سوشل میڈیا اور سنسنی خیزی: معلومات کی ترسیل یا ذہنی ہیجان؟؟
موجودہ ڈیجیٹل عہد میں سوشل میڈیا معلومات کی ترسیل کے ایک انقلاب آفرین ذریعے کے طور پر ابھرا ہے۔ فیس بک، ٹویٹر اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز نے جغرافیائی حدود کو مٹا کر دنیا کو ایک “عالمی گاؤں” (Global Village) میں تبدیل کر دیا ہے۔ جہاں اس تیز رفتاری نے علم تک رسائی کو آسان بنایا، وہیں اس نے ‘سنسنی خیزی’ کے ایک ایسے خطرناک رجحان کو بھی جنم دیا ہے جو معاشرتی، فکری اور اخلاقی ڈھانچے کے لیے چیلنج بن چکا ہے۔ آج سوشل میڈیا کی رنگین دنیا محض حقائق کا آئینہ دار نہیں رہی بلکہ یہ مبالغہ آرائی اور جذبات کو برانگیختہ کرنے کا ایک ایسا آلہ بن گئی ہے جس کا مقصد عوامی توجہ کو مسخر کرنا ہے۔
سنسنی خیزی دراصل کسی عام واقعے کو غیر معمولی بنا کر پیش کرنے کا فن ہے، جس میں تحقیق کے بجائے اشتعال انگیزی اور جذباتی پیرائے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا کے تناظر میں یہ عمل اب محض تفریح تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک باقاعدہ نفسیاتی اور تجارتی ہتھیار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ‘ویوز’ (Views) اور ‘لائیکس’ کی اس اندھی دوڑ میں ‘کلک بیٹ’ (Clickbait) کا سہارا لیا جاتا ہے، جہاں گمراہ کن سرخیاں اور مبالغہ آمیز تصاویر (Thumbnails) صارف کے تجسس کو ابھارتی ہیں۔ اس عمل سے مواد تخلیق کرنے والے تو معاشی فائدہ حاصل کر لیتے ہیں، مگر اس کے نتیجے میں حقائق کی پامالی اور عوامی شعور کی تذلیل ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا کے پیچیدہ الگورتھمز اس سنسنی خیزی کو پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ ڈیجیٹل نظام اس طرح ترتیب دیے گئے ہیں کہ وہ اس مواد کو زیادہ فروغ دیتے ہیں جس پر عوامی ردعمل شدید ہو۔ چونکہ سنسنی خیز اور متنازع خبریں انسانی جذبات کو تیزی سے متاثر کرتی ہیں، اس لیے یہ الگورتھمز انہیں ‘جنگل کی آگ’ کی طرح پھیلا دیتے ہیں۔ ایک تحقیقی مطالعے کے مطابق، سنسنی خیز جھوٹی خبریں، سچی اور متوازن خبروں کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ تیزی سے سفر کرتی ہیں۔ تصدیق اور تحقیق کے اس فقدان نے ‘فیک نیوز’ کے فتنے کو جنم دیا ہے، جو معاشرے میں غلط فہمیاں اور بے یقینی پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے۔
اس صورتحال کے نفسیاتی اثرات بھی نہایت گہرے اور تشویشناک ہیں۔ سنسنی خیز مواد انسانی دماغ میں ‘ڈوپامین’ کے اخراج کا باعث بنتا ہے، جس سے صارف غیر محسوس طریقے سے اس ہیجان زدہ کیفیت کا عادی ہو جاتا ہے۔ یہ مسلسل بے چینی، اضطراب اور ذہنی تناؤ معاشرتی رویوں میں تلخی پیدا کرتا ہے۔ جب خبروں کو سیاسی یا نظریاتی رنگ دے کر پیش کیا جاتا ہے، تو معاشرہ واضح گروہوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ سنسنی خیزی لوگوں کے تعصبات کو ہوا دیتی ہے، جس سے رواداری اور باہمی احترام جیسے اوصاف ختم ہو جاتے ہیں اور انتہا پسندانہ رویے جنم لیتے ہیں۔
اخلاقی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو سنسنی خیزی کی ہوس نے انسانی اقدار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کسی کی نجی زندگی کے معاملات کو اچھالنا یا کسی حادثے کی لرزہ خیز ویڈیو کو محض وائرل کرنے کے لیے شیئر کرنا اخلاقی پستی کی علامت ہے۔ آج کے دور میں ‘توجہ’ (Attention) ایک کرنسی بن چکی ہے اور ‘ڈیٹا’ سونا؛ لہٰذا بڑی کمپنیاں اور انفلوئنسرز مالی فوائد کی خاطر انسانی ہمدردی کے بنیادی اصولوں کو فراموش کر دیتے ہیں۔ جوں جوں سنسنی خیزی بڑھتی ہے، توں توں اشتہارات کی بھرمار اور مالی منافع میں اضافہ ہوتا ہے، مگر اس سودے میں انسانیت اور سچائی کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ سوشل میڈیا ایک ایسی دو دھاری تلوار ہے جو علم بانٹنے کے ساتھ ساتھ سنسنی کے دلدل میں بھی دھکیل سکتی ہے۔ اس ڈیجیٹل دور میں ایک طالب علم اور با شعور شہری کے لیے ‘تنقیدی شعور’ (Critical Thinking) کا حامل ہونا ناگزیر ہے۔ ہمیں کسی بھی مواد کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی صداقت، افادیت اور اخلاقی پہلو کا جائزہ لینا چاہیے۔ سنسنی عارضی ہوتی ہے جبکہ حقیقت پائیدار ہے۔ اگر ہم اپنی ڈیجیٹل زندگی کو ذمہ داری اور تحقیق کے تابع کر لیں، تو ہم نہ صرف خود کو ذہنی انتشار سے بچا سکتے ہیں بلکہ ایک متوازن اور صحت مند معاشرے کی تشکیل میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں ۔