خاطر سے یا لحاظ سے ، میں مان تو گیا
آج کی اس پوسٹ میں ہم جماعت گیارہویں ، پنجاب بورڈ کے نصاب میں شامل شاعر میرزا داغ دہلوی کی غزل” خاطر سے یا لحاظ سے ، میں مان تو گیا ” کا مفہوم ، لغت اور تشریح کریں گے ۔
شعر نمبر 1 :
خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا
جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا
مشکل الفاظ کے معانی : لحاظ( ادب ، مروت ) مفہوم : اے محبوب میرے دل میں تیرا بڑا مقام تھا مگر جب سے تو نے جھوٹی قسم کھائی ہے میرے دل میں تیرا مقام کم ہو گیا ۔
تشریح : اردو شاعری کا محبوب بڑا ظالم اور کھٹور دل ثابت ہوا ہے ۔ عاشق صادق کو دکھ دینا اس کا شیوہ ہے ۔ داغ دہلوی نے تشریح طلب شعر میں بڑے سادہ الفاظ میں اپنے محبوب کی بے اعتنائی کو بیان کیا ہے کہ اے میرے محبوب تم نے یہ جھوٹی قسم اٹھا کر بہت غلط کیا ہے ۔ میں تو تیری ہر بات تسلیم سر تسلیم خم کرتا تھا پھر تم نے یہ عمل کیوں کیا ۔ میں تو تیرے ایک اشارے پر جان چھڑکتا تھا مگر آج یہ جھوٹی قسم کھا کر تم نے میرے دل میں اپنا مقام بنایا نہیں بلکہ کھو دیا ہے ۔ یہ جو جھوٹی قسم تم نے کھائی ہے اس سے تیرا ایمان زائل ہو چکا ہے۔ میں تو محبت کا مارا تھا میں نے تو ہر بات پہ اپنے لب سی رکھے تھے مگر تم نے انتہا کر دی ہے ۔ تمہیں قسم کھانے کی کیا ضرورت تھی ۔ اب بھی تیری وفا کا بھرم رکھنے کے لیے یہ جانتے ہوئے بھی کہ تو نے جھوٹ بولا ہے ۔ میں چپ ہو گیا ہوں کیونکہ بقول شاعر :
خموش ! اے دل بھری محفل میں چلانا نہیں اچھا
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں
عاشق اپنے محبوب کی اس جذباتی پن سے بہت نالاں ہے کہ اے میرے محبوب یہ جو عمل تم نے کیا ہے اس جھوٹی قسم سے تیرے ایمان میں خلل ضرور واقع ہوگا گویا شاعر حقیقی معنوں میں اپنے محبوب سے بے پناہ محبت کرتا ہے اور محبوب کے قسم کھانے والے فعل سے رنجیدہ ہے۔
شعر نمبر 2 :
دل لے کے مفت ، کہتے ہیں کچھ کام کا نہیں
الٹی شکایتیں ہوئیں ، احسان تو گیا
مشکل الفاظ کے معانی :مفت ( بلا قیمت ) ، شکایت ( گلا)
مفہوم : محبوب کو شاعر کا دل مفت میں مل گیا ہے اس لیے اسے اس دل کی قدر و قیمت نہیں ۔
تشریح : تشریح طلب شعر میں شاعر کہتا ہے کہ میں نے اپنے دل کی خوبصورت نگری اپنے محبوب کے نام مفت میں کر دی ہے ۔ دل کی نگری کا وارث صرف اور صرف میرا محبوب ہے ۔ وہ جو چاہے کرے یہ دل اس کی وراثت ہے ۔ اب اس پر میرا کچھ اختیار نہیں۔ اب محبوب کو چاہیے تھا کہ عاشق کا احسان مند ہوتا کیونکہ دل سے زیادہ خوبصورت اور قیمتی چیز اس کائنات کے اندر نہیں ہے جو عاشق نے محبوب کے نام کر دی لیکن محبوب نے اپنی بے وفائی کا انداز اس نہج پر بھی جاری رکھا اور بجائے عاشق کا شکریہ ادا کرتا اس نے عاشق کے خلاف شکایتوں کا ایک نہ ختم ہونے والا دفتر کھول دیا اور اس کے خلاف طرح طرح کی باتیں کرنا شروع کر دیں ۔ یہ ایک فطرتی امر ہے کہ جو بھی چیز انسان کو آسانی کے ساتھ مل جاتی ہے اس کی قدر نہیں ہوتی بعینہ محبوب کو شاعر کا دل بڑی آسانی سے میسر آ گیا ۔ اس لیے اس نے ہٹ دھرمی کی آخیر کر دی کہ دل جیسے خوبصورت اور انمول چیز لے کر بھی محبوب اسے اپنے اعتبار کے قابل نہیں گردانتا ۔ بظاہر آسان سا شعر ہے مگر محبت کے لطیف موضوع نے اس شعر کی قدر میں اضافہ کر دیا ہے ۔
شعر نمبر 3 :
ڈرتا ہوں دیکھ کر دل بے آرزو کو میں
سنسان گھر یہ کیوں نہ ہو ، مہمان تو گیا
مشکل الفاظ کے معنی : بے آرزو (جس کی خواہش نہ ہو) ، سنسان( ویران )
مفہوم : جیسے سنسان جگہوں پر جانا کوئی پسند نہیں کرتا ، میرا بھی ایک سنسان جگہ کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں کوئی بھی جانا پسند نہیں کرتا کیونکہ کہ اس ک اصل مہمان یعنی محبوب چکا گیا ہے۔
۔
تشریح : عاشق اپنے دل ہی دل کے آنگن میں جب جھانکتا ہے تو اسے خوف آتا ہے کیونکہ اس کی ساری خوبصورتی اور رعنائیاں ماند پڑ چکی ہیں۔ اس کے دل کا چمن تاراج ہو چکا ہے اور اس کے دل میں آرزوؤں کے تمام بیج سوکھ چکے ہیں۔ اس حالت زار کو دیکھ کر شاعر خود ہی وحشت کا شکار ہو چکا ہے اور اپنے اجڑے ہوئے دل کو دیکھ کر لرز جاتا ہے کیونکہ اس کے دل کے گھر میں جو رہتا تھا وہ مکین مکان چھوڑ گیا ۔ اس دل کی خوشیاں جس سے آباد تھیں وہ شخص شاعر کو کسی گزرے ہوئے لمحے کی طرح بھول چکا ہے ۔
بقول مرزا غالب :
تھی وہ اک شخص کے تصور سے
اب وہ رعنائیِ خیال کہاں
یہ ایک فطرتی سا عمل ہے کہ انسان کو ویران اور اجڑی ہوئی جگہوں سے خوف آتا ہے ۔ جن مکانوں میں کوئی نہیں رہتا وہ آسیب کا مسکن بن جاتے ہیں۔ ان سے دل کے اجالے میں بھی خوف آتا ہے ۔ عاشق کے دل کا حال بھی کسی بند مکان کی طرح ہے کیونکہ اس مکان کا مکین یعنی اس دل میں بسنے والا محبوب اس دل کے نگر کو ویران کر کے کسی اور نگر کا باسی ہو چکا ہے ۔ اس لیے شاعر کہتا ہے کہ عاشق صادق کا دل وحشتوں ، اذیتوں اور دکھوں کی آماج گاہ بن چکا ہے ۔ اس لیے کہ جس کے دم سے اس دل کی رونقیں تھی وہ سب کچھ سمیٹ کر اپنے ساتھ لے گیا ۔ وہ چار دنوں کا مہمان تھا اس دل میں آگ لگا کر چل بسا ۔
بقول شاعر :
نہ رہا دل میں وہ بے درد اور درد رہا
مکان کس کا تھا مکیں کون ہوا
شعر نمبر 4 :
افشائے راز عشق میں گو ذلتیں ہوئیں
لیکن اسے جتا تو دیا ، جان تو گیا
مشکل الفاظ کے معانی : افشائے( راز کھولنا) ، جتا دینا (بتانا ، محسوس کروانا)
مفہوم : حال دل بتانے سے بہت رسوائیاں ہوئیں لیکن محبوب کو بتا تو دیا کہ میں اسے دل و جان سے چاہتا ہوں ۔
تشریح : راہ محبت میں مشکل ترین بات اظہار محبت ہے یہ ایسا مرحلہ ہے جس کے لیے عاشق ہزار بار سوچتا ہے کہ یہ ہوگا ، تو کیا ہوگا۔ وہ ہوگا تو کیا ہوگا ۔ بہرحال عاشق اپنے دل و جگر کو تھام کر جب اظہارِ وفا اپنے محبوب کے ساتھ کرتا ہے تو اس پر محبوب کا رد عمل بڑا شدید قسم کا ہوتا ہے ۔ وہ سخت برہم ہوتا ہے اور عاشق کو لعن طعن کرتا ہے ۔ اس کی بہت زیادہ تذلیل ہوتی ہے چونکہ عاشق نے دل میں یہ مسمم ارادہ کر لیا ہوتا ہے کہ میں نے اپنی محبت اپنے محبوب کو بتا کر ہی دم لوں گا تو اسے محبوب کی یہ لعن طعن اتنی بری معلوم نہیں ہوتی ۔ اس کا دل تو خوشی کے گھوڑے پر بیٹھا ناچ رہا ہے کہ آج میں نے اپنے دل کی ساری داستان اپنے محبوب کے گوش گزار کر دی ہے ۔ محبوب کی اس شدید رد عمل پر وہ بالکل نالاں نہیں ہے بلکہ بقول شاعر :
شدت درد شرمندہ نہیں میری وفا
دوست گہرے ہوں تو پھر زخم بھی گہرے ہوتے ہیں
شعر کے دوسرے مصرعے میں عاشق کی خوشی کا ذکر بڑی عمدگی سے ہوا ہے کہ عاشق اس بات پر خوش ہے کہ کم از کم آج میرے محبوب کو علم تو ہو گیا ہے کہ کوئی اس کے لیے اپنا دل ہار چکا ہے اور اسے اپنی کل کائنات گردانتا ہے لہٰذا محبت میں ملنے والی رسوائیاں اتنی اہم نہیں ہوتی جتنا کہ یہ امر اہم ہے کہ محبوب تک عاشق اپنے دل کا مدعا پہنچانے میں کامیاب ہو چکا ہے اور محبوب کو بخوبی پتہ چل چکا ہے کہ کوئی اسے دل و جان سے چاہتا ہے ۔
شعر نمبر 5 :
گو نامہ بر سے خوش نہ ہوا پر ہزار شکر
مجھ کو وہ میرے نام سے پہچان تو گیا
مشکل الفاظ کے معانی : نامہ بر( قاصد)
مفہوم : قاصد کے ہاتھوں جو میں نے خط بھیجا اس وجہ سے محبوب ناراض ہوا مگر یہ بھی کیا کم ہے کہ اس نے مجھے پہچان تو لیا ۔
تشریح : تشریح طلب شعر میں شاعر کہتا ہے کہ عاشق نے اپنا دل ، اپنا حال دل صفحہ قرطاس اس پر بکھیرا اور قاصد کو دیکھ کر اپنے محبوب کی طرف روانہ کر دیا ۔ وہ محبت نامہ جو ہی محبوب نے پڑھا تو اس نے قاصد کو برا بھلا کہا اور اس کی بہت بےعزتی کی مگر اس بات پر عاشق خوشی کا اظہار کرتا ہے کہ کم از کم اس محبت نامے میں وہ میرا نام پڑھ کر یہ تو جان گیا ہے کہ یہ حال دل کس نے لکھا ہے ۔ یہ بات الگ ہے کہ اس نے قاصد بیچارے کو طعن و ملامت کا نشانہ بنایا ہے مگر عاشق کی خوشی اس میں سوا ہو جاتی ہے کہ اس کے محبوب کو یہ علم ہوا کہ یہ حال دل کس نے اس کی طرف بھیجا تھا ۔ گویا محبوب تک میری دلی کیفیت پہنچ گئی اور وہ اس بات کو بھی جان گیا کہ یہ نامہ کس کا تھا۔ عاشق کے لیے یہ مسرت و شادمانی کی بات ہے کہ اس کے نام سے جو اس کی پہچان محبوب نے کر لی ہے ۔ یہ خوشی اتنی ہے کہ قاصد کی بےعزتی دب کے رہ گئی ہے اور عاشق اس بات پر ہزار ہا شکر کر رہا ہے ۔
شعر نمبر 6 :
بزمِ عدو میں صورت پروانہ دل میرا
گو رشک سے جلا تیرے قربان تو گیا
مشکل الفاظ کے معانی : بزم عدو( دشمن کی محفل) ، صورت پروانہ( پروانے کی طرح ) ، رشک (حسد) مفہوم : بزم اغیار میں محبوب کو دیکھ کر شاعر کا دل حسد کی آگ میں جل کر راکھ ہو گیا ۔
تشریح : اس شعر میں شاعر نے روایتی موضوع کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے ۔ شاعر کہتا ہے کہ جب میں نے اپنے محبوب کو غیروں کی محفل میں دیکھا تو مجھ پر قیامت گزر گئی۔ ایک عاشق کے لیے اس سے اذیت ناک بات اور کیا ہوگی کہ اس کا محبوب غیروں کی محفل میں بیٹھا ہوا ہے ۔ یہ ایسا منظر ہے کہ جو ایک سچے عاشق کو کبھی گوارا نہیں ہوتا ۔ محبوب کے اس ہرجائی پن سے عاشق بڑا مضطرب ہوتا ہے ۔ اس کا دل انگاروں پر لوٹنے لگتا ہے حتیٰ کہ وہ حسد کی وجہ سے جلنا شروع کر دیتا ہے بلکہ اسی طرح جس طرح شمع پر پروانے دیوانہ وار خود کو بھسم کرتے جاتے ہیں ۔ اس پروانے کی طرح عاشق بھی حسد اور جدائی کی آگ میں جلنا شروع ہو جاتا ہے اور خود کو ختم کر لیتا ہے ۔ اپنے محبوب کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیتا ہے ۔ گو عاشق حسد کی آگ میں جلا ہے لیکن جلا تو محبوب کی خاطر ہی ہے۔ اس لیے شاعر کہتا ہے اگرچہ میرا دل رشک سے قربان ہوا لیکن محبوب پر دل قربان کرنے کا موقع تو ملا ۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ رشک سے قربان ہوا یا حسد سے قربان ہوا ۔
شعر نمبر 7 :
ہوش و حواس و تاب و تواں داغ جا چکے
اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا
مشکل الفاظ کے معانی : تاب و تواں( طاقت و توانائی ) ، ہوش و حواس( ہوش، سمجھ بوجھ)
مفہوم : تشریح : مقطع کے اس شعر میں شاعر نے بڑے دھیمے لہجے میں اپنے دل کا حال بیان کیا ہے۔ مثل مشہور ہے کہ” جان ہے تو جہان ہے ” ۔ صحت مند انسان زندگی کی تمام خوبصورتیوں اور رنگوں سے مستفید ہوتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ایک بیمار آدمی زندگی کی ان رونقوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا ۔
تشریح طلب شعر میں شاعر کہہ رہا ہے کہ ہماری جینے ہماری زندگی جینے کا جو سامان تھا وہ آہستہ آہستہ گھٹتا جا رہا ہے ۔ اب ہم آخری مراحل میں ہیں گویا ہماری زندگی کا اب کوئی بھروسہ نہیں ہے بلکہ یوں لگتا ہے کہ ہماری مثال صبح کے چراغ کی مانند ہے ۔ اب محسوس یہی ہوتا ہے جسے آنے والا کوئی بھی ہوا کا لمحہ گل کر سکتا ہے ۔ زندگی کی اس دوڑ میں ہم سب کچھ گوا چکے ہیں ۔ اب ہاتھ میں کچھ نہیں اب محسوس یہی ہوتا ہے کہ جانے کا وقت آ چکا ہے اور تمام قوتیں اور طاقتیں جواب دے چکی ہیں اور سب سامان جو زندگی کا لازمہ تھا وہ ہوا چاہتا ہے ۔ اب زندگی کی آخری ہچکی کے منتظر ہیں ۔ ہمارا مال و متاع اور سامان زیست جا چکا ہے اور ہم بھی اس دار فانی سے کوچ کرنے والے ہیں۔
بقول خواجہ میر درد :
نے گل کو ہے ثبات ، نہ ہم کو ہے اعتبار
کس بات پر چمن ہوس رنگ و بو کرے
اسی مضمون کو بہادر شاہ ظفر نے یوں بیان کیا ہے:
دن زندگی کے ختم ہوئے شام ہو گئی
پھیلا کے پاؤں سوئیں گے کنج مزار میں
نوٹ : امید ہے کہ آپ داغ دہلوی کی غزل کی تشریح کے بارے میں تفصیل سے پڑھ چکے ہوں گے ۔ اگر اس پوسٹ میں آپ کو کوئی غلطی نظر آئے یا اس کو مزید بہتر کیسے کیا جائے تو کومنٹس میں ہماری ضرور اصلاح فرمائیں اور اگر اس سے متعلقہ کچھ سمجھ نہ پائیں تو بھی کومنٹس کر کے پوچھ سکتے ہیں ۔
شکریہ