صدقہ فطر (فطرانہ): تعریف، احکام اور شرعی حیثیت

صدقہ فطر (فطرانہ): تعریف، احکام اور شرعی حیثیت

صدقہ فطر (فطرانہ): تعریف، احکام اور شرعی حیثیت

رمضان المبارک کے اختتام پر اللہ تعالیٰ نے صاحبِ استطاعت مسلمانوں پر ایک مالی عبادت لازم کی ہے جسے صدقہ فطر یا فطرانہ کہا جاتا ہے۔ یہ جہاں غریبوں کی خوشیوں کا وسیلہ ہے، وہیں روزے دار کے روزوں کی کوتاہیوں کا کفارہ بھی ہے۔

1. صدقہ فطر کی تعریف

شرعی اصطلاح میں ‘فطر’ کے معنی روزہ کھولنے یا افطار کرنے کے ہیں۔ چونکہ یہ صدقہ رمضان کے روزے ختم ہونے اور عید الفطر کے موقع پر ادا کیا جاتا ہے، اس لیے اسے صدقہ فطر کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مالی انفاق ہے جو حضور ﷺ نے زکوٰۃ کی فرضیت سے پہلے اس سال واجب قرار دیا جب رمضان کے روزے فرض ہوئے۔

2. شرعی حیثیت: واجب، سنت یا فرض؟

اکثر فقہاء (خصوصاً فقہ حنفی) کے نزدیک صدقہ فطر “واجب” ہے۔

یہ ہر اس مسلمان پر واجب ہے جو عید کے دن صاحبِ نصاب ہو (یعنی اس کے پاس اپنی اصلی ضروریات اور قرض سے زائد اتنا مال یا سامان ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو)۔

یہ صدقہ اپنی طرف سے اور اپنے نابالغ بچوں کی طرف سے ادا کرنا ضروری ہے۔

3. صدقہ فطر کی حکمت اور مقصد

اس کی دو بڑی حکمتیں احادیث سے ثابت ہیں:

روزوں کی پاکیزگی: روزے کے دوران ہونے والی لغزشوں، بیہودہ باتوں اور فحش حرکات کے اثرات کو ختم کرنا۔

غریبوں کی امداد: تاکہ معاشرے کے مفلس اور نادار لوگ بھی عید کی خوشیوں میں دوسروں کے ساتھ شریک ہو سکیں۔

4. قرآن و حدیث سے ثبوت (سند)

قرآن مجید سے حوالہ:

مفسرین کرام کے مطابق درج ذیل آیت میں ‘تزکیٰ’ سے مراد صدقہ فطر ادا کرنا ہے:

قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَکّٰٰی۔ وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہِ فَصَلّٰٰی۔

(سورہ الاعلیٰ، آیت نمبر 14-15)

“بیشک وہ شخص فلاح پا گیا جس نے (اپنے آپ کو صدقہ دے کر) پاک کر لیا۔ اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز (عید) پڑھی۔”

حدیثِ مبارکہ سے حوالہ:

صدقہ فطر کی فرضیت اور مقدار کے بارے میں صحیح بخاری کی روایت ہے:

فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى الْعَبْدِ وَالْحُرِّ، وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى، وَالصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ۔

(صحیح بخاری: 1503)

“رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کے غلام، آزاد، مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے سب پر کھجور یا جو کا ایک صاع صدقہ فطر مقرر فرمایا۔”

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

“رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر کو روزے دار کے لیے بیہودہ کاموں اور فحش باتوں سے پاکی اور مساکین کے لیے کھانے کا باعث قرار دیا۔” (سنن ابو داؤد: 1609)

5. صدقہ فطر کی مقدار (Quantity)

فقہ حنفی کے مطابق فطرانہ کی مقدار درج ذیل ہے:

جنس (Item) مقدار (وزن)

گیہوں (Wheat) 1.636 کلوگرام (یا اس کی مارکیٹ قیمت)

جو (Barley) 3.272 کلوگرام (یا اس کی مارکیٹ قیمت)

کھجور (Dates) 3.272 کلوگرام (یا اس کی مارکیٹ قیمت)

کشمش (Raisins) 3.272 کلوگرام (یا اس کی مارکیٹ قیمت)

  1. نوٹ: اگر کوئی شخص بیرون ملک (مثلاً سعودی عرب) میں مقیم ہے تو اسے وہاں کی قیمت کا لحاظ کرتے ہوئے رقم نکالنی چاہیے، تاہم وہ یہ رقم اپنے وطن میں موجود ضرورت مند رشتہ داروں کو بھیج سکتا ہے۔
  2. 6. ادائیگی کا وقت
  3. صدقہ فطر کا وقت عید کا چاند نظر آنے کے بعد شروع ہو جاتا ہے۔
  4. افضل وقت: عید کی نماز کے لیے جانے سے پہلے ادا کرنا ہے۔
  5. اگر کوئی پہلے (رمضان میں) ادا کرنا چاہے تو یہ بھی جائز ہے۔ لیکن اگر عید کی نماز کے بعد ادا کیا تو وہ عام صدقہ شمار ہوگا، واجب ادا ہو جائے گا مگر فضیلت کم ہو جائے گی۔
  6. 7. مستحقین کون ہیں؟
  7. صدقہ فطر کے مستحق وہی لوگ ہیں جو زکوٰۃ کے مستحق ہیں۔
  8. اپنے غریب رشتہ داروں (ماں، باپ، دادا، دادی اور اولاد کے علاوہ) کو دینا زیادہ اجر کا باعث ہے کیونکہ اس میں صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔
  9. انتہائی ضرورت مند، بیوہ اور یتیم اس کے اولین حقدار ہیں۔

Leave a Reply