گل کو ہوتا صبا قرار اے کاش

گل کو ہوتا صبا قرار اے کاش شاعر کا تعارف: میر تقی میر میر تقی میر کو “خدائے سخن” اور “شہنشاہِ غزل” کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری غم، سوز و گداز اور سادگی و پرکاری کا حسین مجموعہ ہے۔ شعر نمبر :1 گل کو ہوتا صبا قرار کاش رہتی اک آدھ دن بہار کاش مشکل

گل کو ہوتا صبا قرار اے کاش

گل کو ہوتا صبا قرار اے کاش گل کو ہوتا صبا قرار اے کاش رہتی ایک آدھ دن بہار اے کاش یہ جو دو آنکھیں مند گئیں میری اس پہ وا ہوتیں ایک بار اے کاش کن نے اپنی مصیبتیں نہ گنیں رکھتے میرے بھی غم شمار اے کاش جان آخر تو جانے والی تھی