اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

شعر نمبر 1

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

رنج راحت فزا نہیں ہوتا

مشکل الفاظ کے معانی:

اثر: تاثر، اثر پذیری

رنج: غم، دکھ

راحت فزا: سکون یا خوشی بڑھانے والا

مفہوم:

میرے دکھ اور آہوں کا محبوب پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور میرا یہ غم میرے لیے خوشی کا باعث نہیں بن رہا۔

تشریح:

اس شعر میں مومن خان مومن نے محبوب کی بے رخی، تغافل اور سنگ دلی کو موضوع بنایا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ میں نے محبت میں اپنے محبوب کو پانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی، آہ و زاری کی اور اپنی فریادیں اس تک پہنچائیں، لیکن افسوس کہ اس کے دل پر میری تڑپ کا ذرا برابر بھی اثر نہیں ہوا۔ عام طور پر محبت میں عاشق کا رنج اس وقت راحت بن جاتا ہے جب محبوب اس کی طرف توجہ دے، لیکن یہاں صورتحال یہ ہے کہ شاعر کا غم مسلسل بڑھ رہا ہے اور اسے اس دکھ میں بھی کوئی سکون نصیب نہیں ہو رہا۔ محبت کرنے والا اپنے خلوص اور سچائی کے ساتھ محبوب کے سامنے اپنی حالتِ زار رکھتا ہے، لیکن سنگ دل محبوب اسے یکسر نظر انداز کر دیتا ہے۔ شاعر کا بیان ہے کہ میری زندگی کی تمام خوشیاں محبوب کی نظرِ کرم سے وابستہ تھیں، مگر محبوب نے گویا قسم کھا رکھی ہے کہ وہ میری التجا پر کان نہیں دھرے گا۔ اسی وجہ سے میری زندگی میں خوشی اور مسرت کا کوئی نشان نہیں ملتا۔ شاعر اپنی اس بے بسی کا اظہار بڑی خوبصورتی سے کرتے ہیں کہ پوری دنیا میرے غم سے واقف ہے مگر وہ ایک شخص جس کے لیے یہ سب کچھ ہے، وہی بے خبر بنا بیٹھا ہے۔

بقول شاعر:

کیا کروں اللہ سب ہیں بے اثر

لب لایا کیا نالہ کیا فریاد کیا

بقول شاعر:

ان لبوں نے مسیحائی نہ کی

ہم نے سو سو طرح سے مر کے دیکھا

شعر نمبر 2

بے وفا کہنے کی شکایت ہے

تو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا

مشکل الفاظ کے معانی:

شکایت: گلہ

وعدہ وفا ہونا: وعدہ پورا کرنا

مفہوم:

تمہیں اس بات پر اعتراض ہے کہ میں تمہیں بے وفا کہتا ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تم اپنا کوئی وعدہ بھی تو پورا نہیں کرتے۔

تشریح:

حسن و عشق کی اس جنگ میں عاشق کو ہمیشہ یہ گلہ رہتا ہے کہ محبوب وفا نہیں کرتا۔ اس شعر میں مومن نے ایک نازک نفسیاتی نکتہ بیان کیا ہے۔ محبوب کو اس بات پر بہت غصہ آتا ہے کہ اسے بے وفا کیوں پکارا گیا، لیکن شاعر اسے آئینہ دکھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر تم گلے شکوے سے بچنا چاہتے ہو تو تمہیں اپنے وعدے پورے کرنے چاہئیں۔ محبوب اکثر وصل کا وعدہ تو کر لیتا ہے لیکن جب وقت آتا ہے تو اسے ٹال دیتا ہے، یہاں تک کہ عاشق مایوسی کی انتہا تک پہنچ جاتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر تم اپنے قول و فعل میں تضاد رکھو گے تو شکایت تو پیدا ہوگی۔ یہ شعر محبت کے رشتے میں پائے جانے والے گلے، شکوے اور ناراضگی کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ شاعر نے اس رشتے کی نزاکت کو بڑی مہارت سے بیان کیا ہے کہ جہاں ایک طرف محبت ہے وہیں دوسری طرف اعتبار کی کمی رشتے کو کمزور کر رہی ہے۔ اگر محبوب چاہتا ہے کہ اس پر بے وفائی کا الزام نہ لگے تو اسے اپنے وعدوں پر قائم رہنا ہوگا۔

بقول شاعر:

تیرے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا

کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

بقول شاعر:

ہماری شرطِ وفا یہی ہے

وفا کرو گے وفا کریں گے

شعر نمبر 3

ذکرِ اغیار سے ہوا معلوم

حرفِ ناصح برا نہیں ہوتا

مشکل الفاظ کے معانی:

ذکرِ اغیار: غیروں یا رقیبوں کا تذکرہ

حرفِ ناصح: نصیحت کرنے والے کی بات

مفہوم:

جب محبوب کی زبان سے غیروں کا تذکرہ سنا تو اندازہ ہوا کہ نصیحت کرنے والے درست ہی کہتے تھے کہ عشق کے راستے میں دکھ ہی دکھ ہیں۔

تشریح:

اردو شاعری میں ناصح (نصیحت کرنے والے) کو عام طور پر ایک ناپسندیدہ کردار سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ عاشق کو عشق سے باز رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ لیکن اس شعر میں مومن نے ناصح کے کردار کے مثبت پہلو کو اجاگر کیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب میرا محبوب میرے سامنے بیٹھ کر میرے رقیبوں اور غیروں کی تعریفیں کرتا ہے، تو مجھے دلی اذیت پہنچتی ہے۔ محبوب کا اپنے عاشق کے سامنے کسی دوسرے کی باتیں کرنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے۔ اس موقع پر شاعر کو وہ تمام نصیحتیں یاد آتی ہیں جو اسے اس عشق میں قدم رکھنے سے پہلے دی گئی تھیں۔ اب اسے احساس ہو رہا ہے کہ ناصح برا نہیں چاہ رہا تھا بلکہ وہ اسے اسی ذلت اور رسوائی سے بچانا چاہتا تھا جو اسے آج جھیلنی پڑ رہی ہے۔ محبوب جب رقیب کا تذکرہ کرتا ہے تو عاشق کا کلیجہ جلتا ہے اور اسے اپنی نادانی کا احساس ہوتا ہے کہ کاش اس نے بروقت ناصح کی بات مان لی ہوتی۔

بقول شاعر:

غیر کا ذکرِ وفا اور ہمارے آگے

داغ اس بات سے جلتا ہے کلیجہ کیسا

شعر نمبر 4

تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے

ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

مشکل الفاظ کے معانی:

ورنہ: نہیں تو

کسی طرح نہ ہوئے: ہر کوشش کے باوجود ساتھ نہ دینا

مفہوم:

دنیا میں ہر ناممکن کام ممکن ہو جاتا ہے، بس ایک تم ہی ہو جو لاکھ کوششوں کے باوجود میرے نہ بن سکے۔

تشریح:

شاعر اپنی قسمت سے شکوہ کناں ہے کہ اللہ کی اس وسیع دنیا میں ہر روز حیرت انگیز واقعات ہوتے ہیں۔ ناممکن کام ممکن بن جاتے ہیں، بیمار شفا پا جاتے ہیں اور بگڑی ہوئی تقدیریں سنور جاتی ہیں۔ لیکن میری بدقسمتی کی انتہا یہ ہے کہ میں نے تمہیں پانے کے لیے ہر جتن کیا، مسجدوں میں دعائیں مانگیں، لوگوں کی طعنے سہے اور رسوائیاں برداشت کیں، مگر تمہارا دل نہ پگھلا۔ شاعر کا کہنا ہے کہ اس نے محبوب کے حصول کے لیے ہر حربہ آزمایا، رو رو کر اللہ سے فریادیں کیں کہ اے باری تعالیٰ! مجھے میرے محبوب سے ملا دے، مگر شاید میرے نصیب میں ہی محرومی لکھی تھی۔ انسان اگر سچے دل سے ڈھونڈے تو اسے خدا بھی مل جاتا ہے، لیکن مومن کے لیے سب سے بڑی ناکامی یہ رہی کہ اسے اپنا محبوب نہ مل سکا۔ یہ شعر انسانی بے بسی اور عشق میں ہونے والی محرومی کا ایک نوحہ ہے، جہاں شاعر تمام دنیاوی کامیابیوں کے باوجود خود کو تنہا اور ہارا ہوا محسوس کرتا ہے۔

بقول شاعر:

ایک محروم چلے میر ہم ہی دنیا سے

ورنہ اوروں کو زمانے نے دیا کیا کیا کچھ

بقول شاعر:

میں نے مانگی تھی یہ مسجدوں میں دعا

میں جسے چاہتا ہوں وہ مجھ کو ملے

جو میرا فرض تھا میں نے پورا کیا

اب خدا ہی نہ چاہے تو میں کیا کروں

شعر نمبر 5

ایک دشمن کے چرخ ہے نہ رہے

تجھ سے یہ اے دعا نہیں ہوتا

مشکل الفاظ کے معانی:

چرخ: آسمان، مراد قسمت یا دشمن

نہ رہے: ختم ہو جائے، تباہ ہو جائے

مفہوم:

اے میری دعا! تو اتنی بے اثر ہے کہ تجھ سے میرا دشمن (آسمان/قسمت) بھی ختم نہیں کیا جا رہا۔

تشریح:

اس شعر میں “چرخ” یعنی آسمان کو گردشِ ایام اور قسمت کی سختی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ کلاسیکی شاعری میں آسمان کو اکثر عاشق کا دشمن قرار دیا جاتا ہے کیونکہ وہی اس کی تقدیر میں جدائی اور دکھ لکھتا ہے۔ شاعر اپنی دعا سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ میں نے اتنی عاجزی سے التجا کی تھی کہ یہ ظالم سماج یا میری بدقسمت تقدیر جو میرے اور محبوب کے درمیان حائل ہے، ختم ہو جائے، لیکن افسوس کہ میری دعا میں وہ تاثیر ہی نہیں کہ وہ اس رکاوٹ کو ہٹا سکے۔ یہ شعر شاعر کی بیزاری اور غصے کو ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح مسلسل ناکامیوں نے اسے مایوس کر دیا ہے۔ وہ اپنی ہی دعا پر طنز کر رہا ہے کہ تو کسی کام کی نہیں کیونکہ تو میرے دشمن کا کچھ نہیں بگاڑ سکی۔ ہجر و فراق کی تکالیف نے شاعر کو اس قدر مضطرب کر دیا ہے کہ اب اسے اپنی فریادیں بھی بے کار معلوم ہوتی ہیں۔

بقول شاعر:

جو بھیجی تھی دعا وہ جا کر آسمان سے یوں ٹکرا گئی

کیا آ گئی ہے لوٹ کے صدا

شعر نمبر 6

تم میرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

مشکل الفاظ کے معانی:

گویا: جیسا کہ، مانو

مفہوم:

جب میں بالکل تنہا ہوتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تم میرے بالکل قریب موجود ہو۔

تشریح:

یہ مومن خان مومن کی غزل کا سب سے مشہور شعر ہے، جس کے بارے میں مرزا غالب نے کہا تھا کہ اگر مومن یہ ایک شعر مجھے دے دیں تو میں اپنا پورا دیوان ان کی نذر کرنے کو تیار ہوں۔ یہ شعر عشق کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک سچے عاشق کے لیے اس کی کل کائنات اس کا محبوب ہوتا ہے۔ جب انسان کسی کے خیال میں مکمل طور پر کھو جائے تو اسے گرد و پیش کی خبر نہیں رہتی۔ شاعر کہتا ہے کہ جب میں اکیلا ہوتا ہوں اور میرے پاس کوئی دوسرا نہیں ہوتا، تو تمہارا تصور اس قدر شدید ہوتا ہے کہ مجھے تمہاری موجودگی کا مادی احساس ہونے لگتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے تم میرے پہلو میں بیٹھے ہو۔ عشق کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ بھری محفل میں بھی عاشق کو محبوب کے خیال میں تنہا کر دیتا ہے اور تنہائی کو یادوں کے ذریعے محفل بنا دیتا ہے۔ اس شعر کو اگر عشقِ حقیقی کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی طرف اشارہ ہے کہ “میں تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں”۔

بقول شاعر:

جب تمہارا خیال آتا ہے

ساری دنیا کو بھول جاتے ہیں

بقول شاعر:

اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے گم ہو جاتا ہوں

اب میں اکثر میں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں

شعر نمبر 7

حالِ دل یار کو لکھوں کیونکر

ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا

مشکل الفاظ کے معانی:

یار: محبوب

جدا ہونا: الگ ہونا

مفہوم:

میں محبوب کو اپنے دل کی حالت کیسے لکھ کر بھیجوں، کیونکہ میرا ہاتھ تو ہر وقت تڑپتے ہوئے دل کو سنبھالنے کے لیے اس پر رکھا رہتا ہے۔

تشریح:

اس شعر میں مومن نے دردِ دل کی شدت کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ جب محبوب کی جدائی میں دل بہت زیادہ تڑپتا ہے اور بے چینی حد سے بڑھ جاتی ہے، تو انسان بے اختیار اپنا ہاتھ سینے پر رکھ لیتا ہے تاکہ اسے کچھ سہارا مل سکے۔ شاعر کہتا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنے محبوب کو خط لکھ کر اپنی حالتِ زار سناؤں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ خط لکھنے کے لیے ہاتھ کا فارغ ہونا ضروری ہے۔ میرا ہاتھ تو ایک پل کے لیے بھی دل سے جدا نہیں ہوتا کیونکہ اگر میں ہاتھ ہٹاؤں گا تو میرا تڑپتا ہوا دل قابو سے باہر ہو جائے گا۔ یہ ایک نہایت لطیف انداز ہے جس میں شاعر نے اپنی بے قراری کو ظاہر کیا ہے کہ وہ اس قدر دکھ میں مبتلا ہے کہ اسے اب اپنے جذبات بیان کرنے کا موقع بھی نہیں مل پا رہا۔ محبوب کے ہجر میں بڑھتی ہوئی یہ بے خودی اسے پیغام رسانی سے بھی قاصر کر چکی ہے۔

شعر نمبر 8

کیوں سنے عرضِ مضطر اے مومن

صنم آخر خدا نہیں ہوتا

مشکل الفاظ کے معانی:

عرضِ مضطر: بے چین دل کی پکار یا فریاد

صنم: بت، محبوب

مفہوم:

اے مومن! محبوب تمہاری بے چین فریادیں کیوں سنے؟ وہ آخر ایک انسان (یا بت) ہی ہے، وہ خدا تو نہیں کہ ہر ایک کی حاجت پوری کرے۔

تشریح:

یہ غزل کا مقطع ہے جس میں مومن نے ایک آفاقی حقیقت اور محبوب کی سنگ دلی کو یکجا کر دیا ہے۔ اردو شاعری میں محبوب کو اکثر “صنم” یا “بت” کہا جاتا ہے کیونکہ بت پتھر کا ہوتا ہے اور اس میں احساس نہیں ہوتا۔ شاعر کہتا ہے کہ کسی کی فریاد سننا، اس کی حالتِ زار پر رحم کھانا اور اس کی دعا قبول کرنا صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ محبوب تو ایک گوشت پوست کا انسان ہے یا پھر ایک بے حس بت، اس کے پاس وہ طاقت ہی نہیں کہ وہ کسی کے دکھوں کا مداوا کر سکے۔ یہاں شاعر خود کو ملامت کر رہا ہے کہ میں نے ایک ایسے شخص سے امیدیں وابستہ کر لی ہیں جو ان کے لائق ہی نہیں۔ یہ شعر توحید کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ انسان کو صرف اللہ سے امید رکھنی چاہیے کیونکہ اس کے علاوہ تمام سہارے عارضی اور کمزور ہیں۔ انسان کی یہ غلط فہمی ہے کہ وہ فانی چیزوں سے خدا جیسی توقعات رکھتا ہے۔

Leave a Reply