرتبہ حضرت محمد مصطفی علیہ السلام کا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہ واحد ہستی ہیں جنہیں اللہ تعالٰی نے معراج کی رات مخلوقات کی تمام حدوں سے آگے اپنے قرب خاص میں بلایا یعنی آپ وہاں تک پہنچے جہاں نہ جبرائیل علیہ السلام جا سکے نہ کوئی اور اس رات حضرت جبرائیل آپ کو مسجد الحرام سے مسجد اقصی اور پھر آسمانوں پر لے گئے۔ آپ آسمانوں، ستاروں ، فرشتوں اور عرش کے پردوں کو چیر کر رب کائنات کے قریب پہنچ گئے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالٰی کے حکم سے کائنات کی ہر وسعت کو پا لیا اور یہ سب کچھ ایک رات کے حصے میں ہوا۔ آپ کے علاوہ یہ شرف، مقام و مرتبہ کسی کو حاصل نہ ہو سکا ۔

سب سے اعلی تیری سرکار ہے سب سے افضل

میرے ایمان مفصل کا یہی ہے مجمل

شعر نمبر 3 : 

گرتے ہووں کو تھام لیا جس کے ہاتھ نے

اے تاج دار یثرب و بطحا تم ہی تو ہو

مفہوم: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو گناہوں، گمراہی اور برائیوں سے بچایا اور ان کی رہنمائی کی۔ آپ مکہ اور مدینہ کے عظیم رہنما اور سردار ہیں۔

تشریح :

اس شعر میں شاعر نبی کریم  کی رحمت، شفقت اور کرم نوازی کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ نہایت رحم دل تھے۔ آپ نے اپنی رفاقت کے ذریعے محروم طبقات کو بھی عزت نفس عطا فرمائی، مظلوموں اور بے سہارا لوگوں کو سہارا دیا اور انہیں اخلاقی و روحانی زوال کا شکار ہونے سے بچایا۔ آپ غریبوں، محتاجوں اور مسکینوں پر شفقت فرماتے تھے، ہمیشہ ضرورت مند اور دکھی لوگوں کی مدد کرتے ۔ آپ نے کبھی کسی کے کام سے انکار نہیں کیا۔ آپ مکہ اور مدینہ کے عظیم رہنما تھے۔ آپ سے پہلے عرب کے لوگ بتوں کو پوجتے تھے ۔ دنیا کی تمام برائیاں ان میں موجود تھیں۔ آپ نے صداقت، امانت، حکمت، دانشوری اور سب سے بڑھ کر نبوت اور رسالت کی برکت سے اخلاقی اور روحانی پستیوں میں گھرے لوگوں کو سنبھالا، اعلیٰ اور حقیقی مقاصد سے آشنا کر کے جینے کا ہنر سکھایا۔

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے

دہر میں اسم محمد سے اُجالا کر دے

آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مدینہ میں پہلی اسلامی ریاست قائم کی اور آپ کی ہی بدولت فتح مکہ کے بعد پورے عرب میں اسلام کا غلبہ چھا گیا۔ شاعر نے آپ کو مکہ اور مدینہ کا بادشاہ کہہ کے مخاطب کیا ہے۔ آپ نے زیر دستوں کو زبردست، کمزوروں کو قوی، پست کو بلند، محکوم کو حاکم اور غلام کو قوی، پست کو بلند، محکوم کو حاکم اور غلام کو آقا بنا دیا۔ آپ سے اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ایک جاہل قوم دنیا کے ہر میدان میں آگے نکل گئی۔

شعر نمبر 4 :

دنیا میں رحمت دو جہاں اور کون ہے

جس کی نہیں نظیر وہ تنہا تم ہی تو ہو

مفہوم : آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم وہ واحد ہستی ہیں جو دنیا اور آخرت دونوں کے لیے رحمت بن کر آئے۔ آپ کی ذات بابرکت ایسی ذات ہے کہ جس کی اس دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

تشریح :

اس شعر میں شاعر نبی کریم کی شان بابرکت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے اپنے محبوب کو دونوں جہانوں کے لیے رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا۔ آپ دنیا کے لیے بھی رحمت ہیں اور آخرت کے لیے بھی۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں، جانوروں، پرندوں اور تمام مخلوقات کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ دین اسلام کی اشاعت کے دوران آپ نے بہت مشکلات اور مصائب کا سامنا کیا۔ کفار مکہ نے آپ کو بہت تکالیف پہنچائیں۔ اہل طائف نے آپ سے انتہائی بدسلوکی کی لیکن آپ نے کبھی کسی دشمن کے لیے بھی بد دعا نہ کی، کسی سے بدلہ نہیں لیا، اپنے جانی دشمن تک کو ایذا نہیں پہنچائی، ہمیشہ عفو و درگزر سے کام لیا۔ آپ کی حیات طیبہ لمحہ لمحہ رحمت و شفقت کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ رحم دلی اور درگزر میں آپ کا کوئی ثانی نہیں ہے۔

اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :

“اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا” ۔

آپ اپنی صفات میں تنہا ہیں۔ آپ جیسا کوئی اور دوسرا نہیں۔ دونوں جہانوں کی سرداری اللہ کے کرم سے آپ کے ہی پاس ہے۔ آپ وہ واحد ہستی ہیں جو ہر زمانے، ہر قوم اور ہر دور کے لیے رحمت و ہدایت کا کامل نمونہ ہیں۔

کوئی اس کا مشابہ ہے، نہ ہمسر ، نہ نظیر

نہ کوئی اس کا مماثل ہے، نہ قابل، نہ بدل

شعر نمبر 5 : 

پھوٹا جو سینہ شب تار الست سے

اس نور اولیں کا اجالا تم ہی تو ہو

مفہوم: شاعر نے کائنات کی تخلیق کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ازل کی اندھیری رات کے سینے سے جب نور خداوندی کا ظہور ہوا، تو وہ روشن کر دینے والا پہلا نور در اصل نور محمدی صلی اللہ علیہ والہ وسلم تھا۔

تشریح :

شاعر اس شعر میں شب تار الست کی تلمیح استعمال کرتے ہوئے سورہ اعراف کی آیت نمبر 172 کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں اللہ تعالٰی نے روز ازل تمام ارواح سے استفسار کیا کہ ”کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ جواب میں ہر ذی روح نے کہا : کیوں نہیں، ہم گواہی دیتے ہیں“۔

شاعر کہتا ہے کہ تخلیق کائنات سے قبل کی خاموشی اور گہرے اندھیرے میں پہلا نور جو ظاہر ہوا وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب نہ زمین تھی، نہ آسمان، نہ انسان چاروں طرف اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ حضور کا نور ہی وہ پہلا نور تھا جس سے تخلیق کا سلسلہ شروع ہوا۔ آپ اللہ تعالیٰ کے محبوب ترین بندے ہیں اور آپ ہی کی ذات کو تخلیق کا مرکز و محور بنایا گیا۔ اگر آپ نہ ہوتے تو یہ کائنات بھی نہ ہوتی۔ اسی نور محمدی  سے کائنات کو زندگی، روشنی اور ہدایت ملی۔

شاعر حضور سے مخاطب ہو کر کہتا ہے ” اے نبی الست کی تاریک رات کے سینے میں جو پہلا نور نمودار ہوا، اس کی پہلی کرن آپ ہی ہیں“۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ ہی وجہ تخلیق کائنات ہیں۔ یہ تمام رونقیں آپ کے دم سے ہی ہیں۔

نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر

وہی قرآں، وہی فرقاں ، وہی یسین، وہی طہ

شعر نمبر 6 : 

جلتے ہیں جبرائیل کے پر جس مقام پر

اس کی حقیقتوں کے شناسا تم ہی تو ہو

مفہوم : وہ مقام (سدرۃ المنتہی) جہاں تک حضرت جبرائیل علیہ السلام کی بھی رسائی نہیں، اللہ تعالٰی نے اس کی حقیقت سے آگاہی نبی پاک سلام کو دی ۔

تشریح:

اس شعر میں شاعر نے واقعہ معراج کی طرف اشارہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مسجد اقصی سے ہوتے ہوئے ساتویں آسمان کی سیر کرنے کے بعد جب سدرۃ المنتہی کے مقام پر پہنچے تو حضرت جبرائیل نے آگے جانے سے معذرت کر لی کہ یہاں سے آگے آپ کو تنہا سفر طے کرنا ہوگا کیونکہ اگر میں اس سے آگے بڑھا تو میرے پر جل جائیں گے۔ آپ وہاں سے آگے تشریف لے گئے، اللہ تعالٰی نے اس مقام سے آگے کے حقائق کی رسائی اپنے محبوب کو عطا فرمائی۔ شاعر کہتا ہے کہ جس مقام سے حضرت جبرائیل بھی آگے نہیں گزر سکے اللہ تعالٰی نے آپ کو اس سے آگے کے رازوں سے بھی واقف کروایا۔ آپ سدرۃ المنتہی سے آگے لامکاں کی حدود میں داخل ہو گئے اور اللہ تعالٰی سے ہم کلام ہونے کا شرف پایا۔

بقول شاعر:

دیکھی نہیں کسی نے اگر شان مصطفیٰ

دیکھے کہ جبرائیل ہے دربان مصطفی

شعر نمبر 7 : 

سب کچھ تمہارے واسطے پیدا کیا گیا

سب غایتوں کی غایت اولی تم ہی تو ہو

مفہوم : اللہ تعالٰی نے پوری کائنات نبی پاک کے لیے پیدا کی۔ اگر اس تخلیق کائنات کے مقاصد کو دیکھا جائے تو سب سے بلند و برتر مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ہے۔

تشریح:

اس شعر میں شاعر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی وجہ تخلیق کائنات ہیں۔ اللہ تعالٰی نے اس کائنات کی ہر شے نبی پاک کے لیے بنائی۔ اگر وہ نہ ہوتے تو یہ جہاں بھی نہ ہوتا۔ اللہ تعالٰی نے اس کائنات میں جو کچھ پیدا کیا وہ آپ ہی کے لیے پیدا کیا۔ تخلیق کائنات کی تمام وجوہات کی پہلی وجہ آپ ہی کی ذات بابرکت ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز جو اللہ تعالٰی نے پیدا کی اس کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہے اور اس کائنات کی تخلیق کا مقصد یہ تھا کہ آپ کو پیدا کرنا مقصود تھا۔ اس دنیا کی تمام خوبصورتی، بہاریں، روشنی اور زندگی آپ ہی کے دم قدم سے ہے۔ آپ کی بدولت یہ زمین پر رونق ہے، دلوں میں سکون ہے ، آپ ہی نے انسان کو جینے کا اصل طریقہ سکھایا۔ آپ کا رتبہ اور مقام سب سے افضل ہے۔ آپ دونوں جہانوں کے سردار ہیں، آپ کا پیغام رہتی دنیا تک کے لیے ہے۔ دنیا اور آخرت کی کامیابی کا دارومدار بھی آپ ہی کی سنت پر عمل کرنے میں ہے۔

خیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہے

نبض ہستی طیش آمادہ اسی نام سے ہے

یہ جو ساری کائنات کا نظام رواں دواں ہے یہ سب کچھ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بابرکت نام سے ہے۔ دنیا کی سانسیں، اس کی حرکت، زندگی کی روانی سب کچھ آپ ہی کے نام مبارک کی وجہ سے ہے۔

Leave a Reply