اب دل ہے مقام بے کسی کا

اب دل ہے مقام بے کسی کا داغ دہلوی کی یہ غزل سہلِ ممتنع (سادہ مگر مشکل) کا بہترین نمونہ ہے۔ داغ اپنی صفائیِ زبان اور محاورہ بندی کے لیے مشہور ہیں، اور اس غزل میں انہوں نے عشق کے نازک جذبات کو بہت ہی دلنشین انداز میں بیان کیا ہے۔ ذیل میں اس غزل

اب دل ہے مقام بے کسی کا

نہ اب دل ہے مقام بے کسی کا اب دل ہے مقام بے کسی کا یوں گھر نہ تباہ ہو کسی کا کس کس کو مزا ہے عاشقی کا تم نام تو لُو بھلا کسی کا پھر دیکھتے عیش آدمی کا بنتا جو فلک مری خوشی کا گلشن میں ترے لبوں نے گویا رس چوس