بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں
بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں الٰہی ترک الفت پر وہ کیونکر یاد آتے ہیں نہ چھیڑ اے ہم نشیں کیفیت صہبا کے افسانے شراب بے خودی کے مجھ کو ساغر یاد آتے ہیں رہا کرتے ہیں قید ہوش میں اے وائے ناکامی وہ دشت