تاریخ کا دھارا بدل گیا: جب سپر پاور کو دنیا نے ‘نو’ کہہ دیا

 

تاریخ کا دھارا بدل گیا: جب سپر پاور کو دنیا نے ‘نو’ کہہ دیا

تمہید: فرعونیت کا زوال اور نئی تاریخ کا آغاز

آج کی صبح جب دنیا بیدار ہوئی تو سورج کی کرنیں ایک بدلی ہوئی دنیا پر پڑ رہی تھیں۔ تاریخِ انسانی میں ایسے لمحات صدیوں بعد آتے ہیں جب وقت کا پہیہ یکسر گھوم جاتا ہے اور وہ طاقتیں جو خود کو ناقابلِ شکست سمجھتی تھیں، ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہیں۔ آج وہ واقعہ رونما ہو چکا ہے جس کا تصور شاید دہائیوں سے ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ امریکہ، جو خود کو دنیا کا واحد تھانیدار اور عالمی نظام کا خالق سمجھتا تھا، آج اپنے ہی اتحادیوں کے سامنے تنہا کھڑا ہے۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی، جاپان، آسٹریلیا اور چین—وہ ممالک جو کبھی واشنگٹن کی ایک پکار پر لبیک کہتے تھے—آج سب نے یک زبان ہو کر وقت کی سپر پاور کو “یس سر” کے بجائے “نو سر” کہہ دیا ہے۔ یہ محض ایک انکار نہیں بلکہ ایک نئے عالمی نظام کا اعلان ہے جہاں ظلم اور سفاکیت کی حکمرانی کا سورج غروب ہو رہا ہے۔

وہ عظیم انکار: جب نیٹو اور اتحادیوں نے پیٹھ پھیر لی

امریکی صدر، جو اپنی مخصوص جارحیت اور دھمکی آمیز لہجے کے لیے جانے جاتے ہیں، آج اپنے ہی کمرے میں بند ہو کر دنیا کو بددعائیں دے رہے ہیں۔ یہ منظر تاریخ نے پہلے کبھی نہیں دیکھا کہ امریکی صدر نیٹو کے رکن ممالک کو دھمکی دیں کہ “تمہارے ساتھ بہت برا ہوگا” اور جواب میں اسے خاموشی یا اس سے بھی بدتر، تضحیک کا سامنا کرنا پڑے۔ برطانیہ، جو ہمیشہ امریکہ کا دستِ راست رہا ہے، اس کے وزیراعظم نے اس بار نہ صرف انکار کیا بلکہ سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے واشنگٹن کی جنگی جنونیت کو آئینہ دکھا دیا۔

امریکی مطالبہ سادہ تھا: “اپنے جنگی جہاز بھیجو اور آبنائے ہرمز کو ہمارے لیے کھلوایو۔” لیکن دنیا نے جواب دیا کہ یہ جنگ آپ کی ذاتی ہوسِ اقتدار اور اسرائیل کے تحفظ کی جنگ ہے، یہ ہماری جنگ نہیں ہے۔ یورپ اور ایشیا کے ممالک نے واضح کر دیا کہ یہ معرکہ آپ نے بغیر کسی مشاورت کے، بغیر کسی ٹھوس وجہ کے اور بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے شروع کیا ہے، لہٰذا اب اس کا انجام بھی آپ کو تنہا ہی بھگتنا ہوگا۔

امریکہ اور اسرائیل: سفاکیت اور ذلت کا سفر

امریکہ اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ گزشتہ کئی دہائیوں سے دنیا میں خوف اور دہشت کی علامت بنا ہوا تھا۔ امریکہ نے کبھی کسی قانون کا احترام نہیں کیا۔ اس نے ایک کمزور ملک کے صدر کو اٹھا کر لے جانے سے لے کر، منتخب حکومتوں کو گرانے، باغی گروہ پیدا کرنے اور آزاد منش لیڈروں کو تختہ دار پر چڑھانے تک، ہر وہ جرم کیا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اسرائیل، جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا ایک مسلح اڈہ بن چکا ہے، اس نے معصوم فلسطینیوں پر وہ مظالم ڈھائے کہ انسانیت کی روح کانپ اٹھی۔

لیکن قدرت کا قانون ہے کہ “سدا بادشاہی میرے رب کی ہے”۔ آج وہی امریکہ ذلیل و خوار ہو رہا ہے۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے امریکی فوجی اڈے، جو کبھی رعب اور دبدبے کی علامت تھے، اب ایک ایک کر کے بند ہو رہے ہیں۔ کوئی ملک اپنی سرزمین پر امریکی بوٹ برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ امریکی سفارت خانے، جو کبھی سازشوں کے گڑھ ہوا کرتے تھے، اب مقفل ہو رہے ہیں کیونکہ میزبان ممالک اب اس بوجھ کو مزید اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔

ایران: پابندیوں سے مزاحمت اور فتح تک کا سفر

کس نے سوچا تھا کہ ایران جیسا ملک، جو دہائیوں سے بدترین معاشی پابندیوں کا شکار ہے، جس کی معیشت کو کچلنے میں امریکہ نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، وہی ایران آج امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک ایسی مصیبت بن جائے گا جس کا کوئی حل واشنگٹن کے پاس نہیں۔ ایران نے ثابت کر دیا کہ جنگیں صرف جدید اسلحے سے نہیں بلکہ ایمان، حوصلے اور درست حکمتِ عملی سے لڑی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد نے ایک چھوٹے سے ملک کو وہ طاقت عطا کی کہ اس نے وقت کے فرعونوں کا غرور خاک میں ملا دیا۔

آج اسرائیل، جو اپنے دفاعی نظام ‘آئرن ڈوم’ پر ناز کرتا تھا، وہ ایران کے میزائلوں اور ڈرونز کے سامنے بے بس نظر آ رہا ہے۔ امریکہ، جو پوری دنیا کو اپنی انگلیوں پر نچاتا تھا، آج آبنائے ہرمز کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا ہے کیونکہ وہاں اب صرف اس کی مرضی چلتی ہے جو حق پر ہے یا جسے ایران اجازت دے۔

آبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ اور ایران کا کنٹرول

آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) صرف ایک آبی گزرگاہ نہیں ہے، بلکہ یہ دنیا کی معاشی شہ رگ ہے۔ یہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا میں استعمال ہونے والے کل تیل کا تقریباً 20 سے 30 فیصد حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔

آبنائے ہرمز سے ہونے والا کاروبار:

پٹرولیم مصنوعات: سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات اور کویت کا زیادہ تر خام تیل اسی راستے سے ایشیا، یورپ اور امریکہ جاتا ہے۔

مائع قدرتی گیس (LNG): قطر، جو دنیا کا سب سے بڑا ایل این جی برآمد کنندہ ہے، اسی راستے کو استعمال کرتا ہے۔ جاپان، جنوبی کوریا اور بھارت جیسے ممالک کی توانائی کا دارومدار اسی گزرگاہ پر ہے۔

تجارتی کارگو: دنیا بھر کی بڑی بڑی کمپنیاں اپنی مصنوعات خلیجی ممالک تک پہنچانے کے لیے اسی راستے کا انتخاب کرتی ہیں۔

آج صورتحال یہ ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا مکمل کنٹرول ہے۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اس راستے سے صرف وہی بحری جہاز گزر سکیں گے جو جنگ کے مخالف ہیں اور جو امریکہ و اسرائیل کی سفاکیت کا حصہ نہیں ہیں۔ یہ امریکہ کے لیے بدترین معاشی شکست ہے کیونکہ اگر یہ راستہ مکمل طور پر بند ہو گیا تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو لیں گی اور امریکی معیشت تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائے گی۔

انجام: ایک نئی سحر کا پیغام

امریکہ نے اس جنگ میں نہ صرف اپنے دوست کھوئے ہیں بلکہ اپنی رہی سہی ساکھ بھی کھو دی ہے۔ اسرائیل، جو خود کو ناقابلِ تسخیر سمجھتا تھا، آج اپنے وجود کی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور اس کا انجام اب دیوار پر لکھا نظر آ رہا ہے۔ یہ آرٹیکل ان تمام ظالموں کے لیے ایک سبق ہے کہ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔

دنیا بدل رہی ہے، طاقت کے مراکز منتقل ہو رہے ہیں۔ ایشیا اور یورپ کا امریکہ سے پیچھا چھڑانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اب دنیا مزید کسی کی غلامی قبول کرنے کو تیار نہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے دکھا دیا کہ جب وہ کسی کو ذلیل کرنے پر آئے تو بڑے بڑے بحری بیڑے اور ایٹمی ہتھیار بھی کام نہیں آتے۔

Leave a Reply