دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا
دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا زخم کے بھرتے تلک ناخن نہ بڑھ جاویں گے کیا بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرماویں گے کیا حضرت ناصح گر آویں دیدہ و دل فرش