نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے نظر چرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلے ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظم بست و کشاد کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے نظر چرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلے ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظم بست و کشاد کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور