کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا

کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا فیڈرل اور پنجاب بورڈ اردو جماعت نہم کی غزل کی تشریح ۔۔۔۔۔۔ شعر  نمبر 1 :  کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا ڈوب جاتا بھی تو موجوں نے ابھارا ہوتا مفہوم : کاش میں نے مشکلات کا سامنا کیا ہوتا، کاش طوفان میں اپنی کشتی کو لے

ن م راشد

کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا شعر نمبر 1:  کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا ڈوب جاتا بھی تو موجوں نے ابھارا ہوتا مفہوم :  کاش میں نے مشکلات کا سامنا کیا ہوتا، کاش طوفان میں اپنی کشتی کو لے جاتا۔ اگر ڈوب بھی جاتا تو لہریں مجھے واپس باہر پھینک دیتیں۔ تشریح