یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے ہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتے پیامبر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ کسی حبیب کی یہ بھی ہیں

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ستاروں سے آگے جہاں   اور  بھی ہیں شعر نمبر 1 ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں مفہوم: اسمان پر نظر آنے والے ان گنت ستاروں کے پار بھی بے شمار دنیائیں موجود ہیں، اور اللہ کی محبت و معرفت کے راستے میں ابھی کئی کٹھن آزمائشیں باقی