گل کو ہوتا صبا قرار اے کاش
گل کو ہوتا صبا قرار اے کاش گل کو ہوتا صبا قرار اے کاش رہتی ایک آدھ دن بہار اے کاش یہ جو دو آنکھیں مند گئیں میری اس پہ وا ہوتیں ایک بار اے کاش کن نے اپنی مصیبتیں نہ گنیں رکھتے میرے بھی غم شمار اے کاش جان آخر تو جانے والی تھی