تجاہل تغافل تساہل کیا

تجاہل تغافل تساہل کیا شعر نمبر 1 تجاہل، تغافل، تساہل کیا ہوا کام مشکل، توکل کیا مشکل الفاظ کے معانی: تجاہل: جان بوجھ کر انجان بننا، دانستہ بے خبری۔ تغافل: غفلت برتنا، لاپرواہی، بے التفاتی۔ تساہل: سستی کرنا، دیر کرنا، غفلت کرنا۔ توکل: اللہ پر بھروسہ کرنا، معاملے کو اللہ کے سپرد کر دینا۔ مفہوم:

تجاہل تغافل تساہل کیا

تجاہل تغافل تساہل کیا تجاہل تغافل تساہل کیا ہوا کام مشکل توکل کیا نہیں تاب لاتا دل زار اب بہت ہم نے صبر و تحمل کیا زمین غزل ملک سی ہو گئی یہ قطعہ تصرف میں بالکل کیا جنوں تھا نہ مجھ کو نہ چپ رہ سکا کہ زنجیر ٹوٹی تو میں غل کیا نہ