یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیں

یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیں شعر نمبر ۱: یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیں دو چار قدم ہم بھی تیرے ساتھ چلے ہیں مفہوم: ہم جیسے بھی ہیں، ہمیں اس بات پر ناز ہے کہ ہم نے اپنی زندگی کے کچھ لمحات اپنے محبوب کی رفاقت

ہے مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی

ہے مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی آج کی اس پوسٹ میں ہم غزل ” ہے مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی” کی تشریح و تفسیر پڑھیں گے ۔ اس غزل کے شاعر حسرت موہانی ہیں ۔ شعر نمبر 1 : ہے مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی اک طرفہ تماشا ہے